اثاثوں سے بوجھ تک

اثاثوں سے بوجھ تک

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکہ میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک ،حافظ سعیداور لشکر طیبہ بوجھ ہیں ان سے جان چھڑانے کے لئے وقت درکار ہے۔ان کاکہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کے خلاف مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔خواجہ آصف پہلے ہی کئی بار گھر کی صفائی کی بات کر کے ایک بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد ڈان لیکس اب قطعی بے معنی ہو چکی ہے ۔یہ وہ تنازعہ تھا جس میں وزیر اعظم ہائوس سے کم وبیش اسی نفس مضمون کی حامل خبر انگریزی اخبار کو جاری ہوئی تھی اور ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسے غیر ملکی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش قرار دیا تھا ۔اس خبر میں بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی سویلین حکمران ان سب عناصر کو بوجھ سمجھ کر پٹخنے کو تیار ہیں جنہیں امریکہ اور مغرب بوجھ قرار دے رہا ہے مگر پاکستان کی فوج انہیں اثاثہ سمجھ رہی ہے ۔یہ خبر حکومت اور فوج کے تعلقات میں تنائو بڑھانے کا باعث بنی تھی اور اب بھی یہ قصہ ختم نہیں ہوا ۔مریم نواز اور ان کا میڈیا سیل حکومتی جھولے میں جھول تو رہا تھا مگر اس کی سرکاری حیثیت نہیں تھی ۔اب امریکہ میں اوربین الاقوامی میڈیا کے سامنے ڈان لیکس کی بنیاد بننے والی سوچ کو خواجہ آصف نے بطور آگے بڑھایا۔خواجہ آصف کی طرف سے حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو بوجھ قرار دینے کی بات اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس بھارت کے دورے پر تھے اور خبروں کے مطابق انہوں نے بھارتی حکومت کو افغانستان میں اپنا کردار کم کرنے اور تحریک طالبان اور جماعت الاحرار جیسی تنظیموں سے اپنے روابط محدود کرنے کو کہا تھا مگر ساتھ ہی یہ رپورٹس بھی آئیں کہ بھارت کی طرف سے امریکہ کو اس معاملے میں ٹکا سا جواب دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ اس معاملے میں مزید دبائو نہ ڈالے کیونکہ تحریک طالبان اور جماعت الاحرار جیسی تنظیمیں افغانستان میں پاکستان کے خلاف اس کا اثاثہ ہیں اور ان کی حمایت کی بدولت ہی بھارت کو طالبان کے ایک اہم حصے تک رسائی بھی ہے اور وہ افغانستان میں پاکستان کا مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں باقاعدہ فوج بھیجنے سے بھی صاف انکار کیا ہے ۔پاکستان نے امریکہ پر یہ بات واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار محدود ہوئے بغیر پاکستان یک طرفہ طور پر اپنے ''اثاثوں ''سے دستبردارنہیں ہو سکتا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے مجبور ہو کر بھارت کو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں کمی لانے کے منصوبے پر کام شرو ع کیا ہے ۔خود افغانستان میں یہ سوچ جڑ پکڑ رہی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں توازن نہ رکھ کر غلطی کی ہے ۔اس بات کا اظہار چند دن قبل افغانستان میں پاکستان کے سفیر نے بھی کیا تھا ۔خطے میں پھیلی ہوئی کشیدگی کو حل کرنے کے لئے چار فریقوں کا کردار بہت اہم ہے ۔ان میں دو فریق امریکہ اور چین ہیں جبکہ دوسرے دو فریق پاکستان اور بھارت ہیں ۔یہ تمام فریق خطے کو پرامن بنانے کے ایک نکتے پر متفق ہوں گے تو پراکسی جنگوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت عیاں ہو رہی ہے کہ ہر فریق کے اپنے اپنے اثاثے ہیں جو دوسرے فریق کے لئے بوجھ ہیں ۔اثاثوں اور بوجھ کی کسی ایک تشریح پر متفق ہونے کے بعدخطے میں امن کی حقیقی صبح طلوع ہو سکتی ہے ۔

قارئین مشرق کے کچھ مسائل اور مراسلے
ڈھائی عشرے سے کچھ زیادہ ہی مدت کے صحافتی تجربے اور مختلف اخبارات وجرائد کے ساتھ وابستگی کے سفرمیں مشرق اور خیبر پختون خوا کے قارئین کا سیاسی شعور سب سے زیادہ بلند پایا ہے۔مشرق کے قارئین لکھے ہوئے لفظوں کی اہمیت کو سمجھتے بھی ہیں اور ان لفظوں کو اہمیت دے کر اپنی رائے بھی دیتے ہیں ۔ اب چونکہ تواتر سے ای میلز آرہی ہیں جن میں کچھ مسائل بیان کئے جاتے ہیں اس لئے ان مسائل کا تذکرہ کرنا قارئین کا حق سمجھتا ہوں ۔ایک ای میل آل آئی ٹی ٹیچرزاینڈلیب انچارج ایسوسی ایشن کی طرف سے ہے جس کا تعلق کئی گھرانوں کے چولھوں اور روزی روٹی سے ہے ۔اس ایک میل میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیمی اداروں میں1500 آئی ٹی لیبزقائم کی تھیں ۔لیبز کے لئے2000نئے ملازمین بھرتی کئے گئے تھے ۔30جون سے صوبائی حکومت نے ان ملازمین کے کنٹریکٹ ختم کر دئیے ۔اب کئی ماہ سے یہ ملازمین بلا تنخواہ کام کر رہے ہیں ۔ ملازمین کا جائز مطالبہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت یا تو ان ملازمین کے کنٹریکٹ بحال کرے یا پھر انہیں اسمبلی کے ذریعے ریگولر کرے۔ایک افسوسناک مگرچونکا دینے والی ای میل بوساطت صمد خان بلوچستان پولیس کی طرف سے آئی ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ تینوں صوبوں میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے مگر بلوچستان پولیس کو اس قابل نہیں سمجھا گیا ۔حتیٰ کہ بلوچستان حکومت نے سول ملازمین کو اپ گریڈ کیا مگر پولیس اس نظر کرم سے محروم رہی۔یہ پولیس اہلکار سردی گرمی کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردی کے خطرات کی زد میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں مگر نہ تو پولیس کالونی کی سہولت رکھتے ہیں نہ تنخواہوں میں اضافے کی پالیسی کا ان پر اطلاق ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں میڈیکل کی سہولت حاصل ہے ۔بلوچستان جیسے حساس صوبے میں پولیس کے ساتھ یہ ''حسن سلوک'' قطعی ناقابل فہم ہے۔جندولہ ٹانک سے میر سلام بیٹنی اور سجاد علی اپنا فیڈ بیک ضرور دیتے ہیں جبکہ مالاکنڈ سے سردار محمد ہر کالم پر اپنا تبصرہ ہی نہیں کرتے بلکہ موضوعات بھی تجویز کرتے ہیں۔ضیاء الرحمان ضیا نے سوا سیر کا یہ نکتہ اُٹھایا ہے کہ میں نے ن لیگ کوپیپلزپارٹی کے مقابلے کے نظریہ ضرورت کی پیداوارلکھا ہے اور کیا یہی تشریح پی ٹی آئی پر لاگو نہیں ہوتی ؟بات سو فیصد درست ہے اور پی ٹی آئی تو فی الحال اس تاثر کی نفی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ ابھی اس تصور کا نقصان نہیں فائدہ ہی فائدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں