جیتی ہوئی سیریز کا شکست پر اختتام

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف شارجہ میں کھیلا گیا تیسرا اور آخری ٹیسٹ پانچ وکٹوں سے جیت لیا ہے اور جس جیت کی تلاش تھی وہ اسے دورے کے آخری میچ میں مل گئی۔

شارجہ ٹیسٹ کے پانچویں اور آخری دن ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے صرف 39 رنز درکار تھے اور اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں جو اس نے سات اعشاریہ پانچ اوورز کھیل کر مزید کسی نقصان کے حاصل کر لیے۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پاکستانی بولرز جنہوں نے چوتھے دن ویسٹ انڈیز کی پانچ وکٹیں 67 رنز پر حاصل کرکے میچ کو دلچسپ بنادیا تھا کریگ بریتھ ویٹ اور ڈورچ کو الگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے جن کی 87 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے جیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔

کریگ بریتھ ویٹ جو پہلی اننگز میں 142 رنز بنا کر اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے تھے دوسری اننگز میں بھی پاکستانی بولنگ کے خلاف اعتماد سے کھیلے اور چھ چوکوں کی مدد سے 60 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

شین ڈورچ نے بھی 60 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ ان کی اس اننگز میں سات چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ یہ ان کی چوتھی ٹیسٹ نصف سنچری ہے۔

درحقیقت یہ انھی کی دلیرانہ بیٹنگ تھی جس نے ویسٹ انڈیز کو دباؤ سے نکال کر جیت کی راہ پر ڈالا۔ ڈورچ نے پہلی اننگز میں بھی 47 رنز کی اچھی اننگز کھیلی تھی۔

کریگ بریتھ ویٹ کو ان کی عمدہ بلے بازی پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا جبکہ یاسر شاہ مین آف دی سیریز قرار پائے جنھوں نے سیریز میں 21 وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز کی 14 ٹیسٹ میچوں میں یہ پہلی کامیابی ہے۔ اس نے آخری مرتبہ مئی 2015 میں انگلینڈ کے خلاف برج ٹاؤن میں ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔

جیسن ہولڈر بحیثیت کپتان بارہ ٹیسٹ میچوں میں آٹھ ناکامیاں دیکھنے کے بعد پہلی بار جیت سے ہمکنار ہوئے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کو اس دورے میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے تمام میچوں میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد دبئی اور ابوظہبی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات میں2010 ء سے اپنی ہوم سیریز کھیل رہی ہے اور اس دوران وہ پانچ ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے اور چار سیریز ڈرا ہوئی ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے 2002 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ میں کھیلی گئی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز دو صفر سے جیتی تھی۔

متعلقہ خبریں