اُردو کی عزت کا سوال

اُردو کی عزت کا سوال

7ستمبر 2015ء کو جب وطن عزیز کی عدالت عظمیٰ نے تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ اُردو وفاقی و صوبائی سطح پر سرکاری زبان کی حیثیت سے رائج کی جائے گی تو چاہیے تو یہ تھا کہ اس حوالے سے فوری اقدامات اُٹھائے جاتے مگر ڈیڑھ سال کی کارکردگی یہ ہے کہ نیچے سے لے کر اوپر تک تمام سرکاری خط و کتابت انگریزی زبان میں ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں عدالت عالیہ لاہور کے معزز جج جناب جسٹس عاطر محمود نے مقابلے کا امتحان منعقدہ 2018ء کو اُردو زبان میں لینے کا حکم دیا تھا مگر مرکزی و صوبائی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے عدالت میں اپیل کی کہ اکثر مضامین چونکہ اُردو زبان میں ترجمہ نہیں ہو سکے ہیں چنانچہ یہ حکم معطل کیا جائے۔ عدالت عالیہ لاہور کے دو رکنی بنچ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے یہ حکم معطل کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام کس کے کرنے کا تھا ' کس نے عدلیہ کو موقع فراہم کیا کہ وہ اُس تاریخ ساز فیصلے کو معطل کر دے جس کی بدولت پاکستان میں ایک نئے عہد کی ابتدا ہوتی۔ کون ہے جو ہمیں بدیسی زبان کے زور پر غلام ابن غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ انگریزی زبان بولنا اور لکھنا ہی قابلیت کا واحد معیار بنا دیا گیا ہے چنانچہ قوم کی قسمت چند ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے جو انگریزی زبان سیکھ گئے ہیں۔ اس استحصالی ذہنیت کا کرشمہ ہے کہ قوم کو انگریزی میڈیم اور اُردو میڈیم میں تقسیم کیا گیا اور مختلف حیلوں بہانوں سے انگریزی دان طبقہ ہمارے اور ہمارے بچوں کے سروں پر مسلط ہے۔ 

ذرا غور کیجئے کہ اپنے آپ کو پرو پاکستان کہلانے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے عدالتِ عظمیٰ کے حکم نامے کے بعد اُردو زبان کو رائج کرنے کے حوالے سے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔ 7ستمبر 2015ء کو جو عدالتی حکم نامہ جاری ہوا اس میں کہا گیا کہ شارٹ ٹرم اقدامات کے تحت وفاقی حکومت کے محکمے تین ماہ کے اندر اپنی پالیسیوں اور رولز کا اُردو زبان میں ترجمہ کریں گے۔ کیا آج ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود وفاقی حکومت اس حکم نامہ پر عمل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے؟ حکم نامہ میں کہاگیا کہ وفاقی حکومت سے متعلقہ تمام فارمز اُردو میں ہوں گے اور یہ کہ تمام اہم پبلک مقامات مثلاً عدالتوں' پارکوں' تعلیمی اداروں اور بنکوں میں معلوماتی تختیاں اُردو میں ہوں گی۔ اسی طرح یوٹیلٹی بلوں کے مندرجات ' پاسپورٹ' ڈرائیونگ لائسنز' آڈیٹر جنرل کے دفتر کی دستاویزات ' اکاؤنٹنٹ جنرل اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے متعلقہ کاغذات وغیرہ اُردو زبان میں ہوں گے۔ وفاقی حکومت نے کہاں تک اس حکم نامے پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کو اُردو زبان کے متعلق حکم نامے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض افراد کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ عدالت کو کیا لگے کہ وہ قومی زبان کو رائج کرنے کے لیے یوں سخت احکامات دے۔ کچھ یہی بات عدالت عالیہ لاہور کے چیف جسٹس جناب جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں سے زبانیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ محترم چیف جسٹس صاحب سے بصد احترام گزارش ہے کہ یہاں معاملہ زبان تبدیل کرنے کا نہیں ہے اپنی قومی زبان رائج کرنے کا ہے جس کا وعدہ قوم سے 1973ء کا آئین بناتے وقت کیا گیا تھا۔ آج قوم سوال کرتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 251پر اپنی روح کے مطابق عمل درآمد کیوںنہیں ہو سکا ہے؟ آئین کا آرٹیکل 251کہتا ہے کہ ''پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے لہٰذا پندرہ سالوں کے اندر اس کو سرکاری و دیگر استعمال میں لانے کے لیے بندوبست کیا جائے گا۔'' یہاں لفظ ''قومی زبان اُردو ہے'' استعمال ہواہے چنانچہ کسی کو یہ مارجن نہیں مل سکتا ہے کہ آئین میں لفظ ''اُردو ہو گی'' لکھا ہوا ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ الفاظ آئین میں لکھے ہوتے تو ہمیں چکر باز کسی تشریح میں الجھا دیتے مگر واضح الفاظ کے باوجود اُردو کو رائج کرنے میں اب تک پس و پیش سے کام لیا گیا ہے۔ پندرہ سال کا عرصہ 1988ء میں پورا ہو چکا جبکہ آج اس اضافی مدت کو گزرے ہوئے تیس سال ہونے کو آئے ہیں لیکن قوم کے کارپردازان اپنی قومی زبان کو رائج کرنے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُردو کی عزت کا خیال کون کرے گا؟ حکومتیں پہلے ہی ناکام ہیں اب عدلیہ کا سہارا بھی انہیں مل گیا ہے ۔ دریں حالات اُردو کا مستقبل کیا ہوگا؟ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی درخواست یقینی طور پر حکومت وقت کی منظوری کے بغیر عدالت عالیہ میں دائر نہ ہوئی ہو گی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس صورت حال پر کیا لکھوں ۔ ایک جملہ لکھ دینے سے شاید میرے اعصاب کا بوجھ ہلکا ہو کہ عوام کو دبا کر رکھنے کے لیے تمام ریاستی ادارے اور ان کے کارپردازان اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ کبھی کوئی اللہ کا نیک بندہ آتا ہے ' وہ خوفِ خدا کے تحت اور اس قوم پر ترس کھاتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہے۔ لیکن جلد ہی ایسے احکامات ہوا میں اُڑا دیے جاتے ہیں۔ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگ ن کی' دونوں کا مزاج اور گورننس کا سٹائل قریباً ایک جیسا ہے' دونوں قومی نوعیت کے ایشوز کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتیں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت اپنا وقت گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں