تحریک انصاف کانابینا شیدائی

تحریک انصاف کانابینا شیدائی

تعلیم کا حصول نابینا برادری کے لئے روز اول سے ایک مشکل کام تھا ۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے فرانس کے لوئیس بریل نے آج سے لگ بھگ دو سو سال پہلے ایک زبان ایجاد کی جسے بریل لینگویج کہا جاتا ہے۔یہ ایک مکمل زبان ہے جوابھرے ہوئے حروف پر مشتمل ہے۔ایک موٹے کاغذ پر مخصوص پرنٹنگ مشین سے طباعت کی جاتی ہے اور بریل زبان سے آشنا دنیا کا کوئی بھی نابینا اسے انگلیوں کی پوروں کی مدد سے لفظوں کو شناخت کر کے پڑھ سکتا ہے۔پوری دنیا میں نابینائوں کے لئے ٹیکسٹ بکس کا سلیبس اسی بریل زبان میں تشکیل دیا جاتا ہے اور نابینا افراد بھی نارمل لوگوں کی طرح گریجویشن،پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور کئی اہم عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں۔ مجھے یہ تمام معلومات راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا شخص حافظ ہارون رشید سے ملیں جس نے برسوں کی محنت سے پہلے اس زبان کو سیکھا اور پھر قرآن مجید کو اس زبان میں کمپیوٹر پر ٹائپ کر کے اللہ کی اس محبوب ترین کتاب کی نہ صرف اشاعت کی بلکہ اسے اپنی نابینا برادری میں تقسیم بھی کیا۔صرف یہی نہیںبریل زبان میں ہی عربی قرآن کا انگلش اور اردو ترجمہ بھی کیا۔اس نابینا شخص کے تین اور بھائی بھی نابینا ہیںلیکن اللہ نے اس بڑے کام کے لئے اس کا انتخاب کیاجس پر وہ خدا کا شکر بجا لاتا ہے۔اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کی اس کاوش پر مفتی تقی عثمانی جیسے جید عالم دین نے اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس کامیابی کو قرآن کی بہت بڑی خدمت قرار دیا۔سچ تو یہ ہے کہ اگر پاکستان میںمحنت کا صلہ ملنے کی روایت ہوتی تو اسے صدارتی تمغہ امتیاز سے نوازا جاتا،حسن کارکردگی کا میڈل پیش کیا جاتا لیکن وائے افسوس کہ حکومتی سطح پر اس کے اس کارعظیم کا نہ تو نوٹس لیا گیا اور نہ ہی اسے وہ مقام دیا گیا جس کا وہ مستحق ہے۔اس کی بجائے ہر سال جن لاڈلوں کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دیا جاتا ہے ان کے مقابلے میں اگر اس نابینا شخص کی برسوں کی محنت اور عرق ریزی کو دیکھا جائے تو یہ ان سے بہت آگے دکھائی دیتا ہے مگر ریاستی بے رحمی کا شکار ہے۔ ہم پنجاب میں رہنے والوں کو یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں میرٹ کی بالادستی ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے۔اہل لوگ آگے آ رہے ہیں اور نا اہل لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔پنجاب میں اس کے برعکس کیفیت ہے۔یہاں مردان کار یہ حسرت اپنے ساتھ لئے قبروں میں ہی اتر جاتے ہیں کہ انہیں ان کا جائز مقام ملے سو یہ بات طے ہے کہ مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والایہ نوجوان کبھی اپنا جائز مقام حاصل نہیں کر پائے گااور اس کا یہ خواب شاید ہی کبھی پورا ہو سکے کہ بریل زبان میں تیار کردہ یہ قرآنی نسخے دنیا کے ہر نابینا شخص تک پہنچیں سو ہماری گزارش خیبر پختونخوا حکومت سے ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس نوجوان نابینا شخص کا ہاتھ تھامے اور اس کے خوابوں میں رنگ بھر دے کہ یہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کی بھی بہت بڑی خدمت ہوگی۔یہ نوجوان پاکستان کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے پنجاب حکومت ضائع کر رہی ہے۔کے پی کے حکومت اس اثاثے کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے اگر اس نوجوان کے سر پر دست شفقت رکھ دیں تو یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔خیبر پختونخوا میں نابینا افراد کی ایک بہت بڑی تعداد رہتی ہے جو بریل زبان نہیں جانتی۔کچھ نابینا اگر یہ زبان جانتے بھی ہیں تو ان کو بریل زبان میں تعلیمی نصاب نہیں ملتا کیونکہ سرکاری یا پرائیویٹ سطح پر یہ چھاپا ہی نہیں جاتا۔کے پی کے حکومت صوبے میں سو فیصد تعلیمی شرح حاصل کرنے کی متمنی ہے لیکن اگر صوبے کے نابینا بچے تعلیم سے محروم رہے تو سو فیصد خواندگی کا خواب قیامت تک پورا نہیں ہو سکے گا ۔اس کا حل یہ ہے کہ حافظ صاحب کی خدمات حاصل کر کے صوبے کے تمام تعلیمی نصاب کو بریل میں منتقل کیا جائے تاکہ جب صوبے کی تعلیمی اصلاحات کی بات چلے تو اس میں یہ ذکر بھی آئے کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے بصارت والے لوگوں کے ساتھ ساتھ نابینا افراد کی تعلیم کا بھی خیال رکھا اور صوبے کے تمام نابینا بچے بھی اسی طرح تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس طرح آنکھوں والے بچے اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔اس عمل سے صوبے کی بین الاقوامی ساکھ بھی بہتر ہوگی اور تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے والی عالمی ڈونر ایجنسیاں بھی وزیراعلیٰ کے پی کے اس اقدام کو سراہیں گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حالات کی تبدیلی کے لئے عمران خان کو مسیحا سمجھتے ہیں۔کپتان کے خلاف بولا گیا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتے۔مزے کی بات یہ بھی ہے کہ پورے پاکستان کی بلائینڈ کمیونٹی کے ساتھ فون اور انٹرنیٹ پر رابطے میں رہتے ہیں اور اپنی کمیونٹی پر تحریک انصاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔آئی ٹی میں اس قدر مہارت کہ آنکھیں رکھنے والے بڑے بڑے آئی ٹی کے ماہرین ان کی قابلیت دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔اسی قابلیت کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ممالک میں ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک ان کی خدمات سے استفادہ کریں تو یہ کے پی کی نابینا کمیونٹی کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔

متعلقہ خبریں