پاکستان کے غیر رجسٹرڈ بچے

پاکستان کے غیر رجسٹرڈ بچے

کسی بھی ریاست کی اپنی جغرافیائی حدود میں پیدا ہونے والے بچوں کو قانونی حیثیت دینے میں ناکامی ہی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ کنونشن آن دا رائٹس آف دا چائلڈ 1989ئ، جس کی تو ثیق پاکستان بھی کر چکا ہے، کے مطابق ہر بچے کو پیدائش کے وقت ہی قانونی طور پر رجسٹر ہونے اور شہریت ملنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ہماری نیشنل چائلڈ پالیسی بھی پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے اس حق کی تصدیق کرتی ہے، جس کے مطابق'ہر بچے کو زندگی گزارنے، آزادی، نام اور شہریت کا حق حاصل ہے'۔ بچے کے اس بنیادی حق سے محرومی کی وجہ سے اسے دیگر حقوق ، تحفظات اور فوائد سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے ۔ کسی بھی بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ کی غیر موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ اس بچے کو تعلیم اور صحت کی سہولیات تک مفت رسائی کے حق سے محروم رکھا جائے گا جس کی وجہ سے اس بچے کا معاشی مستقبل اور معیارِ زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک غیر رجسٹرڈ بچے کے ظلم و استحصال کاشکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ عمر کے ثبوت کے بغیر کسی بھی بچے کو چائلڈ لیبر قوانین کے تحت ملنے والے کم سے کم تحفظ سے محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عمر کا ثبوت نہ ہونے کے وجہ سے بہت سے بچے چائلڈ میرج جیسے مکروہ عمل کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔اسی طرح عمر کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی بچے یا شخص کو انصاف کے حق سے بھی محروم رکھا جاسکتا ہے جیسا کہ شفقت حسین کے کیس میں دیکھنے میں آیا۔ شفقت حسین کو ایک ایسے جرم کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی جس کا ارتکاب اس نے کم عمری میں کیا تھا۔ بچوں کو رجسٹر نہ کرنے اور قانونی حیثیت سے محروم رکھنے کے سنگین نتائج کے باوجود وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے کسی بھی بچے کی پیدائش کے وقت اس کو رجسٹر نہیں کیا جاتا؟ غربت اور ناخواندگی وہ عوامل ہیں جو کہ غیر رجسٹر شدہ بچوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ زیادہ تر غیر رجسٹرڈ بچوں کے والدین پڑھے لکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ بچوں کو رجسٹر کروانے کے فوائد اور رجسٹر نہ کروانے کے نقصانات سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ ایک طرف جہاں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن نہ کرواناآگاہی کی کمی کا شاخسانہ وہیں پر رسائی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ غیر رجسٹرڈ بچوں کی اکثریت کا تعلق دور دراز کے دیہی علاقوں سے ہوتا ہے جہاں پر پہلے ہی غربت اور پسماندگی نے ڈیرہ جمایا ہوتا ہے۔دیہی علاقوں کے لوگوں کورجسٹریشن کے لئے ان انتظامی اداروں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جو کہ بچوں کی رجسٹریشن کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ پاکستان میںتقریباً 50 فیصد بچوں کی پیدائش ہسپتالوں کی بجائے گھروں میں ہوتی ہے جو کہ بچوں کے رجسٹر نہ ہونے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ دوسری جانب گھرمیں بچے کی پیدائش کی ایک بڑی وجہ دیہاتوں میں ہسپتالوں اور طبی مراکز کا نہ ہوناہے۔ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں بسنے والی عوام بہت سے حوالوں سے شہروںمیںبسنے والے لوگوں سے پیچھے ہے۔ جہاں دودراز علاقوں میں غربت اور پسماندگی کے علاوہ بیروزگاری کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے وہیں پر انتظامی مشینری بھی ان علاقوں تک رسائی نہیں رکھتی ۔ ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ بچوں کی پیدائش کے لئے بنایا جانے والا نظام بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ جن سرکاری افسران کی ذمہ داریوں میں بچوں کی پیدائش کا اندراج کرنا شامل ہے وہ ان علاقوں میں نہیں جاتے جہاں پر غیر رجسٹر شدہ بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر مذکورہ افسران بچے کی پیدائش کے عمل کے تکنیکی پہلوئوں سے بھی نابلد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کی رجسٹریشن کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن میں تاخیر کی حوصلہ شکنی بھی کرتا ہے ۔ بچے کی پیدائش کے تاخیر سے اندراج کے لئے بچے کے والدین کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے عمر کی تصدیق کے لئے ہسپتالوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں جہاں کا نااہل عملہ والدین کوغیر ضروری کاغذی کاروائیوں میں الجھا کر رجسٹریشن میں مزید تاخیر کاباعث بنتا ہے۔ بچوں کی رجسٹریشن کے عمل میں موجود خامیوں پر قابو پانے کے لئے ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے یہ سارا عمل با آسانی اور جلدی مکمل ہوجائے۔ رجسٹریشن نہ کروانے پر سزا کی سکیم سے اس مسئلے میں کمی ہونے کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی رجسٹریشن نہ کروانے کے نقصانات پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے حکومت کو ایک ایسی خصوصی آگاہی مہم کاآغاز کرنا ہوگا جس سے ملک کے دیہی علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاسکے۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور متعلقہ اداروں میں کوآرڈینیشن کو بڑھا کر رسائی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے اس حوالے سے اپنے صوبوں کے چند اضلاع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے ۔ ہر لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے علاقے میں ہونے والے بچے کی پیدائش کا اندراج موبائل فون کی آن لائن ایپ پر کرنے کی ذمہ دار ہے جسے بعد میں متعلقہ یونین کونسل بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی اور پورے ملک میں اطلاق کے علاوہ عملے کی فراہمی اور تربیت کے ذریعے پاکستان میں غیر رجسٹر شدہ بچوں کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں