نیاوزیر اعظم

نیاوزیر اعظم

پانامہ سو نا می کے جھکڑوں کے بعد ایک اورنیا سونامی عائشہ گلا لئی کا ہل چل مچا رہا ہے مگر بعض سیا سی جما عتو ں اور قوتوں کے لیے ایک اور بھی سونامی آیا ہے جس کو بادوبہا راں سونا می کہا جاسکتا ہے کہ نیا وزیر اعظم کون ہوگا ؟یہ الجھا ؤ اب ختم ہو چکا ہے البتہ ایک نئی شنوائی ہے جو ملک کے لیے سود مند ہے وہ یہ کہ مسلم لیگ نے اس امر پر غور شروع کر دیا ہے آئند ہ انتخابات کی مدت کے لیے زیا دہ سے زیادہ سال ڈیڑھ سال رہ گیاتو اس میں پھر نئی تبدیلیا ں لا نے کی ضرورت نہیں ، موجودہ وزیر اعظم باقی مدت کے لیے اپنے عہد ے پر متمکن رہے تو بہتر ہے ، یہ اچھی سو چ ہے ، ویسے بھی سیاسی قیادت کو کسی سرکا ری یا پارٹی عہد ے کی ضرورت نہیں ہو ا کرتی۔ برصغیر پا کستان میں ا س کی تین عمدہ مثالیں مو جو د ہیں ایک جماعت اسلامی ہے۔ مولا نا مودودی کو جو پارٹی میں احترام اور تکر یم حاصل تھا وہ مرتے دم تک بلکہ حقیقت ہے کہ اب تک حاصل ہے ۔ اسی طرح اے این پی کے سیاسی رہنما باچا خان رہے گو کہ وہ اس جما عت میں باقاعدہ شامل نہ تھے مگر جب بقید حیا ت تھے تب بھی اے این پی باچا خان کی پیر وی کرتی تھی اور ولی خان کو رہبر کی حیثیت حاصل تھی ، تیسری مثال کا نگر س کی ہے کہ مہا تما گاندھی پا رٹی کا عہدہ نہ رکھتے ہو ئے اور آزادی کے بعد کوئی سرکا ری عہد ہ قبول کر نے کے باوجود وہ کانگر س کے رہنما تھے اور ان کو قائد تسلیم کیا جاتا تھا ، تاہم جمہو ری اصول اپنی جگہ کا ر آمد رہے ۔ لا ل حویلی کے شیخو کا فرما نا تھا کہ پاناما فیصلہ آتے ہی مسلم لیگ کی شاخ بہا را ں سے باسٹھ پنچھی اڑ جائیں گے اور مشرف اتحاد لیگ پر جا بیٹھیں گے مگر اس کا الٹ ہوگیا ، یہ سیا ست میں ایک نیک شگو ن قر ار پاتا ہے ورنہ پاکستان میں تو راتوں رات ری پبلکن جیسی پارٹیاں ترتیب پائی جا تی رہی ہیں ،گویا مسلم لیگ ن میں ایک سیاسی جما عت ہونے کا جذبہ ابھر ا ہے ورنہ مسلم لیگ ن کے بارے میں یہ پکا پکا یقین ہوگیا تھا کہ یہ شریف خاند ان کا سیاسی کلب ہے اوران کی ملکیت ہے ۔ عبو ری دو ر کے لیے تبدیلی وزیر اعظم کی صورت میں نمو دار ہوئی گو اس کے بعض اچھے پہلو ہیںمگر وزیر اعظم کے انتخاب نے جمہوریت کے استحکام کے لیے نئے باب رقم کر دیئے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کسی کے اقتدا ر کو زوال آیا ہے تو اس پارٹی پر بھی زوال چھا گیا اور سیا سی قیادت گونا گوں مسائل سے دوچا ر ہوئی ہے مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ مسلم لیگ کے امید وار کو ووٹ دینے میں ایم کیو ایم پا کستان بھی شامل تھی حالا نکہ مسلم لیگ کے دور میں ان کے وزیر داخلہ نے امن واما ن کے حوالے سے ایم کیو ایم کے ساتھ جو سلو ک کیا اور پی پی کی ڈاکٹرعاصم کے حوالے سے جو دو ڑیں لگا ئیں اس میںکوئی گنجائش نہیں تھی مگر سیا ست میں کوئی بات حرف غلط تو ہوسکتی ہے مگر حرف آخر نہیں ہوسکتی ۔ شاہد خاقان عباسی کا انتخاب عبوری وزیر اعظم کی حیثیت سے ہو یا باقی ما ندہ مدت کے لیے ہو جا ئے ہر لحاظ سے بہترین انتخاب قرا ر پا تا ہے ، وہ پا رٹی کے ساتھ کسی طمع میں نہیں ہیں بلکہ اصولی سیاستدان کے کر دار میں ہیں۔ مشرف نے جب جمہوریت کا تختہ الٹاتھا اس وقت انہو ں نے نو از شریف پر جہا ز اغوا کر نے کا مقدمہ درج کیا تھا ،نو از شریف کے بعد جس شخص پر جہا ز اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا وہ شاہد خاقان عباسی تھے ۔ ان کو پہلے گرفتارکیا گیا اور اس دوران شاہد خاقان عباسی پر بے پنا ہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نو از شریف کے خلا ف وعدہ معاف گو اہ بن جائیں مگر انہو ں نے اس مو قع پر ہر سختی کو برداشت کیا اور وعدہ معاف گواہ نہیں بنے ، اس سے زیا دہ معتمد ساتھی کون ہو سکتا ہے ، شیخ رشید اس موقع پر کچھ عرصہ لا تعلق رہے پھر جا سوسی کی غر ض سے مسلم لیگ ن کے اجلا سو ں میںکچھ دن شرکت کی چہر ہ عیاںہو چکا تھا اس لیے پذیرائی نہیں ملی تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی عوامی مسلم لیگ بنالی تھی ۔ نواز شریف نا اہلی کے بعد جب پارلیمانی پا رٹی کے اجلاس میںشرکت کے لیے آئے تو باسٹھ پنچھیوں کی اڑان افسانہ ثابت ہو گئی اور مسلم لیگ کا ایک نیا روپ بھی سامنے آیا کہ مسلم لیگ ماضی کی سیا سی کلب نہیں ہے بلکہ وہ ایک سیا سی جماعت بن گئی ہے اور پوری طر ح متحد ہے اس میں سے کسی مشرف یا ق لیگ نے جنم نہیں لیا سیا ست میں یہ عمدہ مثال قائم ہو ئی ہے ۔مسلم لیگ ن کی پا رلیمانی پارٹی کے اجلا س میں نو از شریف نے خوبصورت انداز میں اپنی برطرفی پر تبصرہ کیا کہ ان دکھو ں نے ان کو نظریاتی سیا ست دان بنا دیا ہے ، گویا اب ان کی سیاست نظریا ت کے گر دگھومے گی۔ اگر وہ اس پر ثابت قدم ہو جا ئیں تو یقینا اس سے ملک میں جمہوریت کا استحکا م حاصل ہوگا اور سیا سی جما عتیں بھی خاندانی سیا ست کے گھن چکر سے نکل جائیں گی ، ساتھ ہی غیر جمہو ری قوتو ں کی کمر بھی ٹوٹ پائے گی ۔ اسی خاندانی اور شخصی سیا ست کی بدولت غیر جمہوری قوتوںکو غذا حاصل ہو جاتی ہے اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا ۔سال ڈیڑھ سال کے لیے نئے وزیراعظم کا چنا ؤ ان کے لیے اتنا سو دمند نہ ہو گا ، اس سے عوام میں غلط تاثر پھیلے گا ، جماعت اسلا می میں مو روثی قیادت یا سیا ست نہیں ہے وہ آج بھی ملک کی سب سے زیا دہ منظم جماعت ہے اور اپنے نظم کی وجہ سے نا قابل شکست ہے ، جماعت کے امید وارنے وزیر اعظم کا انتخاب لڑا جبکہ کہا جا تا ہے کہ جما عت کے امیر سراج الحق اس حق میں نہیںتھے مگر شوریٰ کا فیصلہ تھا چنانچہ امیر جما عت نے تسلیم کیا ، گو کہ ہر کوئی جانتا تھاکہ جماعت کو قابل ذکر ووٹ نہیںملیں گے ۔ لیکن یہ بہت بڑا فیصلہ تھا کہ جماعت نے ثابت کر دیا کہ وہ تحریک انصاف کی بغل بچہ پارٹی نہیں ہے کہ جس طرح یک طرفہ طور پر تحریک کے قائد نے امید وار نا مزد کردیا اس کو قبول کر لیا جائے ، جس کے بارے میںجما عت تحفظات بھی رکھتی ہے اور اپو زیشن سے ملنے کے الزام سے بھی بچنے کی غرض سے الیکشن میںحصہ لیا کہ اپنی سیا سی پو زیشن پو ری طرح واضح کردے سب سے حیر ان کن یہ امر رہا کہ عمر ان خان نے اپنے ہی نا مز د کر دہ امید وار کو ووٹ نہیں ڈالا۔ کیا وہ شیخ رشید کو اس کا مستحق نہیں سمجھتے تھے ۔

متعلقہ خبریں