کامیابی کا گُر۔۔

کامیابی کا گُر۔۔

میرا یہ عقیدہ ہے کہ ہماری زندگی کسی خاص تجربے کا نتیجہ ہے۔ کسی تجربہ کے بغیر کسی چیز کا وجود یک لخت موجود ہونا، ناممکن ہے۔ موجد کے لئے کوئی چیز ایجاد کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، بلکہ اس کو مختلف تجربات سے گزرنا پڑتا ہے، ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات تلخ حقائق سامنے آتے ہیں، تب کوئی چیزوجود میں آتی ہے، اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں'ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہوگی جسے تجربات کے بغیر ہی حاصل کر لیا گیا ہو۔ حتیٰ کہ آپ بھی کسی کے تجربے کا نتیجہ ہیں، میں بھی کسی تجربے کا انجام ہوں۔

کائنات کی تخلیق سے لے کر آج تک جو بھی ہو رہا ہے، ان سب کا انحصار تجربات پر تھا۔ جن لوگوں کامکمل انحصارتجربات پر ہوتا ہے ان کو راستے پر کبھی کبھارناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن منزل ان کی کامیابی ہی ہوتی ہے۔ زندگی کا دوسرا نام تجربہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کامیاب لوگوں کی زندگی تجربات سے حاصل ہونے والی ناکامی اور کامیابی کا مجموعہ ہے۔ آفرینش سے مرگ تک، ایک فرد کا دو مرحلوں سے گزر ہوتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی! مستقبل میں ناکام ہونے والے آدمی کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ خود کو تجربات پر، پرکھے بغیر اور کچھ بھی کیے بغیر ہم کامیابی کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ لیکن کامیاب آدمی کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ مسلسل تجربات سے کامیابی، ناکامی اور کامیابی کا مجموعہ بن کر خود ہمارا مقدربن جاتی ہے۔
جب تک آپ اپنی زندگی کو تجربات کا پیکر نہیں بنائیں گے تو آپ کامیاب زندگی کے اہل ہی نہ ہو سکیں گے۔ اپنے کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے دوران، آپ اپنے بل بوتے پر تجربات انجام دیں۔ میں اپنے تجربے سے کہہ رہا ہوں کہ بے شک آپ بے شمارغلطیوں کے مرتکب ہوجائیں گے۔ لیکن کچھ تجربہ ضرور حاصل ہوگا۔ جب آپ کو اپنا ذاتی تجربہ حاصل ہوگا۔ تو آپ اپنی رائے قائم کرنے کے قابل ہوجائیں گے تب آپ ایک بہترین اور کامیاب زندگی جی سکتے ہیں ورنہ دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا پرلے درجے کی حماقت ہے کیونکہ آپ کو آپ کے سوا کوئی اور سہارا نہیں دے سکتا۔ اپنے تجربات سے آپ، آپ ہی رہیں گے جو کامیابی کی ضمانت ہے۔ میرا ایک دوست ہے میں اسے ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ:
Always make your own Experiment, you will get your own Experience"
میں آپ کو موجودہ دنیا اور ماضی قریب میں سے چند ایسے کامیاب اور دلچسپ لوگوں کے نام گنوا سکتا ہوں جنہوں نے مسلسل تجربات پر یقین رکھا لیکن ہار نہیں مانی اور سرخرو ہوگئے۔ بعض اوقات ان کو مسلسل ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ایک دن ان کے در پر کامیابی نے خود دستک دی۔
KFC کے مالک Colonal Sandersکو 1009 دفعہ ہوٹل مالکان نے مسترد کیا بعد میں اس کا تیار کردہ چکن کینیڈا، اور یو ایس اے کے 600 ہوٹلز نے فروخت کیا۔
J.K Rowling کو گھریلو مسائل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کی تحریر کردہ کتاب Harry Potterسیریز کو 12پبلشرز نے مسترد کیا، لیکن آج ان کی کتاب دنیا میں زیادہ خریدی جانے والی کتاب ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، جوہر برادرز، اقبال، سرسیداحمد خان، ابراہم لنکن، والٹ ڈزنی 'ہونڈا کے مالک Soichiro Hondaجن کو Toyotaنے اپنی کمپنی سے نکالا تھا۔،مارک زکر برگ، بل گیٹس، سٹیو جابز، برائن آکٹن، جیف بزاف ، سٹیفن ہاکنگ، میسی، رونالڈو، جیک مائ، ونسٹن چرچل، مدرٹریسا، ایدھی، تھامس ایڈیسن، نیوٹن آئن سٹائن، ارسطو اور افلاطون تک سب نے اپنے تجربات پر بھروسہ کیا تو رہتی دنیا تک کامیاب ٹھہرے۔ آسان سی بات ہے کہ دوسروں کے تجربات سے تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔ اپنا تجربہ کرکے خود اپنا تجربہ حاصل کریں۔دوسروں کے تجربات کو صرف تذبذب دورکرنے کے لئے سنیں لیکن یقین صرف اپنے تجربے پر کریں۔ اسی میں کامیابی کا گر مضمر ہے۔

متعلقہ خبریں