مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو سلیمان دارانی سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک سال قصد کیا کہ تجرید کے ساتھ (بالکل اکیلے) کعبہ مشرفہ کا حج اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مطہرہ کی زیارت کروں۔ دوران سفر مجھے راستے میں ایک عراقی ملا' وہ بھی اسی جذبے کے تحت سفر کر رہا تھا۔ جب سب رفیق چلتے تھے تو وہ قرآن شریف کی تلاوت کرتا تھا اور جب منزل پر اترتے تھے تو وہ نماز پڑھتا تھا اور باوجود اس کے دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو تہجد پڑھا کرتا تھا۔ اسی حالت سے وہ مکہ مکرمہ تک پہنچا۔ اس کے بعد اس جوان نے مجھ سے جدا ہونا چاہا اور مجھے خدا حافظ کہا۔
میں نے کہا اے بیٹے! کس چیز نے تجھے ایسی آزمائش میں مبتلا کیا ہے؟ نوجوان عراقی نے کہا: اے ابو سلیمان! مجھے ملامت نہ کرو۔ میں نے خواب میں جنت کا ایک محل دیکھا ہے' وہ ایک چاندی کی اور ایک سونے کی اینٹ سے بنا ہوا ہے۔ اسی طرح اس کے بالا خانہ اور درمیان بالا خانوں کے ایک ایسی حور تھی کہ کسی دیکھنے والے نے ایسے حسن و جمال اور رونق والی صورتیں کبھی نہ دیکھی ہوں گی۔ وہ زلفیں لٹکائے ہوئے تھیں۔ ان میں سے ایک مجھے دیکھ کر مسکرائی تو اس کے دانتوں کی روشنی سے جنت روشن ہوگئی اور کہا کہ : اے جوان! خدا کی راہ میں مجاہدہ اور کوشش کرتا کہ میں تیری ہو جائوں اور تو میرا ہو جائے۔'' پھر میں بیدار ہوا۔ یہ میرا قصہ ہے اور یہ حال ہے۔ مجھے اے ابو سلیمان! اس لئے ضرورت ہے کہ میںکوشش کروں اور زیادہ کوشش کروں۔ کوشش کرنے والا ہی کچھ حاصل کرتا ہے۔ یہ جو کچھ مجاہدہ میںنے دیکھا وہ ایک منگنی کی غرض سے تھا۔ میں نے اس سے دعا کی درخواست کی۔ اس نے میرے واسطے دعا کی اور مجھ سے دوستی کی اور رخصت ہو کر چلا گیا۔
حضرت ابو سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نفس پر عتاب کیا اور کہا کہ اے نفس! بیدار ہو جا اور یہ اشارہ سن لے جو ایک بشارت ہے۔ جب ایک عورت کی طلب میں یہ نوجوان اتنی کوشش اور مجاہدہ کرتا ہے تو اس شخص کو جو حور کے رب کا طالب ہے کس قدر مجاہدہ اور کوشش کرنی چاہئے۔ایک شاگرد نے ایک مرتبہ آپ سے کہا کہ مجھے بنی اسرائیل پر رشک آتا ہے کہ ان کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں اور وہ اتنی عبادت کرتے تھے کہ ان کی کھالیں سکڑ کر پرانے مشکیزے کی طرح ہو جاتی تھیں۔ حضرت دارانی نے فرمایا کہ خدا کی قسم! حق تعالیٰ ہم سے یہ نہیں چاہتے کہ ہماری کھالیں ہڈیوں پر خشک ہو جائیں' وہ ہم سے صدق نیت کے سوا کچھ نہیںچاہتے۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص دس ہی دن میں یہ صدق پیدا کرلے تو اسے وہ درجہ مل سکتا ہے جو بنی اسرائیل کے کسی شخص نے پوری عمر میں حاصل کیا ہو۔ فرمایا کہ عبادت یہ نہیں کہ تم تو قدم جوڑے (نماز میں) کھڑے رہو اور کوئی دوسرا شخص تمہارے لئے روٹیاںبناتا رہے بلکہ پہلے اپنی دو روٹی کا انتظام کرلو' پھر عبادت کرو۔
(حلیتہ الاولیاء لابی نعیم 254 تا264جلد9)

متعلقہ خبریں