ذوالفقار علی بھٹو شہید…کچھ یادیں

ذوالفقار علی بھٹو شہید…کچھ یادیں

ذوالفقار علی بھٹو شہید سے کچھ ملاقاتیں یادداشت میں اب بھی زندہ ہیں۔ ایک بار معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات سے کچھ ''سرخوں'' کو نکالنے کا بندوبست کر لیا گیا ہے ۔ میں ان دنوں مساوات میں کام کرتا تھا اور ٹریڈ یونین کا عہدیدار بھی ۔ بھٹو صاحب لاہور آنے والے تھے ہم نے کسی وسیلے سے ان سے ملاقات کا وقت لے لیا۔ ایک تین پیراگراف کا مراسلہ لے کر ہم چار لوگ ان سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس پہنچ گئے۔ بھٹو صاحب آئے ان کے ساتھ گورنر مصطفےٰ کھر اور روزنامہ مساوات کے ایک انتظامی عہدیدار میاں اسلم بھی تھے۔ بھٹو صاحب نے مراسلہ ہاتھ میں پکڑا پتہ نہیں پورا پڑھا بھی یا نہیں اور کہا اگر مجھے ملازمتیں دینا ہوں تو میں ٹیکسٹائل مل لگاؤں اخبار کیوںنکالوں۔میں نے کہا اگر آپ ٹیکسٹائل مل لگائیں گے تو اس میں ٹیکسٹائل کے مزدور بھرتی کریں گے اخبار نویس نہیں۔ لیکن صورت یہ ہے کہ اخبار کا چہرہ مسخ کر دیا گیا ہے ۔ بھٹو صاحب کے چہرے پر سوالیہ انداز ابھرتے دیکھا تو میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ اخبار کا وہ کالم پڑھ کر سنائیں جو ہم ساتھ لے کر گئے تھے۔ میاں صاحب نے کہا نہیں نہیں سر اس کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا سر اس کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اخبار جو پیپلز پارٹی کا ترجمان ہے ہمارے ہزاروں گھروں میں جاتا ہے ہوا یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کے جس کیمپ نے ہم بارہ سترہ لوگوں کو سرخ قرار دے کر ملازمتوں سے فارغ کرنے کا بندوبست کیا تھا اس نے ایک کالم نویس کو بھی مامور کیا تھا (نام لینا مناسب نہیں) اس کالم میں مرحوم شورش کاشمیری اور بھٹو صاحب کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا تھا جس کا ذکر بھی نازیبا ہے ۔ چند جملوں کے پڑھے جانے کے بعد ہی بھٹو صاحب کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ سرجھک گیا۔ وہ شخص جس کے بارے میںلوگ کہتے تھے کہ بڑا سخت گیر ہے خجل اور شرمسار دکھائی دے رہا تھا۔ میںنے کہا سر ہم لوگ مساوات کے بانی ارکان ہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا نہیں نہیں آپ کو کوئی نہیںنکالے گا۔ پھر کہنے لگے آپ لوگ ہم سے رابطہ ہی نہیں رکھتے۔ اب جو کچھ نیپ والے لندن میں کر رہے ہیں اس کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہیں ہے۔ عرض کیا بتا دیں اور اپنے ساتھی الطاف قریشی سے جو اس وقت چیف رپورٹر تھے کہا لکھیں۔ پھر انہوں نے وہ خبر لکھوائی جو اگلے دن لندن پلان کی شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوئی۔ مجھے غالباً ٹریڈ یونین حرکات کی وجہ سے اسلام آباد میں بیورو چیف کے طور پر ٹرانسفر کر دیا گیا جہاں 1973ء کے آئین کے مسودے کی غالباً تیسری ریڈنگ ہو رہی تھی ۔ روزانہ اسمبلی میں جانا ہوتا تھا۔ بھٹو صاحب کی خواہش تھی کہ پاکستان کا آئین متفقہ طور پرمنظور ہو۔ لیکن اپوزیشن میں دینی جماعتیں آئین میں اسلامی شقوں کے شامل کرنے پر اور نیپ صوبائی خود مختاری سے متعلق شقیں شامل کرنے پر بضد تھیں۔ آئین پر مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو رہا تھا۔ عارضی قیام سمجھتے ہوئے ان دنوں میں ہوٹل الحیات راولپنڈی میں رہتا تھا جہاں ان دنوں اہم شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا۔ ایک روز ایک صاحب کھانے کی میز پر آئے اور بتایا کہ وہ کے پولیٹیکل ایجنٹ ہیں اور پوچھا کہ عبدالحئی بلوچ کہاں ہیں۔ میں نے کہا کل انہیں دیکھا تھا آج نظر نہیں آئے۔ کہنے لگے انہیں تلاش کرنا میری ذمہ داری ہے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اجمل خٹک مرحوم (اس وقت ممبر قومی اسمبلی) برقع پہن کر افغانستان کی سرحد پار کر گئے ہیں۔ باتوں میں یہ کھلا کہ ان ارکان کو آئین پر دستخط کرنے کے لیے تلاش کیاجا رہا ہے جب کہ ۔۔۔۔ حجرے میں فیصلہ ہوا ہے کہ اگر بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کی دو تہائی اکثریت کے بل پر آئین منظور کرانے کی کوشش کی تو سرحد (اب خیبرپختونخوا) میں پختون زلمے اور سندھ میں حر بغاوت کریں گے۔ اور آئین کی منظوری نہیں ہونے دی جائے گی۔ مجھے بڑی تشویش لاحق ہو گئی کہ ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بتائے بغیر حفیظ پیرزادہ اور مصطفےٰ جتوتی سے کہا کہ وہ بھٹو صاحب سے وقت لے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج کل کسی سے نہیں ملتے۔ تنہا ہمہ وقت اسمبلی کی کارروائی مائیک کے ذریعے سنتے رہتے ہیں۔ آخر بھٹو صاحب کے مشیر نے جو امریکہ سے ان کے ساتھ ہی آئے تھے ٹیلی فون پر میری بات کروا دی۔ان کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ یہ کچھ آئین کی منظوری اورمسلح کارروائی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کب آ سکتے ہو ۔ میں نے کہا دو گھنٹے میں۔ وزیر اعظم ہاؤس کے گیٹ پر انتظار ہو رہا تھا۔ فوری طور پر مجھے ایک کمرے میں داخل کر دیا گیا جس کے ایک کونے میں بھٹو شہید ایک چھوٹی سی کرسی پر علامہ اقبال کی تصویر کی طرح ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے انگریزی میں کہا یہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ آئین کی یک طرفہ منظوری ہوئی تو مسلح کارروائی کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا پھر کیا ہوا۔ میں نے کہا مجھے خبر شائع کرنے کی اجازت دیں۔ ایک لمحے کے لیے سوچ کر انہوں نے کہا اس سے ہراس پھیل جائے گا۔ میں نے کہا کم ازکم لوگ اپنی حفاظت کا بندوبست تو کر لیں گے۔ چند ثانئے کی خاموشی کے بعد کہا مجھے ایک دن دو اور ملاقات ختم ہو گئی۔ دن بھر میں کافی بے چین رہا۔ سرشام لاہور سے دوستوں نے خبر دی کہ مولانا ظفر احمد انصاری اور گورنر مصطفےٰ کھر امیر جماعت اسلامی مودودی صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے ہیں۔ اگلے دن آئین کے مسودے کی ریڈنگ آگے بڑھنے لگی۔ آئین متفقہ طور پر منظور ہو گیا تاہم اس پر پیپلز پارٹی کے اپنے وزیر دفاع علی احمد تالپور جو پیر پگاڑا کے مرید تھے' عبدالحئی بلوچ اور اجمل خٹک کے دستخط نہیں تھے جو ملک میںنہیں تھے۔ 

متعلقہ خبریں