خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے

خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے

پانچوں سواروں والی بات تو آپ نے یقینا سنی ہوگی کہ چار گھڑ سوار ایک ساتھ اپنے علاقے سے نکل کر دلی جا رہے تھے۔ راستے میں ایک گدھا سوار بھی جا رہا تھا۔ وہ چاروں اس کے پاس سے گزرے تو اس نے چاروں سے پوچھا کدھر جا رہے ہیں۔ جواب ملا ہم تو دلی جا رہے ہیں۔ گدھا سوار بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور کہیں کوئی سوال کرتا۔ حضور کدھر کا قصد ہے؟ تو فوراً گدھا سوار بول اٹھتا' ہم پانچوں سوار دلی جا رہے ہیں۔ شیخ رشید آف لال حویلی بھی ملکی سیاسی صورتحال میں ایسے ہی لطیفے چھوڑتے رہتے ہیں اور تحریک انصاف کی جانب سے ایم کیو ایم کے ساتھ روابط کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کو ہٹا کر تحریک کے ممکنہ کسی امیدوار کو قائد حزب اختلاف لگانے کی جو سر گرمیاں ان دنوں جاری ہیں اس حوالے سے فرزند راولپنڈی نے باوجودیکہ موصوف ہمیشہ خود کو تحریک کے جلسوں' جلوسوں' احتجاج' دھرنوں میں صف اول میں رکھتے ہیں مگر اب کی بار انہوں نے خود کو پانچوں سواروں کی فہرست سے ''رضا کارانہ طور پر'' خارج کراتے ہوئے کہا ہے کہ میں اپوزیشن لیڈر نہیں بننا چاہتا۔ اس صورتحال کی تھوڑی سی وضاحت کرتے ہوئے بقول نون لیگی حلقوںشیخ رشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنا آسان نہیں بہت مسائل ہیں۔ فاٹا کے اراکین کا مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی ووٹ نہیں دے گی وغیرہ وغیرہ۔ اس صورتحال پر پشتو زبان کی ایک ضرب المثل ہے کہ میلمہ پوختے کہ نہ پوختے' ھسے ورتہ کرسی وڑاندے کوے۔ یعنی مہمان کی مرضی معلوم کرتے ہو یا نہیں کہ وہ رکنے کا ارادہ کرتا بھی ہے یا نہیں یا پھر ویسے ہی اس کے آگے کرسی رکھتے ہو۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ موصوف سے کسی نے اپوزیشن لیڈر بننے کی فرمائش کی بھی ہے یا ویسے ہی موصوف خود کو پانچوں سواروں میں شامل کرنے پر بضد ہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف میں پہلے ہی اس حوالے سے دھڑے بننے کی خبریں میڈیا پر بریک ہو چکی ہیں اور ابتداء میں جس طرح شاہ محمود قریشی کے قائد حزب اختلاف بنائے جانے کی اطلاعات آئیں تو تحریک کے اندر احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور بالآخر پارٹی کی جانب سے ( بہ امر مجبوری) وضاحت کرنا پڑی کہ قائد حزب اختلاف کے لئے امیدوار صرف عمران خان ہی ہوں گے۔ تحریک کی اس وضاحت کے بعد شیخ رشید کہاں کھڑے ہیں اور ان کے بیان کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے کہ وہ قائد حزب اختلاف بننا نہیں چاہتے حالانکہ ان کی اپنی جماعت کی کل متاع (جو موصوف کی اپنی ذات سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتی ہے) کے تناظر میں تو یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ '' ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا''۔ ویسے بھی تازہ ترین اطلاعات یہ سامنے آئی ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی اور فاروق ستار بھی اپوزیشن لیڈر کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ سبحان اللہ' گویا جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ادھر پیپلز پارٹی کی صفوں میں اس صورتحال سے خاصی ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری' رحمن ملک' سعید غنی اور خود سید خورشید شاہ کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس تحریک کو ہر قیمت پر ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نہایت دھیمے مگر نہایت ہی نپے تلے انداز میں کہا ہے کہ عمران خان نے اپوزیشن توڑ دی ہے۔ اس تقسیم سے حکومت کو فائدہ ہوگا۔ اپنی خواہش بتا دیتے میں پوری کردیتا پتہ نہیں ایم کیو ایم لڑکی والی ہے یا لڑکے والی؟ یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک کے رہنما عمران خان ایم کیو ایم پر نہایت رکیک حملے کرتے رہے ہیں اور یہاں تک کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگوانے کے لئے ثبوت لے کر لندن یاترا بھی کرتے رہے ہیں۔ اور اب جو سید خورشید شاہ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایم کیو ایم لڑکی والی ہے یا لڑکے والی تو اس حوالے سے خود تحریک انصاف کے ایک رہنماء ڈاکٹر عارف علوی نے بڑی عجیب بات کہی۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دلہن نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے ساتھ پہلے رابطہ ایم کیو ایم نے کیا تھا۔ موصوف ڈاکٹر فاروق ستار کے اس بیان کی تردید کر رہے تھے کہ ایم کیو ایم دولہا ہے اور پی ٹی آئی دلہن۔

اب روایت کو دیکھا جائے تو پیغام تو دولہا والے لے کر جاتے ہیں اور جب خود پی ٹی آئی کے عارف علوی نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے تو سید خورشید شاہ کو دولہا اور دلہن کے حوالے سے مزید کسی استفسار کی ضرورت نہیں رہتی البتہ یہ جو سید صاحب نے فرمایا ہے کہ ایم کیو ایم اور تحریک والوں کو پارلیمنٹ میں نہ صرف واپس لے کر آئے بلکہ انہیں لاکھوں روپے کی تنخواہیں بھی دلوائیں تو اس پر دو باتیں کی جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو اور دوسری بات یہ ہے کہ اب تک تو ملک کے عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ جس طرح ان لوگوں کے استعفے روک کر اور پھر تگڑم بازی کے ذریعے( تصدیق کے بہانے) واپس کروائے گئے یہ غیر آئینی' غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت سپیکر قومی اسمبلی نے کی تھی مگر اب جا کر یہ راز کھلا کہ اس میں سید خورشید شاہ بھی برابر کے شریک تھے۔ اس لئے شاہ صاحب اب بھگتو جن پر احسان کیا بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ ہور چوپو!!
خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے
سودیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

متعلقہ خبریں