فیس بک: مستقبل میں کمپنی کو اشتہارت سے کم منافع کی توقع ہے

فیس بک نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ وہ صارفین کا اعتماد کھونا نہیں چاہتی اس لیے آنے والے چند ماہ میں اشتہارات سے ہونی والی اس کی کمائی میں معنی خیز کمی آسکتی ہے ۔

سوشل میڈیا کی معروف کمپنی فیس بک میں مالی امور کے سربراہ ڈیوڈ وینر کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ٹائم لائن پر اشتہارات لگانے کی بھی ایک حد ہوتی ہے جس کی پاسداری ضروری ہے ۔

اس اعلان کے بعد ہی کمپنی کے حصص میں سات فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے ۔

مسٹر ویہنر نے بدھ کے روز کہا کہ فیس بک پر اشتہارات کم دینے کی توقع ہے جس کی وجہ سے سنہ 2017 میں اشتہارات سے ہونے والی آمدن میں معنی خیز کمی واقع ہونے کی توقع ہے ۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گيا ہے جب فیس بک نے جولائی اور ستمبر کے مہینے میں دو ارب 40 کروڑ ڈالر کا منفع کمانے کی بات کہی ہے ۔ یہ منافع گذشتہ برس کی اس مدت کے مقابلے میں 166 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔

فیس بک کی بیشتر آمدن اور یہ منافع سائٹ پر اشتہارات سے حاصل ہوا ہے اور اس میں بھی موبائل فون پر اس کا تقریباً 84 فیصد حصہ ہے ۔

فیس بک کے بانی مارک ذکر برگ نے اس مدت کے منافع کو ایک اور اچھی سہ ماہی سے تعبیر کیا ہے ۔

دنیا میں تقریباً ایک ارب ایک کروڑ لوگ اپنے موبائل فون پر فیس بک کے لیے لاگ ان کرتے ہیں جبکہ ایک برس قبل یہ تعداد 89 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آمدن کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کمپنی سرمایہ کاری کے دوسرے طریقوں پر غور کر سکتی ہے ۔

ایڈ ورڈ جانز سے وابستہ مبصر جوش اولسن کا کہنا تھا کہ کمپنی کم اشتہارات دینے کے باوجود بھی، اشتہار دینے والوں سے زیادہ پیسے لے کر اور نئے گاہکوں کو شامل کرکے، وہ اچھا پیسہ کما سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں