کیا صرف ٹرافی ہی کافی ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخلاقی اقدار، روپے کی قیمت اور پاکستانی بیٹنگ کا معیار ہمیشہ ہی زوال پذیر رہتے ہیں لیکن کبھی کبھی پاکستانی بیٹنگ ایسے معجزات دکھاتی ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے یکسر معذور ہو جاتی ہے۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

ایسے موقعوں پر کامن سینس گڑبڑا جاتی ہے کہ کیا یہ وہی بیٹسمین ہیں جو گذشتہ چھ سال سے اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ ٹیم یو اے ای میں آل آؤٹ ہوئی ہو۔

ٹیسٹ ہارنے پر مصباح الحق ’سخت مایوس‘

جیتی ہوئی سیریز کا شکست پر اختتام

ویسٹ انڈیز کی ٹیم ڈگمگا کر سنبھل گئی، جیت سے 39 رنز دور

بزرگوں کا ساتھ چھوٹتے ہی کشتی ڈولنے نہ لگے!

عموما پانچ چھ وکٹوں کے نقصان پہ یہ اتنا سکور کر لیتے ہیں کہ مصباح کو اننگز ڈیکلیئر کرنا پڑتی ہے لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف اس سیریز کی چھ اننگز میں یہی بیٹنگ لائن تین بار 300 سے کم رنز پر آل آؤٹ ہوئی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں تو صرف 123 رنز پر آل آؤٹ ہونے کا شرف بھی حاصل کیا ۔

مصباح کو اس بات پر کوئی یوم تفکر منانا چاہیے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ یو اے ای میں ناقابل شکست ٹیم آٹھویں نمبر کی ٹیم سے ٹیسٹ میچ ہار گئی؟

پچھلے ٹیسٹ ایک مفروضے پر بات ہوئی تھی کہ اگر مصباح اور یونس ٹیم کو دستیاب نہ ہوں اور واحد میچ وننگ بولر یاسر بھی فارم میں نہ ہوں تو کیا یہ ٹیم ویسٹ انڈیز سے جیت سکتی ہے؟

شارجہ ٹیسٹ نے ہمارے اس مفروضے کا خاصا تسلی بخش جواب دیا ہے۔

مصباح اور یونس نے مجموعی طور پہ پورے میچ میں 108 رنز کیے اور پاکستان کا دونوں اننگز میں مجموعی سکور 489 رہا۔ عموماً اتنے رنز ہم ایک اننگ میں پانچ یا چھ وکٹوں کے نقصان پر کر لیتے ہیں کجا یہ کہ اس کے لیے 20 وکٹیں گنوا دی جائیں۔

بولنگ میں دیکھئے تو مین آف دی سیریز قرار دیے جانے والے یاسر شاہ نے شارجہ کی پہلی اننگز میں ایک اور دوسری اننگز میں تین کھلاڑی آوٹ کیے۔ شارجہ کی وکٹ سے انھیں اتنا ٹرن نہیں ملا جتنی امید تھی اسی لیے وہ بھی میچ وننگ پرفارمنس نہیں دے پائے۔

اس کے برعکس ویسٹ انڈیز کو دیکھا جائے تو بشو، ہولڈر اور بریتھ ویٹ تینوں نے میچ وننگ پرفارمنس دکھائی۔

کسی بھی ٹیم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس میں کتنے میچ وننگ کھلاڑی ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے پاس شاید ایک بھی میچ وننگ کھلاڑی نہیں تھا لیکن سیریز کے دوران کچھ لڑکوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ تن تنہا ٹیسٹ میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

براوو نے پہلے میچ میں یہ کر کے دکھایا۔ بریتھ ویٹ نے شارجہ ٹیسٹ جیت کر ثابت کیا اور ہولڈر نے اپنی اوسط بولنگ کے باوجود پانچ وکٹیں لے کر یہ ثابت کیا ۔

پاکستان کے لیے صرف ایک ہی چیلنج تھا۔ اگر ہمارے دو بڑے بیٹسمین اور ایک بڑا بولر پرفارم نہیں کر پاتے تو کیا باقی ٹیم میں اتنا دم خم ہے کہ وہ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح جیت جائے؟

سو اگر دیکھا جائے تو ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی نسبت اس سیریز میں زیادہ سیکھا ہے۔

پاکستان نے ٹرافی تو جیتی ہے مگر شاید سیکھا کچھ نہیں۔

پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 123 رنز پر آل آؤٹ ہونا ایک سنگین وارننگ تھی مگر آخری ٹیسٹ کی آخری اننگز تک کہیں نظر نہیں آیا کہ ہم نے اس وارننگ سے کچھ سیکھا بھی ہو۔

جیت کے نقصانات یہ ہوتے ہیں کہ سبھی خامیاں چھپ جاتی ہیں اور ہار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی خامی چھپ نہیں پاتی۔ خواہ وہ مصباح کا سلپ میں کھڑے ہونے کا غلط فیصلہ ہو یا سرفراز اور اظہر کا اچھی شراکت قائم کرنے کے بعد یوں آسانی سے یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو جانا۔ بیٹنگ ہو، بولنگ ہو یا فیلڈنگ، تینوں میں مسائل دکھائی دیے۔

بیٹنگ کے مسائل تو تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک بیٹنگ آرڈر سیٹ نہیں ہو جاتا۔

اظہر علی ٹیسٹ اوپنر نہیں ہیں۔ پاکستان کو سمیع اسلم کے ساتھ ایک ریگولر اوپنر لازمی چاہیے۔ اسد شفیق ون ڈاؤن پوزیشن پر اپنے پوٹینشل کا ٹھیک اظہار نہیں کر پائے۔

اگرچہ محمد یوسف ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ اسد شفیق کو ون ڈاؤن پوزیشن پر کھلایا جائے مگر ون ڈاؤن پر پروموشن کے بعد ابھی تک اسد صرف ایک سینچری کر پائے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس پوزیشن پر کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی۔

سرفراز ہمیشہ اچھا آغاز کرتے ہیں لیکن 50 کے اوپر نیچے پہنچتے ہی جلد بازی میں آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ انھوں نے خود کو اس ٹیم کے لیے ناگزیر ثابت کر لیا ہو؟

اس ٹیسٹ کو دیکھا جائے تو پاکستان کی بولنگ میں بھی ڈسپلن کی کمی نظر آئی جو تھکاوٹ کا لازمی نتیجہ ہوتی ہے۔ آپ کے بیٹسمین کریز پر جتنا کم ٹھہرتے ہیں اتنا ہی آپ کے بولروں کو زیادہ بھاگنا پڑتا ہے۔ فیلڈنگ تو خیر کبھی بھی مثالی نہیں رہی لیکن جب مصباح اور یونس جیسے فیلڈر بھی سلپ میں آسان کیچ ڈراپ کرنے لگیں تو کیا کسی سے گلہ کرے کوئی۔

یہ ایک آسان سیریز تھی اور پاکستان سے توقع یہی تھی کہ کلین سویپ کرے گا مگر یہ تاریخی موقع بھی ہماری بیٹنگ نے اپنی شہرت کی لاج رکھتے ہوئے گنوا دیا۔

امید یہی ہے کہ دو ہفتے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ہم اپنی ان غلطیوں سے کچھ سیکھ کر میدان میں اتریں گے۔

متعلقہ خبریں