ضد ،انا اور آبرو کی سیاست سے گریز کیا جائے

ضد ،انا اور آبرو کی سیاست سے گریز کیا جائے

ایک سیاسی جماعت کی خاتون ممبر و قومی اسمبلی کی جانب سے پارٹی چیئرمین پر لگائے گئے بہتان پر سیاست تو قابل مذمت ہے ہی ہمارے تئیں ان الزامات کا جواب اور صفائی کی بجائے اگر اس پر خاموشی اختیار کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ کوئی بھی فریق خواہ وہ الزام لگانے والی ہو یا الزام پر صفائی پیش کرنے والے چونکہ فی الوقت دونوں کے پا س پیش کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں اور نہ یہ کوئی ایسا معاملہ ہے جسے کریدا جائے اس کو موضوع بحث بنا نا باعزت افراد کیلئے مناسب نہیں یہ ایک ایسا کیچڑ ہے جسے جتنا اچھا لا جائے اتنا گند پھیلے گا۔ قطع نظر گندی سیاست کے ، اس سے ہمارے معاشرے پر کیا اثرا ت مرتب ہوں گے کیا باعزت گھرانوں میں والدین اس کی کہانی کی بحث کواپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیں اور سنیں گے یقینا نہیں ۔ معاشرے میں فاحشات کا تذکرہ ہی اس کی ترویج کے زمرے میں آتا ہے اور بہتان تراشی کے بارے میں جو واضح آیات مبارکہ موجود ہیں اور ازروئے شرع اس طرح کے معاملات بارے جو تعزیر مقرر ہے اگر ان پر نظر ڈالی جائے تو کلمہ گو اس موضوع پر بات کرنے سے ہی احتراز کرے گا ۔ دین اسلام میں برائی اور برے کی پردہ پوشی کی تعلیم ملتی ہے اور یہی روا ہے باقی سب لغواور گناہ بے لذت ہے ۔ اس طرح کے معاملات کا حل عدالتوں سے بھی نکلے تو رسوائی ہی حصے میں آتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ سیاستدان اور میڈیا اس موضوع سے احتراز کریں البتہ علاوہ ازیں بد عنوانی ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اس جیسے معاملات پر فاضل رکن اسمبلی کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیئے ۔ خود اپنی صفوں سے اٹھ کر الزام لگانے کی وجوہات جو بھی ہوں یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس کی تحقیقات اور حقائق کا سامنے لانا مذکورہ جماعت ، حکومت ، عدلیہ اور سول سوسائٹی کا اس ضمن میں کردار ایک بنیادی فریضہ اور ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی اور تاخیرکی گنجائش نہیں ۔ سیاست اگر مالی منفعت مفادات کا شکار ہوئے بغیر اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے انسانی خدمت اور حقیقی نمائندگی کے طور پر کی جائے تو یہ عبادت سے کم نہیں۔ اسے ضد ، انا اور آبرو کی سیاست بنانے سے رسوائی و بد نامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔

متعلقہ خبریں