اندھیرے کے سفر میں راہ روشن ہوتی جاتی ہے

اندھیرے کے سفر میں راہ روشن ہوتی جاتی ہے

تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کے قیام اور اس کے مقاصد کی بڑی خوبصورتی اور عمدگی سے وضاحت کی اور بر صغیر کی تاریخ کو صدیوں تک مسلح جدوجہد سے عبارت کیا۔ بر صغیر پر انگریزوں کے بتدریج قبضے کے حوالے سے 1857ء کو اس جدوجہد کی انتہا قرار دیا جس کے بعد ایک نئی سوچ نے جنم لیا کہ مسلمانوں کی تہذیب' مذہب اور معاشرت کو بچانے کے لئے پر امن جدوجہد اور عدم تشدد پر عمل کیا جائے۔ اسی سوچ کے تحت 1866ء میں دیو بند کے مقام پر مدرسے کاآغاز کیاگیا۔ بر صغیر کی تاریخ میں یہ ایک نیا موڑ تھا اور اسیر مالٹا کی واپسی کے بعد جمعیت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ جماعت پر امن جدوجہد اور عدم تشدد کی حامی جبکہ اس کی بنیادوں میں کسی خاص مسلک یا فرقے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بلکہ اس کے قیام کے وقت اس وقت بر صغیر کے تمام مکاتب فکر کے چوٹی کے علمائے کرام موجود تھے۔ آج اسی سوچ کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لئے جمعیت کی صد سالہ یوم تاسیس منانے کی ضرورت کا احساس کیاگیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن گزشتہ روز پشاور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر موضع اضاخیل کے ایک وسیع و عریض میدان میں صد سالہ یوم تاسیس جمعیت علمائے اسلام کے تحت تقریب منعقد ہونے والے عالمی اجتماع کے حوالے سے پشاور اور نوشہرہ' پبی کے علاوہ اسلام آباد سے آئے ہوئے سینئر اینکر حامد میر کو اس اجتماع کے اغراض و مقاصد اور تیاریوں سے آگاہ کر رہے تھے۔مولانا صاحب نے اس موقع پر میڈیا سے شکایت بھی کی کہ دینی حلقوں کی جانب سے تشدد اور دہشت گردی کے حوالے سے کئی بیانوں کے باوجود میڈیا نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ اسے آگے نہیں بڑھایا اور خاموشی اختیار کئے رکھی جبکہ بین الاقوامی ایجنڈا دینی مدارس کو فیل کرنا ہے۔ اب یہ میڈیا کا فرض کہ وہ اس کا نوٹس لے اور اصل حقائق دنیا کے سامنے لے آئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پوری عالم انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجاگیا تو مذہب میں تشدد کہاں سے ہوسکتی ہے۔ خیر خواہی تو تمام انسانیت کے لئے ہے اسی کلیئے کے تحت جب ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو غیر مسلم کیسے غیر محفوظ ہوسکتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقلیتوں کے تحفظ کا حکم دے رکھا ہے۔
پاک چین دوستی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا صاحب نے کہا کہ یہ اب اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے جبکہ چین کے رہنما اور پارلیمنٹ جمعیت کی دوستی کو تسلیم کرتی ہے اور آج روس بھی چین کے ساتھ ہاتھ ملا رہا ہے اس سے سی پیک کی اہمت بھی بڑھتی ہے۔ اسی طرح تاپی منصوبے پر عمل کرنے سے اس کی کلید پاکستان کے ہاتھ میں آجائے گی جو پاکستان کے بہترین مستقبل کی ضمانت ہے اور اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانے کے مواقع میسر آئیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے جمعیت کی صد سالہ تاسیس کے حوالے سے کہا کہ اس اجتماع سے دنیا کو ایک اہم اور واضح پیغام جائے گا جبکہ قوم کو بھی وحدت کا پیغام ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت نے انسان کی آزادی' انسانی حقوق اور امن' معاشی خوشحالی اور پسماندہ طبقوں کو اوپر اٹھانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس اجتماع کا مقصد اس حوالے سے واضح پیغام دینا ہے۔
امن مدینے کے اندر تم جھانکو تو
ہر منڈیر پہ فاختہ اک رقصاں ہوگی
سینٹ کے ڈپٹی چیئر مین عبدالغفور حیدری نے اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں اس اجتماع کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع میں 40لاکھ کے قریب لوگوں کی شرکت متوقع ہے جسے آپ شو آف پاور کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیاگیا ہے۔ ان مقاصد سے قوم کو با خبر رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال تک سود کے خاتمے کا انتظام تک نہیں ہوسکا تو اسلامی زندگی گزارنے کی سوچ کہاں پنپ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے میں ہمارے اکابرین نے جس طرح ساتھ دیا تھا پاکستان بچانے میں بھی اسی طرح کردار ادا کریں گے۔انہوں نے پشاور کے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے تو اس عالمی اجتماع کے میزبان یہاں کے صحافی ہیں۔ سینئر صحافی اور اینکر حامد میر نے اس موقع پر کہا کہ اس اجتماع سے عالمی سطح پر ایک اچھا پیغام جائے گا۔ اسلام کے بارے میں منفی روئیے اور پروپیگنڈے کی بیخ کنی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک دینی اور جمہوری جماعت ہے جو ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔
اگر جمعیت علمائے اسلام کے رہنمائوں کی سوچ کے مطابق لوگوں نے اجتماع میں شرکت کی تو یقینا یہ عالمی سطح پر ایک بہت بڑا اور تاریخی اجتماع ہوگا اور اس سے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا پیغام اور اسلام کے بارے میں مثبت تاثر جائے گا۔
اندھیرے کے سفر میں راہ روشن ہوتی جاتی ہے
نکلتے ہیں تو ہم اک اک دیا بھی ساتھ رکھتے ہیں

متعلقہ خبریں