عاشورہ محرم کی پر امن رخصتی

عاشورہ محرم کی پر امن رخصتی

ملک بھر میں محرم الحرام کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ کا نہ ہونا اور عاشورہ کے جلوسوں کا ملک بھر میں پر امن طور پر اختتام پذیر ہونا اس امر پر دال ہے کہ وطن عزیز میں نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بھی خوشگوار اضافہ ہوا ہے۔ محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی کی ضرورت سے زیادہ سخت اقدامات میں شہریوں کو محصور کرنا اور ان کی آمد و رفت کو ناممکن بنانے کا پولیس کا رویہ سوہان روح بن چکا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ سال قبل ہی محرم الحرام کی آمد پر پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ شہری بھی جس خوف کاشکار ہوتے تھے اس دور سے نکل آنا اور اب پر امن طور پر محرم الحرام کے جلوسوں کا انعقاد و اختتام اطمینان کا حامل لمحہ ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کے خطرات کے علاوہ محرم الحرام میں فرقہ وارانہ تصادم کے خطرات اور حملوں تک نوبت آجانا ایک بڑا اور سنگین مسئلہ چلا آرہا تھا۔ اس صورتحال پر قابو پانا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیداکرنے میں علمائے کرام نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا کا کردار بھی یکساں اہمیت کاحامل رہا۔ تعلیم کی شرح میں اضافہ بھی ایک عامل ہے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں اسلحہ کے خلاف مہم اور صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کا سلسلہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ قرار پاتا ہے دیگر اقدامات اور کرداروں کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ بہر حال من حیث المجموع یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے محرم الحرام کے دنوں میں کشیدگی میں کمی دیکھی گئی ہے جسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام کے درمیان مکالمہ اور رواداری کے ساتھ ساتھ اس امر کی سعی کی ضرورت ہے کہ جتنا ہوسکے اختلافی مسائل پر کھلے عام گفتگو سے گریز کیا جائے۔ مساجد اور امام بار گاہوں میں ایسے موضوعات جو معاشرتی ہم آہنگی اور پر امن معاشرے کے قیام کی بنیاد ہوں اس پر زور دیا جائے۔
ارکان پارلیمنٹ کی ہٹ دھرمی
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت کے باوجود مالی اثاثے جمع کرانے کی مقررہ مدت کے اندر بعض چیدہ چیدہ سیاستدانوں اور اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانا ایک آئینی ادارے کی آئینی ضرورت کو پوری نہ کرنا ہی نہیں بلکہ اس کا مذاق اڑانا بھی ہے۔ الیکشن کمیشن کو بالآخر اس طرح کے عناصر کے خلاف رکنیت کی معطلی کا اقدام کرنا پڑتا ہے جو کوئی خوشگوار صورت نہیں بلکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کے مصداق معاملہ ہے۔ سیاستدان اور عوامی نمائندے ملک و قوم کے ایسے افراد سمجھے جاتے ہیں جن کی معاشرہ تقلید کرتا ہے۔ یہی عناصر قانون سازی بھی کرتے ہیں اگر از خود ان کا رویہ ایسا ہوگا تو باقی سے کیا توقع رکھی جائے۔ سیاستدانوں اور منتخب نمائندوں کو عوام کے لئے مثال بننا چاہئے اور اپنے قول و فعل سے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ اس کے اہل ہیں۔ الیکشن کمیشن میں تفصیلات نہ دینے کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ ان کی دستاویزات جب سامنے آتی ہیں تو ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ ایک قانونی ضرورت پوری کرنے سے احتراز برتتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے سرتابی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت کچھ عرصے کے لئے معطل رکھی جاسکے۔
ڈینگی کا پھیلائو
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈینگی پر قابو پانے کی کوششوں کی کامیابی کی بجائے ڈینگی کا پھیلائو اور اموات میں اضافہ حکومتی اقدامات کی ناکامی پر دال ہے۔ تحریک انصاف کے ایک رہنما کا ایک سوال کے جواب میں اس امر کا اظہار کہ سردی آنے پر ہی ڈینگی کا خاتمہ ہوگا عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے اور اپنی ذمہ داریوں سے احتراز کے مترادف ہے۔ ابتداء میں ایک آدھ مرتبہ سپرے کے بعد سے متعلقہ محکموں کی خاموشی اور صفائی کے عملے کی حسب دستور عدم دلچسپی اور خاص طور پر گھروں سے پانی کے گلیوں میں آنے اور جوہڑ بن جانے کا نوٹسً نہ لیا جانا خطرناک صورتحال کا باعث بن رہا ہے۔ حیات آباد میں پی ٹی اے کے حکام بار بار توجہ دلانے کے باوجود بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں جس کے باعث حیات آباد کا بھی ڈینگی کی وباء کی زد میں آنے کا امکان ہے۔ متعلقہ حکام کو ڈینگی پر قابو پانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لانے میں تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں