محنت رائیگاں نہیں جاتی

محنت رائیگاں نہیں جاتی

جدوجہد شرط ہے۔ شعبہ اور میدان ثانوی باتیں ہیں۔ عموماً ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم کا شعبہ ہی ترقی کا زینہ ہے اور عام لوگوں کے پاس اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اور ذریعہ نہیں۔ میرا اس سے کلی اتفاق نہیں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بچوں کی بہتر تعلیم پر آنے والے اخراجات سرمایہ کاری کی بہترین قسم ہے۔ بہر حال ہر مکتبہ فکر کو اپنی سوچ اور سمجھ کے اظہار کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ میرے تئیں محولہ دانش سے یکسر اتفاق اگر ممکن نہیں تو یکسر عدم اتفاق بھی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ مجھے اختلاف نہیں مگر میرے نزدیک صرف تعلیم کا میدان ہی ضروری نہیں بعض بلکہ بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے' بعض بچے مروجہ تعلیم حاصل کرنے کا ذہن نہیں رکھتے جن کے ماں باپ آکسفورڈ کی تعلیم کا خرچہ با آسانی اٹھا سکتے ہیں ان کے بچوں کو عام پبلک سکولوں سے بار بار فیل ہونے پر خارج کردیا جاتا ہے۔ قسم قسم کی مشکلات و مجبوریاں آڑے آتی ہیں مگر ہماری ذہنیت اس طرح کی بن چکی ہے کہ بچہ خواہ مخواہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے۔ یہ نہ ہو تو آرمی میں کمیشن لے' اور کسی شعبے کی طرف ہم دیکھتے ہی نہیں مگر نہ یہ ممکن ہے اور نہ ہی قانون قدرت کہ بچہ ان دو شعبوں میں یا پھر سبھی فوجی بنیں۔ اس طرح کرکے کیا ہم خود ہی اپنے بچوں کو محدود کم ہمت اور مایوس کرنے کا سامان اپنے ہاتھوں نہیں کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں تو جواب اثبات میں ہے۔ دنیا ا ن تین شعبوں کے گرد نہیں گھومتی بلکہ بڑی وسیع اور پھیلی ہوئی ہے۔ میٹرک اور ایف ایس سی میں نمبر کم آئیں تو رزق کے دروازے بند نہیں ہوتے اور نہ ہی بچے کا مستقبل دائو پر لگ چکا البتہ اس سٹیج پر بچے کی تعلیمی قابلیت شغف اور شوق دیکھ کر ایک فیصلہ کرنے اور ایک راہ متعین کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آج کل ایسے تکنیکی شعبوں کی بھرمار ہے جس میں ڈپلومہ کرکے آسانی سے حصول روزگار ممکن ہے۔ مرچنٹ نیوی ہویا ائیر فورس کے بعض شعبے سبھی کچھ ایف ایس سی کے بعد مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ تو محض مثال تھی بے شمار اور لا تعداد شعبے ایسے ہیں جس میں ایف ایس سی کے بعد جا کر آن جاب تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے اور تکنیکی مہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔ بس شرط محنت اور لگن ہے۔ جو لوگ محولہ کچھ بھی نہ کر پائیں محروم وہ بھی نہیں رہتے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کیا جاسکتا ہے۔ پرائیویٹ کام سیکھ کر ان شعبوں سے وابستگی کرکے کاروبار اور روز گار دونوں ممکن ہیں۔ بس جس شعبے میں جائیں محنت اور لگن کے ساتھ اس سے منسلک ہوں اور جدت خیالات سے اس شعبے میں ندرت پیدا کریں۔ میں آپ کو ایک کباڑی کی حقیقی کہانی بتاتا ہوں کہ اس نے کیسے اور کہاں سے شروع کرکے آج کہاں اور کس مقام کو پالیا ہے۔ نام اس کا باطن ہے معلوم نہیں ان کے والدین نے ان کا نام باطن کیوں رکھا لیکن باطن کا ظاہر تو بہت شاندار اور صاف ستھرا نظر آتا ہے۔ باطن کا باطن کو پتہ۔ باطن چھوٹا بچہ تھا وہ کباڑ اکٹھا کرتا اور بیچتا۔ ہوشیار باطن اپنی محنت سے اکٹھی کی گئی اشیاء کا ملنے والی قیمت سے موازنہ کرتا تو بہت کم نظر آتا دوسری جانب کباڑ کے دکانداروں کو خوشحال دیکھتا۔ وہ مشاہدہ کرتا کہ دکاندار جمع شدہ کباڑ کی چھانٹی کرواتا اور بعض چیزوں کے پرزے وغیرہ نکال کر الگ بیچتا۔ ان کی دیکھا دیکھی باطن نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کیا تو ان کو اچھا منافع ملنے لگا۔ وقت گزرتا گیا تو باطن یونیورسٹی ٹائون کے پاس ہی اپنے ایک عزیز کی دکان میں بیٹھنے لگا اور شاگردوں کو ہتھ گاڑی لے کردے دی۔وہ کباڑ جمع کرتے اور شام کو اس کی دکان لا کے بیچ دیتے۔ انہوں نے ایک بڑا ترازو دکان کے باہر نصب کیا ۔باطن چونکہ سمجھدار تھا انہوں نے محنت کرکے اپنے کام کو وسعت دی۔ خاص کر پرانا فرنیچر اور بجلی کا استعمال شدہ سامان اکٹھا ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ باطن کے شاگرد بھی بڑھنے لگے اور ہر شام ان کی اس کوٹھڑی میں بڑی رونق لگتی۔ وہ سب وہیں سوتے' کھاتے او صبح دم کباڑ اکٹھا کرنے نکل پڑتے۔ باطن نے ان استعمال شدہ چیزوں کے کاروبار سے اتنا منافع کمایا کہ قریب ہی ایک ڈاکٹر صاحب کے گھر کا تہہ خانہ کرایے پر لیا اور اسے اپنا گودام بنا لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ باطن نے اپنی دکان میں نیا فرنیچر بھی رکھنا شروع کیا۔ نئی دکان بھی کرائے پر لے لی۔ اپنی ذہانت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے اسے اتنا منافع ہوا کہ قریب ایک اور مارکیٹ میںتین دکانیں خرید لیں اور یوں باطن کا کاروبار دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرتا گیا۔ آج باطن کا فرنیچر کا اپنا کاروبار ہے۔ ٹائون میں ان کی تین دکانیں اور پشاور کے مختلف علاقوں جیسے کہ رنگ روڈ پر اس کے گودام واقع ہیں اور اچھی خاصی پراپرٹی بھی خرید چکا ہے۔

ہمت و جستجوئے مسلسل ہو' دیانت ایمانداری اور اچھا اخلاق کامیابی کا وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر منزل تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ دیر لگے بھی تو کامیابی سو فیصد یقینی ہوتی ہے۔ ہمارے آج کے نوجوانوں کی خامی ہی یہ ہے کہ وہ جی چراتے ہیں ان کو شارٹ کٹ کی تلاش رہتی ہے۔ راستے میں مشکلات آئیں تو بد دل ہونے لگتے ہیں۔ باطن کباڑی ہو یا کوئی اور کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ کامیابی کی منزل طویل کٹھن اور دشوار ہوتی ہے۔ یہ صبر اور جدوجہد پر یقین رکھنے والوں ہی کے حصے میں آتی ہے۔

متعلقہ خبریں