شارجہ ٹیسٹ ہارنے پر سخت مایوسی ہوئی ہے: مصباح الحق

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو شارجہ ٹیسٹ ہارنے پر سخت مایوسی ہوئی ہے اور ان کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی ٹیم جس مقام پر کھڑی ہے اس صورتحال میں اپنے سے نچلی رینکنگ کی ٹیم سے اپنی ہی کنڈیشنز میں ہارنا انتہائی مایوس کن ہے ۔

ویسٹ انڈیز نے جمعرات کو پاکستان کو سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دی ہے ۔

٭ جیتی ہوئی سیریز کا شکست پر اختتام

شکست کے بعد مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ پاکستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو زیادہ اہمیت نہیں دی اسی لیے پچھلے دو ٹیسٹ میچوں میں بھی اسے مشکل ہوئی اور شارجہ ٹیسٹ میں اس نے بہت زیادہ غلطیاں کر ڈالیں۔

مصباح الحق نے کوچ مکی آرتھر کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ ٹیم کا مشن شارجہ ٹیسٹ سے قبل ہی مکمل ہو چکا تھا تاہم انھوں نے یہ کہا کہ طویل سیریز کھیلنے کی صورت میں کبھی کبھی کھلاڑی ریلیکس ہوجاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیریز پہلے ہی جیت لینے کے باوجود پاکستانی ٹیم شارجہ ٹیسٹ ہر حال میں جیتنا چاہتی تھی کیونکہ اس وقت پاکستانی ٹیم جس پوزیشن پر ہے اس میں ہر ٹیسٹ میچ اس کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن اپنے سے نچلی رینکنگ کی ٹیم سے ہارجانا مایوس کن ہے ۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے دونوں اننگز میں بہت بری بیٹنگ کی اور فیلڈنگ بھی اچھی نہیں تھی اس کے برعکس ویسٹ انڈیز نے نظم و ضبط کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔

مصباح الحق کا بحیثیت کپتان یہ 49 واں ٹیسٹ میچ تھا اور وہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے پاکستانی کپتان بنے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک زیادہ اہمیت ریکارڈ کے بجائے جیت کی ہے ۔

مصباح الحق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم جوں جوں کھیلتی رہے گی اس کی کارکردگی میں بہتری آتی جائے گی۔

پاکستانی فاسٹ بولنگ کے بارے میں مصباح الحق نے کہا کہ یہ کارکردگی اطمینان بخش ہے لیکن اس میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت بھی ہے خاص طور پر آسٹریلیا میں فٹنس کا کردار بہت اہم ہوگا۔

مصباح الحق نے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں سپنرز کو زیادہ اوورز نہ کرانے کے بارے میں کہا کہ اس کا جواب تو گراؤنڈ مین سے پوچھیں کہ پانچویں دن بھی گیند ٹرن نہیں ہو رہی تھی۔

شارجہ ٹیسٹ ہار جانے کے باوجود مصباح الحق کو امید ہے کہ پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں