پاک چین بے مثال دوستی

پاک چین بے مثال دوستی

یکم اکتوبر 1949ء کو مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا ۔مائوزے تنگ نے اس موقع پر اپنی قوم کی غیرت کو جھنجھوڑا اور افیون کے نشے میں ہر وقت دھت رہنے والی چینی قوم کے اندر انقلابی روح کو بیدار کر دیا ۔ پوری قوم نے افیون کا نشہ ترک کر کے مائو زے تنگ کی صدائے انقلاب پر لبیک کہا تو مائو نے چین کے ماضی کو ''کالا وقت'' قرار دیا اور اپنے عوام کو مستقبل میں '' روشن وقت ''کی نوید سنائی ۔ اس روشن وقت کو پانے کے لیے پوری چینی قوم نے اس قدر جاں فشانی، خلوص اور جذبے سے کام کیا کہ عظیم و قدیم تہذیب و ثقافت کا امین عوامی جمہوریہ چین آج اقوام عالم میں پورے قد کے ساتھ پہلی صف میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔دنیا کو کاغذ ، پنکھا ، گھڑی ، ماچس ، ریشم ، کوئلہ ،پہیہ، چھاپہ خانہ اور بارود جیسی اہم ایجادات دینے والے چین کے متعلق عالمی ماہرین معاشیات اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ اگر ''ون بیلٹ ون روڈ '' منصوبہ مکمل ہوگیا تو چین کو امریکا کی جگہ نمبر ون سپر پاور بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ چین کی اس قدر شاندار ترقی کا راز یہ ہے کہ اسے مائوزے تنگ ، دینگ سائو پنگ ، ڈاکٹر سَن یات سین، چو این لائی اور مارشل چھو جیسی دیانت دار ، دور اندیش اور مخلص قیادت میسر رہی ۔اس معاشی ، اخلاقی اور سائنسی ترقی کی بنیاد اگر چین کے نصاب تعلیم کو کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ چین کا تعلیمی نصاب اپنی ''قومی زبان'' میں ہے۔یہ نصاب تعلیم بچوں کے اندر بچپن سے ہی جذبۂ ایثار و قربانی، حب الوطنی، جھوٹ اور کرپشن سے نفرت، انسانیت کی خدمت اور اپنی قوت ِ بازو پر یقین و اعتماد کوٹ کوٹ کر بھر دیتا ہے۔ہادیٔ بر حق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو برس قبل ارشاد فرمایا تھا: '' علم حاصل کرو ، خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔''اس فرمان بر حق کے پیچھے یقینا معرفت کے بیش بہا خزانے موجود ہوں گے لیکن جو ایک چیز ہمیںچین کے نصاب تعلیم سے ضرور سیکھنی چاہئے، وہ پاکستان کے تعلیمی نصاب کو '' قومی زبان'' میں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں بچوں کو ایک اجنبی اور نامانوس زبان میں تعلیم دی جارہی ہے جبکہ قومی زبان اردو کو ''شودر'' اور '' دُرِّیتیم''بناکر بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ہمیںتعلیمی نصاب کے حوالے سے اپنے دوست ملک چین سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہونے کے باوجود نہ ہم جمہوریت کو دائمی استحکام دے سکے اور نہ ہی ہم آمریت کے تاریک راستے پر کوئی دیوار کھڑی کر سکے ۔نظام حکومت کی کمزوریوں کی وجہ سے نہ ہمارے ہاں تعمیر و ترقی کی رفتار مناسب رہی اور نہ ہی ہمارے ادارے مضبوط ہو سکے ۔اگر ہم اپنے عظیم دوست ملک چین سے نظام حکومت اور تعمیر و ترقی کے گُر بھی سیکھ لیتے تو آج پاکستان بھی چین کی طرح کسی کا دست ِ نگر نہ ہوتا ۔ لیکن افسوس کہ ہم نے عاقبت نا اندیشی سے بہت سا وقت ضائع کر دیا ۔ ہم اپنے ہمسائے میں موجودمخلص دوست چین کو نظر انداز کر کے سات سمندر پار اس خود غرض اور مطلبی امریکا کی طرف دوڑتے رہے جو کبھی دل سے ہمار ا دوست نہ ہوا۔ وہ امریکا جس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ '' نہ اس کے دوست مستقل ہیں اور نہ دشمن ، اگر کچھ مستقل ہے تو وہ صرف اور صرف امریکی مفادات ہیں۔''یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکا نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمیںاپنے یک طرفہ مفادات کے تحت ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور پھر استعمال کرنے کے بعد مسل کر پھینک دیا ۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم بار بار کے آزمائے ہوئے امریکا کے چنگل سے باہر نکل آئیں ۔ قدرت نے چین کی بدولت ہمیں '' سی پیک'' کی شکل میں بہت بڑا اور سنہرا موقع فراہم کیا ہے ۔ یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو پاکستان کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔گزشتہ روز عالمی جریدے 'فوربز'کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 'سی پیک' کی وجہ سے پاکستانی معیشت 137ممالک کی عالمی مسابقتی رینکنگ میں 122ویں نمبر سے 115نمبر پر یعنی7درجہ اوپر آگئی ہے۔بین الاقوامی سطح کے ممتاز معاشی تجزیہ نگار پروفیسرجان ایڈم کا کہنا ہے کہ ''اگر سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، تو پاکستان معاشی طور پر عالمی مسابقتی رینکنگ میں ٹاپ 20ممالک میںشامل ہوجائے گا۔''یہی وہ اصل دکھ اور پریشانی ہے جو بھارت اور امریکا کو لا حق ہے۔بھارت کسی صورت پاکستان کو اس عظیم الشان منصوبہ سے باہر کرنا چاہتا ہے اور امریکا کسی صورت جنوبی ایشیاء میں پاکستان کو اتنا مضبوط نہیں دیکھنا چاہتا کہ وہ مستقبل میں امریکاکا دستِ نگر نہ رہے۔ اس وقت ہمارے ازلی دشمن بھارت کی امریکا سے بھی بڑھ کر یہ خواہش اور کوشش ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور سی پیک پراجیکٹ کے منصوبے ناکامی سے دوچار ہو جا ئیں۔چین کی حکومت اور سلامتی کے ادارے بھی اس صوتحال سے غافل نہیں۔ وہ بھارت اور امریکا کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ معروف چینی اخبار روزنامہ مارننگ پوسٹ کی جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق'' چین کی حکومت امریکا اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا باریکی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ان دونوں ملکوں کی قربت کا بنیادی مقصد چین اور پاکستان کے درمیان جاری سی پیک منصوبہ کو نقصان پہنچانا ہے۔ امریکا کی طرف سے بھارت کو MQ-9Bماڈل کے 22عدد جاسوس ڈرون طیاروں کی فروخت کرنے کی کھلی آفر پر حکومت ِ چین کو شدید تشویش ہے۔ ''اس رپورٹ میں اس خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ ''یہ ڈرون طیارے پاکستان اور چین کے درمیان جاری منصوبوں کی جاسوسی کے لیے دئیے اور لیے جارہے ہیں۔ ان جاسوس ڈرون طیاروں کی مالیت 2بلین امریکی ڈالر ہے۔'' اس بات میںاب کوئی شک و شبہ نہیں کہ بھارت کی مودی سرکار ، امریکا، اسرائیل، افغانستان ، ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر جاری ان ترقیاتی منصوبوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ من حیث القوم ہمیں دشمن کی ان سازشوں کو سمجھنا ہوگا اور ان کے مکروہ ارادوں کے آگے متحد ہو کربند باندھنا ہوگا۔ اس ضمن میں پاکستان کے ہر ادارے اور ہر فرد کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ پاک چین دوستی کے دفاع کا سپاہی بن جائے۔ انشاء اللہ !ہم سب ملکر بھارت ، امریکا ، افغانستان اور اسرائیل کی طرف سے پاک چین دوستی کے خلاف جاری سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور ہمالیہ سے بلند پاک چین دوستی کو ستاروں سے بھی زیادہ بلندی پر لے جائیںگے۔

متعلقہ خبریں