لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

روس کی افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے طالبان کے مطالبے کی حمایت اور افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی غیر معینہ مدت تک قیام کے معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنانا دلچسپ امر یوںہے کہ کبھی دنیا روس سے افغانستان سے اپنے فوجوں کے انخلاء پر زور دیتی تھی اور آج روس ان ممالک پر اپنے فوجوں کے انخلاء پر زور دے رہی ہے جنہوں نے افغان جہاد میں روس کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کی تھی۔ آج روس سے لڑنیوالے مجاہدین افغان طالبان بن چکے ہیں ۔ روس دریائے آمو کے اس پار جاچکا ہے اور اب سات سمندر پار سے آنے والے ممالک کی فوجوں کے انخلاء کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ ایک لمحے کو فی الوقت کی صورتحال سے قطع نظر اگر افغانستان کی اس وقت کی صورتحال کاجائزہ لیا جائے تو جس طرح روس لائو لشکر لے کر گرم پانیوں تک پہنچنے کے منصوبے کے تحت افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا آج ان کی جگہ امریکہ اور نیٹو فورسز نے لے لی ہے۔اس وقت افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ تھا۔ آج بھی افغانستان میں موجود قوتوں کا اصل مقصد یہی قرار پاتا ہے۔ اس وقت امریکہ نے پاکستان کاساتھ نہیں دیا بلکہ روس کے بڑھتے قدم سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان سے کام لیا اور آج روس امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لئے پاکستان کی حمایت کا خواستگار ہے۔ روس' چین اور پاکستان افغانستان میں غیر ملکی افواج کی واپسی اور قیام امن چاہتے ہیں ۔اس دورانیے میں روس اور پاکستان تیزی کے ساتھ قریب آرہے ہیں یا پھر حالات اس کا باعث بن رہے ہیں۔چند روز قبل روس کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل اسراکوف سرگی یوریوچ نے شمالی و جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا تھا اور ان کا استقبال کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد نے کیا جسے تجزیہ کار اس دورے کو پاک روس دوستی میں ہونے والی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔لیکن اگر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ کو مدنظر رکھا جائے تو روسی فوجی وفد کے حالیہ دورہ پاکستان سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں نیا موڑ 2014 میں آیا جب روس کے وزیردفاع سرگئی شوئیگو نے نومبر میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان مختلف فوجی مشقیں بھی ہوتی رہی ہیں۔مبصرین کے مطابق اگر پاکستان اور روس کے درمیان کوئی اتحاد ہوا بھی تو وہ چین کے بغیر نہیں ہوگا کیوں کہ چین دونوں ملکوں کا مشترکہ دوست ہے۔ اس ممکنہ اتحاد میں ترکی کی بھی دلچسپی واضح ہے اور ترکی بھی اس گروپ کا حصہ بننے کا خواہاں ہے ۔ممکنہ طور پریہ ترکی، روس، چین اور پاکستان کے درمیان چار فریقی اتحاد ہوگا جبکہ اس حوالے سے امریکا میں بہت زیادہ بے چینی ہے اور ہم اس معاملے پر امریکا کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔مبصرین کے خیال میں پاکستان میں روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ خطے میں امریکا اور روس کے درمیان جاری رسہ کشی ہوسکتی ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 2016میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے چین، پاکستان، امریکا اور افغانستان پر مشتمل چار فریقی اتحاد موجود تھا لیکن اس کے باوجود روس نے اس اتحاد سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے افغانستان کے معاملے پر علیحدہ سے مذاکرات شروع کیے۔جس طرح امریکا افغانستان کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے روس بھی افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے اور پاکستان کو افغان طالبان سے ڈیلنگ کا تجربہ حاصل ہے جو روس کی خصوصی دلچسپی اور مفاد کا حامل امر ہے۔خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاک چین اقتصادی راہداری کے باعث خطے کے ممالک کے مواصلاتی روابط میں بہتری اور زمینی طورپر ان کا باہم منسلک ہونے کی مساعی کی کامیابی کے لئے پاکستان ' روس اور چین کی اولین ترجیح خطے میں ہر قسم کے انتشار اور بد امنی کا خاتمہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو خطے میں دو ہی اہم مسائل کشیدگی کا باعث ہیں جن میں سے پہلا افغانستان اور دوسرا مسئلہ کشمیر ہے۔ سی پیک کے روٹ اور افغانستان کو اقتصادی راہداری منصوبے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی جیسے معاملات افغانستان میں قیام امن' افغانستان میں مستحکم حکومت اور غیر ملکی افواج کے انخلاء سے جڑے ہیں۔ اگر افغانستان میں امن کی بحالی و استحکام مطلوب ہے تو افغان قیادت کو اس امر کا اصولی مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔ افغان طالبان کا بھی بنیادی مطالبہ اب یہی ہے۔ اس مطالبے کی روس کی جانب سے حمایت کے بعد پاکستان ' چین اور ترکی سمیت تمام ممالک کا اس اصولی موقف پر اتفاق اور اس کا مطالبہ اب فطری امر ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد داخلی امن کے قیام میں پاکستان' روس اور چین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کرنے کاواحد راستہ غیر ملکی فوجو ںکا انخلاء اور وسیع تر قومی مفاہمت ہے ۔ اگر دنیا کو افغانستان میں اور استحکام امن مطلوب ہے تو افغان مسئلے کا پائیدار ' مستقل اور تمام فریقوں کو قابل قبول حل تلاش کرنے میں مزید وقت صرف نہیں کرنا چاہئے۔ روس' پاکستان اور چین کی اس ضمن میں مساعی جاری ہیں۔ اگر امریکہ کو بھی ان کوششوں سے اتفاق ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ بھی ان کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے میں اپنا کردار اداکرے۔

متعلقہ خبریں