پاک افغان قیادت کا تازہ رابطہ

پاک افغان قیادت کا تازہ رابطہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ٹاسک ٹیمیں بنانے پر اتفاق خوش آئند امر ہے۔جنرل قمر باجوہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے کہا کہ اسلام آباد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں افغانستان کی مدد کے لیے تیار ہے جو دونوں کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔جاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے ماضی کو بھلا کربہترمستقبل کے لیے سخت محنت کرنے اورپاک-افغان تعاون کیلئے ٹاسک ٹیمیں بنانے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ جنرل باجوہ کا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان سے کسی اعلی شخصیت کا پہلا دورہ ہے۔اس امر کا امکان ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کی افغان سیاسی اور عسکری قیادت سے روابط کے پیچھے امریکہ کی حمایت شامل ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کیساتھ مذاکرات کرنے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے پاس یہ مذاکرات کا بڑا موقع ہے جس میں ناکامی کے باعث پاکستان کو بڑی قیمت ادا کرنا ہو گی۔افغان صدر نے امریکہ میں ہی کونسل آن فارن ریلیشنز میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے پہلے سویلین صدر ہیں جنہوں نے اقتدار میں آنے کے چند ہفتوں بعد ہی پاکستان میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں فوجی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ افغان صدر اشرف غنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد اس دورے کی اہمیت اس بناء پر بھی زیادہ ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل مارچ 2016 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کابل کا اس وقت دورہ کیا تھا جب افغانستان میں موجود ریزولوٹ سپورٹ مشن کی کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی تھی۔ جس کے بعد رواں برس مزار شریف پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی بری فوج کے چیف آف جنرل سٹاف اور پھر فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے کابل میں اعلیٰ امریکی اور افغان قیادت سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے کابل دورے کے دوران افغان قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جبکہ رواں برس جولائی میں افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن پاکستان آئے تھے۔ تاہم افغانستان کی سیاسی یا عسکری قیادت نے ماضی قریب میں پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔محولہ تفصیلی صورتحال اور دوروں سے اس امر کاواضح اظہار ہوتاہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معاملات کی بہتری اور قیام امن کے لئے ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔ پاکستانی قیادت نے کبھی بھی افغانستان کے دورے سے انکار نہیں کیا لیکن کابل اس ضمن میں عدم تعاون اور انکار کا ریکارڈ رکھتا ہے مستزاد افغان قیادت موقع ملنے پر پاکستان کے خلاف الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتی۔ بہر حال اس پس منظر کے باوجود اگر دونوں ممالک کے درمیان معاملات کی بہتری کے لئے تعاون پر اتفاق ہوتا ہے تو یہ احسن قدم ہوگا گوکہ دونوں ممالک کے درمیان معاملت میں کسی تیسرے ملک کا دخیل ہونا یا اس کی مرضی و مشاورت کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے لیکن اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے بھی دونوں ممالک کے درمیان ملاقات' مذاکرات اور دیگر اقدامات کی حمایت اس لئے اہمیت کی حامل ہوگی کہ امریکہ بھی ایک طرح سے افغانستان کا ایک ایسا اتحادی ملک ہے جس کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں اورجن کے مفادات افغانستان کے معدنیات سے استفادے سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کی قیادت اگر باہم اختلافات اور تضادات کی فضا کو دور کرکے اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تبھی بہتری متوقع ہے اور بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کی بار بار افغان صدر سے ملاقات کا عمل اس وقت تک یکطرفہ گردانا جائے گا جب تک افغان صدر اشرف غنی بھی پاکستان کا دورہ کرکے خیر سگالی کے جذبات کاعملی اظہار نہیں کرتے۔ امریکہ اور اقوام عالم کو بھی اس امر کی جانب متوجہ ہوجانا چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مصالحت پر مبنی کردار ادا کریں اور ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک کے موقف کے لئے جگہ پیدا کی جائے اور اختلافات و تضادات کا خاتمہ کیا جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حالیہ ملاقات کے بعد معاملات میں بہتری نظر آئے گی اور دونوں ممالک ماضی کے برعکس رویے اور اقدامات اختیار کرکے دوریوں کو قربتوں میں بدل دیں گے اور اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔ افغان حکام بھی پاکستان سے معاملات کی بہتری کے لئے بھارت کو ترجیحی ملک قرار دینے اور ان کے مفادات کو پاکستانی مفادات پر مقدم رکھنے کے رویے پر نظر ثانی کریں گے تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو جبکہ پاکستانی قیادت سے بھی اس امر کی توقع ہے کہ وہ بھی معاملات کو سلجھانے کے لئے افغانستان کے تحفظات دور کرنے میں فراخدلی سے کام لے گی۔

متعلقہ خبریں