سفری دستاویزات کی تیاری کیلئے ایک اور مہلت

سفری دستاویزات کی تیاری کیلئے ایک اور مہلت

افغانستان کے ایک اہم رکن قومی اسمبلی لطیف پیدرم نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد ہے۔ یہ صرف فاضل رکن پارلیمان کا بیان نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان کے بادشاہ میر عبد الرحمن خان نے برطانیہ کے ساتھ 1892میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت افغانستان اور برطانوی راج کے درمیان سرحد کی نشاہدی کر دی گئی تھی تاہم افغانستان کی حکومتوں کا اصرار ہے کہ یہ باضابطہ سرحد نہیں بلکہ انگریزوں کی کھینچی ہوئی ایک لکیر ہے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک تسلیم شدہ سرحد ہے اوریہ باب بند ہو چکا ہے ۔امریکہ بھی ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کرتا ہے۔دریں اثناء پاک افغان بارڈر طورخم پر بینرز آیزاں کردیئے گئے ہیں کہ پاکستانی اور افغانی 15اپریل کے بعد بغیر پاسپورٹ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتے۔یکم مئی کے بعد راہداری کارڈ زبھی کارآمد نہیں رہیں گے اور پاسپورٹ اور ویزہ لازمی ہو گا۔ہمارے تئیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی مسئلہ سرحدی حد بندی پر افغانستان کا اعتراض ہے جس کے باعث سرحدی انتظامات کی بہتری اور سفری دستاویزات کے ساتھ آمد و رفت بھی ان کو کھٹکتی ہے۔ مگر اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان کی حکومت حقائق کو تسلیم کرے اور خواہ مخواہ ہمسایہ ملک سے لاحاصل مخاصمت اختیار کرنے کی بجائے اپنے ملک میں قیام امن اور عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دے۔خود افغانستان کے فاضل رکن پارلیمان کا تاریخی حقیقت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے اس ضمن میں عالمی برادری کو کردار ادا کرنے کی دعوت اس امر پر دال ہے کہ ہر صاحب فہم کو اس امر کا ادراک ہے۔ افغانستان بین الاقوامی سرحد کو افغانستان تسلیم کرنے میں جس قدر بھی ہچکچاہٹ اور ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرے گا اس سے کوئی فائدہ تو حاصل نہ ہوگا البتہ نقصان ضرور ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے سرحد پر آمد و رفت کو باقاعدہ اور دستاویزی بنانے کے لئے بار بار اقدامات و اعلانات کئے جاتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ حتمی تاریخ دے دی گئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کو سفری دستاویزات بنا لینی چاہئیں تاکہ عین وقت پر پریشانی سے بچا جاسکے۔
کرایہ نامہ کی شرائط میں بلا وجہ تبدیلی
پشاورپولیس کی جانب سے کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر افراد کے لئے پراپرٹی ڈیلر سے شرائط نامے پر دستخط لازمی قرار دینا شہریوں کو بلا وجہ مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ قبل ازیں بیان حلفی کے ذریعے این او سی کا حصول ممکن تھا جس سے قانونی ضرورت بھی پوری ہوتی تھی اور شہریوں کے لئے بھی یہ قابل قبول امر تھا۔امر واقع یہ ہے کہ شہر کے بعض علاقوں میں گزشتہ دو دہائیوں سے لوگ ایک ہی مکان میں کرائے پر رہائش پذیر ہیں اور لوگوں نے یہ مکانات مالک مکان سے براہ راست حاصل کئے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن نئے قانون سے ان مکینوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔پراپرٹی ڈیلر کے دستخط کی شرط کے باعث پراپرٹی ڈیلرز دستخط کیلئے شہریوں سے ہزاروں روپے وصول کررہے ہیں پولیس کی پراپرٹی ڈیلرز کیساتھ گٹھ جوڑ سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔شہریوں کی سہولیات کیلئے قائم کئے جانیوالے پولیس دفتر میں تعینات اہلکاروں کے مطابق انہیں حکام بالا سے ہدایات ملی ہیں کہ شہر کے مختلف تھانوں کی حدود میں جو بھی افرادمکان کرائے پر حاصل کرے گا اس کیلئے ضروری ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز سے ایگریمنٹ دستاویزات پر باقاعدہ دستخط کروائے گا اورجن کرائے داوروں کے پاس یہ نہ ہوگا ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔خیبر پختونخوا میں قانون کرایہ داری کا نفاذ اور باقاعدہ دستاویزات و تصدیق کے بعد مکان کرائے پر دینے کا طریقہ کار احسن قدم تھا اور ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب پولیس حکام اس کو بھی کمائی کا ذریعہ بنانے کی راہ نکالنے کی تگ و دو میں ہیں یا پھر پولیس نے پراپرٹی ڈیلرز سے ملی بھگت کرلی ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی طرف سے نہ قانون میں تبدیلی کا کوئی نوٹیفیکیشن آیا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا کو اس خود ساختہ اور عوام کے لئے مشکلات کا سبب بننے والے ہدایت نامے کا فوری نوٹس لے کر پہلے سے مروجہ طریقہ کار کو بحال رکھنے کی ہدایت کرنی چاہئے۔ عوام کو بلا وجہ مشکلات کا شکار بنانے سے گریز کیا جائے۔ شہریوں کو پولیس سے تعاون پر آمادہ کیا جائے نہ کہ شہریوں اور عوام کے درمیان آئے روز نت نئی شرائط عائد کرکے خلیج پیدا کی جائے۔

متعلقہ خبریں