دائرہ کار کا مکالمہ

دائرہ کار کا مکالمہ

چیئرمین سینیٹ رضاربانی کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو، عدلیہ اور پارلیمان کو آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا،کوئٹہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ سب سے کمزور ترین ادارہ پارلیمان ہے، انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ریاست کی اولین ترجیح شہریوں کے جان ومال کا تحفظ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل ایگزیکٹو پارلیمان پر حملہ آور ہوتی ہے، ایگزیکٹو عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کرتی ہے، عدلیہ پارلیمان کے کاموں پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے،چیئرمین سینٹ نے کہا کہ عوام کے نمائندے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں ہوتے ہیں، کبھی پارلیمان کو مارشل لاء کی ضرب سے ختم کیا جاتا ہے،جب جمہوری قوتوں نے آمر کے خلاف جدوجہد کی اور 58ٹو بی کو ختم کیاگیا تو ایک اور طریقہ سامنے آ گیا، نہیں چاہتا کہ اداروں میں کوئی محاذ آرائی ہو، جس ڈگر اور نہج پر آج ملک اور وفاق کھڑا ہے اس میں محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ ایگزیکٹو ، عدلیہ اور ملٹری بیورو کریسی کے انٹر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا دل چاہتا ہے پارلیمان پر چڑھ دوڑتا ہے، سینیٹ ان تمام اداروں کو دعوت دیتی ہے کہ آئیں اور مل کر کام کریں۔1973کے آئین میں وضع کئے گئے راستے کو اختیار کرنا ہو گا۔ دریں اثنا سابق آمر جنرل(ر)پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ عوام کو ملک کی ترقی اور خوشحالی چاہیے انہیں جمہوریت یا آمریت سے کوئی غرض نہیں، پاکستان میں فوج ملک کو پٹڑی پر لاتی ہے جبکہ سویلین حکومت اسے اتار دیتی ہیں۔سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو ہٹانے کا اختیار عوام کو ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ آئین مقدس ہے لیکن آئین سے زیادہ قوم مقدم ہے، ہم آئین کو بچاتے ہوئے قوم کو ختم نہیں کر سکتے لیکن قوم کو بچانے کے لیے آئین کو تھوڑا سا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے سابق ڈکٹیٹر نے کہا کہ ایشیائی ممالک میں ترقی صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہوئی اور پاکستان نے ہمیشہ فوجی قیادت میں ترقی کی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو خوشحالی نہ ملے تو الیکشن یا آزادی بے سود ہے، ڈکٹیٹروں نے ہر مرتبہ ملک ٹھیک کیا جبکہ سویلینز نے بیڑہ غرق کیا۔پرویز مشرف نے کہا کہ عوام کو جمہوریت یا آمریت، کمیونزم یا سوشلزم اور بادشاہت سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا، ملک کو ترقی جبکہ عوام کی خوشحالی چاہیے، عوام کو روزگار، خوشحالی اور سیکورٹی چاہیے۔پاکستان میں مارشل لا لگانے کے حوالے سے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ملک میں جب بھی مارشل لا لگائی گئی یہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا۔چیئر مین سینیٹ رضاربانی اور سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بیانات کا تقابل اس لئے مقصود نہیں کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ایک جمہوری سوچ رکھنے والے ٹھنڈے مزاج کے معتدل سیاستدان ہیں وہ قانون دان اور دانشور بھی ہیں۔ سابق آمر کابیان چیئر مین سینیٹ کے ایک ایسے بیان کا جواب نہیں ہو سکتا جس میں انہوں نے جاری صورتحا ل میں رابطہ کار ہونے کی پیشکش کرکے مکالمہ کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ملک میں وزیر اعظم کی نااہلی اور تبدیلی کو بظاہر جو بھی محسوس کیا گیا لیکن ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے کوئٹہ میں وکلاء سے خطاب میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا اس کے بعد ایک نیا منظر نامہ دکھائی دیتا ہے جس میں وزیر اعظم کی نااہلی اور حکومت کی تبدیلی سے کہیں بڑھ کر اس فیصلے کے اثرات و مضمرات کو محسوس کیا گیا ہے ۔ سابق وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے بھی پریس کانفرنس میں اداروں کو ایک دائرہ کار میں کام کرنے کا پابند بنانے کی بات کی تھی ۔ چیئر مین سینیٹ نے مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک قدم آگے بڑھ کر مکالمہ شروع کرانے کی پیشکش کر کے اور پارلیمان کی کیفیت و حالت کے تذکرے سے ایک سنجیدہ باب کھول دیا ہے۔ اس امر میں شبے کی گنجائش نہیں کہ وطن میں ادارے ہی نہیں سیاستدان ، بیورو کریسی اور افراد کی حد تک اپنے کام میں تساہل و غفلت لیکن دوسروں کے کاموں میں مداخلت بے جا کا رواج ہر سطح پر ہے اور یہ المیہ ہے کہ اس میں کمی نہیں آتی ۔ حالات بدل جانے کے باعث اگر کسی سطح پر معاملات کا تدارک سامنے آتا ہے تو ایک نیا راستہ کھول دیا جاتا ہے ۔ اس عمل کو اگر ارتقا ء کا سفر گردانا جائے تب بھی اس عمل کو اب مکمل ہوجانا چاہیئے اور کوئی ایسی صورت باقی نہیں رہنی چاہیئے جو تضادات کا باعث ہو ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں پر تنقید پارلیمان میں سیاسی عناصر کا کردار و عمل اور آئینی و جمہوری اداروں اور عوامی نمائندوں کی عوام کے مسائل کے حل میں ناکامی واضح اور اس بارے میں دورائے نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدان جب سنجیدگی کے ساتھ چلنے لگتے ہیں تو سیاسی و حکومتی نظام میں مداخلت سے سارا گھر وندا ریت میں مل جاتا ہے یا ملا دیا جاتا ہے ۔ وطن عزیز میں اس عمل میں اداروں کا کردار اداروں کے فیصلے اور ان کے اثرات و مضمرات ہی قابل تشویش نہیں خود سیاسی عناصر بھی این آر او سے نہیں چوکتے۔ باہم محاذ آرائی کے بعد طاقت کے حاملین غلبہ تو پالیتے ہیں مگر جب حالات کی ناموافقت ان کو کمزوری کا شکار بنادیتی ہے تو راستے کی تلاش میں پھر کمزوروں سے معاملات ہوتے ہیں اور ان کو راست نکلنے کا راستہ مل جاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی عناصر بھی ڈیل اور ڈھیل بوقت ضرورت حاصل کرتے ہیں ۔ اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ملک میں مصلحت اور منفعت کی سیاست اقتدار پر زبردستی براجمان آمروں کے اقدام سے زیادہ مختلف نہیں جب جانبیں کا مطمح نظر اقتدار اور طوالت اقتدار ٹھہر ے تو پھر آئین کی چھتری تلے جمہوریت کے نام پر اور اس کا راگ الاپ کر ہو یا طاقت کے بل بوتے پر حصول اقتدار کے بعد عدالتی فیصلے پارلیمنٹ سے موافق قانون سازی اور این آر او کے ذریعے بحفاظت اخراج کا راستہ اختیار کرنے میں زیادہ فرق نہیں۔اس ساری صورتحال میں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ، عوام کے مفادات کی ترجیح ملکی وقار کا خیال اور جائزو قانونی اقتدار ہی ملک کو مسائل کے بھنور سے نکالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ سیاستدانوں کی تمام اغلاط سے قطع نظر ملک میں جمہوریت کا استحکام اور جمہوریت کو چلنے دینا وہ بنیادی ضرورت ہے جسے ہر سطح پر محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے تئیں وطن عزیز میں میثاق جمہوریت سے ملک میں سیاسی سنجید گی و متانت کا جودور شروع ہواہے گو کہ اس کے استعمال پر بھی بات ہو سکتی ہے مگر اس کے بہرحال مجموعی طور پر ملک میں سیاسی فضا اور سیاسی جماعتوں میں حصول اقتدار کی رسہ کشی ساز شوں اور آمروں کی اعانت و حمایت اور ان کے اشاروں کی بجائے عوام کے مینڈیٹ پر آنے اور اس پر پورا اترنے کی روایت پڑی ۔ جس کے نتیجے میںجمہوری حکومتیں مضبوط ہوئیںاور مدت اقتدار پوری کرنے کی امید بر آئی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک قانونی فیصلے سے وزیر اعظم کے نااہل ہو جانے کے بعد اگلے قانونی و آئینی مراحل جس انداز میں طے ہوئے اگر میثاق جمہوریت اور وفاداریاں تبدیل کرنے اور خریدنے سے گریز کا سیاسی کلچر راسخ نہ ہو چکا ہو تا تو حالات مختلف ہوتے۔ چیئرمین سینیٹ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور جو پیشکش کی ہے اس پر تمام فریقوں کوغو ر کرنے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیئے کہ وطن عزیز بار بار ایسے حالات سے نہ گزرے جن سے بچنا ممکن ہو ۔ پارلیمان کو مضبوط بنانا اور جمہوریت کا دفاع پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے جس میں ان کو عوام کی بطور مینڈیٹ اور انتخابات کی صورت میں بھر پور حمایت حاصل ہے۔ پارلیمان اس وقت ہی مضبوط ہوگی جب سیاستدانوں پر بد عنوانی واختیار ات کے غلط استعمال کا الزام نہ لگے ۔ سیاستدان حق حکمرانی کا استعمال آئینی حدود میں کریں اور کمزور کر دینے والے اقدامات سے از خود بچنے کی سعی کریں اور کوئی راستہ نہ چھوڑیں تو کوئی وجہ نہیں کہ طالع آزمائوں کو موقع اور راستہ مل جائے ۔

متعلقہ خبریں