ہر استاد معمار ہے اپنا

ہر استاد معمار ہے اپنا

صبح سویرے جیسے ہی سکول جانے کے لئے تیار ہو نے لگی تو پچھلے روز کی ساری تھکان یاد آگئی اوپر سے منتظمین کی ڈانٹ ڈپٹ جو میری پچھلی محنت سے مطمئن ہی نہیں تھے جو میری کارکردگی کو اور زیادہ کمزور بنا رہے تھے ۔اس صبح سکول جانا زخمی پیروں سے چوٹی سر کرنے سے زیا دہ مشکل لگ رہا تھا لیکن بادل نخواستہ چل ہی پڑی اور پھررکشے کی کھٹ پٹ سے اور زیادہ دماغ خراب ہو نے لگا۔ ذہن میںطرح طرح کے خیا لا ت آنے لگے کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے پورا دن خوار ہو تے رہو دماغ الگ سے پھٹنے لگے اور جسم الگ سے گدھوں کی طرح پستا ہے۔ پورا دن بچوں کی دماغ میں زبردستی سبق ٹھونسنے کی کو شش کرو کاپیوں اور پیپرز کی چیکنگ کر کر کے آنکھوں اور دما غ کا بیڑا غرق کرو آخر میں ملتا کیا ہے کم از کم یہ سفر کی سہو لت بھی ٹھیک سے میسر نہیں' رکشوں میں زندگی گزارنا اورکبھی رکشہ صاحبہ نہ ملے تو مجبوراً بس میں دھکے کھانا یہ بھی کو ئی زندگی ہے ۔ خیر انہی خیا لات میں راستہ کٹ رہا تھاتو جیسے ہی سکول کے قریب پہنچی تو پیچھے مرسیڈیز آرہی تھی جس میں ایک سوٹڈ بوٹڈ کسی بڑے آفس کے لئے تیا ر آدمی بیٹھا تھا اور حیران کن بات یہ تھی کہ سا تھ میں جوبچے بیٹھے تھے وہ میرے وہی سٹوڈنٹس تھے جو دن میں زیا دہ نہیں تو ایک تھپڑ تو ضرور کھاتے ہیں ۔ظا ہراً تو لگ رہا تھا کہ یہ آدمی ان بچوں کے والد محترم ہے ۔ بچوں کی ایک حرکت نے مجھے بے انتہا حیران کر دیا ، وہ اپنے باپ کو زور زور سے ہلا تے ہو ئے اور میری طرف اشارے کرتے ہو ئے کچھ کہہ رہے تھے ۔ وہ کیا کہہ رہے تھے وہی تو میں نہیں سن پا ئی لیکن اْن کے اندازسے مجھے یہ اندازہ ہوا جیسے کہ میرے بارے میں ہی کچھ کہہ رہے ہیں اور مجھے دیکھ کر اْن کو بہت زیا دہ خوشی ہو رہی ہو ۔ اْسی وقت شدت سے احساس ہوا کہ پڑھاتے ہو ئے تھکن رائیگاں نہیں جاتی اگر میں دل سے پڑھا رہی ہوں تو اور کچھ نہیں مل رہا لیکن کچھ لوگ توعزت کرتے ہیں ناں اور ایک استاد کا یہی سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔ اسی وقت یہ بات ذہن میں آئی کہ اگر حکومت کچھ پہلو ؤں میں اسا تذہ کو سہولیات فراہم کرے اور ملک میں اْن کو قانونی طور پر کچھ امتیازات مہیا کرے تو مجھے یقین ہے کہ ہما رے ملک کو ترقی کی جانب بڑھنے سے کو ئی نہیں روک سکتا۔ دراصل استا د کو ایک inspirative personہونا چا ہیئے جو اپنے شاگردوں کے لئے مثالی بندہ ہو اور یہ سب تب ممکن ہے جب اساتذہ کو ذہنی اذیتوں سے نکال کر مطمئن انسان بنا دیا جائے اور یہ صرف اْس صورت میں ممکن ہے جب معاشرے میں اساتذہ کو ممتاز مقام دیا جائے جو حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس کے لئے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں بس اسا تذہ کو خا ص پروٹوکول ملنا چاہئے، جیسے کہ ہسپتال میںاوردیگر سرکاری اور نجی اداروں اْن کے لئے Teacher's Favour قسم کا کچھ ہوہر ایک استاد یا استانی کے پاس اپنا professional ID cardہو جو وہ کہیں بھی دکھاکر اپنا پروٹوکول حاصل کرسکے ۔ اس طرح ہم پا کستان میں Teachingکو ایک مثالی پیشہ بنا کر اپنے تعلیمی معیار کو بہت حد تک بہتر بنا سکتے ہیں ۔ ہمارے لئے یہ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے کہ ہمیں اپنے اسا تذہ کی کا رکردگی بہتر بنانے کے لئے ما نیٹرنگ والے مقرر کرنے پڑ رہے ہیں اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہمارے پاس وہ اسا تذہ نہیں ہیں جو دل سے پڑھا کر قوم بنا سکے جبکہ اس کے برعکس ہمارے پاس وہ اسا تذہ ہیں جو صرف نصابی کتابوں کے رٹے لگوا کر قوم کو بہترین طوطے فراہم کر رہے ہیں جن میں سے اکثریت میٹرک یا ایف ۔اے تک ہی پڑھ لیتے ہیں اور ہمیں وہ طلبہ نہیں مل پاتے جو ملک کا بوجھ اْٹھا سکے بلکہ ملک کے اوپر بوجھ بننے والے مل جا تے ہیں ۔ دراصل قوم کا ہر ایک استاد معمار ہونا چاہیے لیکن آج کل اساتذہ کی خراب حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے پاس معماروں کے بجائے مسمار کرنے والے زیادہ ہیں جن کو اپنی تنخواہ سے غرض ہے اور کچھ اور نہ بن سکے تو مجبوراً استاد بن گئے ہیں ۔ آج تک جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے اْن میں سب سے بڑا ہا تھ اْس قوم کے اساتذہ کا ہے اور اگر ہم اپنے ملک کو آگے لانا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اساتذہ کے کردار کی ضرورت ہے جو تب تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم اساتذہ کو اس چیز پردل سے راضی نہ کر سکیں ۔ پاکستان میں Teachingایک مثالی پیشہ نہ ہو نے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی دلچسپی اس طرف نہیں ہے تو اس لئے جوذہین طبقہ ہے وہ دوسری طرف چلا جاتا ہے اور جو اور کچھ نہیں کر پاتے وہ اس طرف آتے ہیں ۔ یہ ہمارے قوم وملک کے لئے انتہائی خطرے کی بات ہے ہمیں فوراً اس کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسے کہ ڈاکٹروں کو پروٹوکولز حاصل ہیں حتی ٰ کہ اْن کے لئے کئی جگہوں پہ ڈاکٹرز پیکجز بھی خصوصی رعایت کے ساتھ مخصوص ہیں اور وہ اساتذہ جو اس قوم کو ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان اور باقی پیشہ ور مہیا کر رہے ہیں اْن کے لئے اس ملک میں کچھ نہیں ہے ۔

افسوس اے قوم تیری کم ظرفی پہ !!!کہ توایک کلمہ کے نعرے پر وجود میں آنے کے بعد بھی سب سے معزز پیشے کی جو پیغمبرانہ پیشہ ہے قدر نہ کر سکا۔

متعلقہ خبریں