اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

بارش برستی ہے تو یہ خیال آتا ہے کہ چلو اب موسم اچھا ہوجائے گا گرمی کا زور ٹوٹ جائے گا لیکن ساون کے اپنے انداز ہیں بارش چھاجوں برستی رہے یہ ٹس سے مس نہیں ہوتابھیگی ہوئی فضا ہر وقت موجود رہتی ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب اتنا ہوتا ہے کہ پسینہ بہتا نہیں بلکہ برستا رہتا ہے۔ موسموں کی بھی اپنی نفسیات ہوتی ہے ۔باہر کے موسم کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر بھی ایک موسم چلتا رہتا ہے۔ عزیز اعجاز نے کہا تھا

جیسا موڈ ہو ویسامنظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
یہ اندر کے موسم والی بات بھی بہت بڑی حقیقت ہے اگر دل مطمئن ہو تو باغ کی بہار بھی اچھی لگتی ہے اداسیوں کے ڈیرے ہوں تو پھر باغ کیا اور اسکی بہار کیا؟وطن عزیز میں غنیمت ہے کہ ہر قسم کا موسم دیکھنے کو ملتا ہے سردی میں شدید سردی، گرمی کی اپنی شدت ہوتی ہے بندے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اس کے دل دکھانے کے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ خزاں اور بہار بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔بات موسموں کے حوالے سے ہو رہی ہو تو دوسرے موسم بھی ذہن میں یکے بعد دیگرے آنے لگتے ہیں جیسے شادیوں کا موسم سیاست کا موسم!ہمارے یہاں ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بات سیاست کے موسم کا ذکر کیے بغیر مکمل نہیں ہوتی یہ وہ موضوع یا موسم ہے جو سال کے بارہ مہینے چلتا رہتا ہے۔ اس میں آج تک بہار دیکھنے میں نہیں آئی ہمیشہ گرمی ہی رہتی ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں کی نظر کرم ہمیشہ ہم پر رہتی ہے ہمیں اپنی زندگی جینے نہیں دیا جاتا۔ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جو کبھی عالمی خبروں کی زینت نہیں بنتے اپنا کھاتے پیتے ہیں اور چین کی بانسری بجاتے ہیں لیکن ہم بہت سے حوالوں کے ساتھ دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ہماری ہر بات ہرکام میں غیروں کی دخل اندازی ضرور موجود رہتی ہے ہمارے درمیان موجود ہمارے مہربان اس حوالے سے اپنا کردار خوب ادا کرتے ہیں جو کچھ یہاں ہوتا نظر آتا ہے وہ حقیقت میں ہوتا نہیں ہے آپ اسے نظر کا فریب کہیں یا کچھ بھی نام دے دیںمگر حقیقت یہی ہے کہ ہمیں بہت کچھ زبردستی باور کروایا جاتا ہے اور ہم آنکھیں بند کرکے سریلے سروں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔ہم نے میاں جی کے سامنے اپنے دل کی باتیں کھول کر اس لیے بیان کردیں کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں ہیں ؟میاں جی نے حسب عادت آنکھیں بند کرکے ایک لمبا سا سانس لیا پھر بڑے ڈرامائی انداز میں کہنے لگے جناب اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے سیاسی موسم میں گھن گرج کے ساتھ بارشیں برستی رہتی ہیںاب آج کل ہماری سیاست میں جو کچھ دیکھنے میں آرہا ہے یہ زبردست قسم کی سیاسی ہلچل ہے بڑی بڑی تبدیلیاں ہمارے سامنے ہیںکل نانبائی کی دکان پر اس حوالے سے زبردست بحث مباحثہ جاری تھا ہم نے وہاں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا کہ جناب آج جمہوریت کو کمزور کرنے کی جو بڑی بڑی باتیں کی جارہی ہیں اس میں سیاست دانوں کا بھی برابر کا حصہ ہے اور سیاست دان ہی اسے مضبوط بھی کرسکتے ہیں بس انہیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنا پڑے گا اقتدار کی ہوس سے اپنا پیچھا چھڑانا ہوگا۔ اگر آپ غور کریں تو سیاسی پارٹیوں میں سیاست مخصوص خاندانوں کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے ۔وزیراعظم کی رخصتی کے بعد ان کے بھائی کے لیے وزارت عظمیٰ کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اسی طرح پنجاب کے وزیر اعلیٰ اپنی سیٹ چھوڑیں تو پھر بیٹا باپ کی سیٹ پر براجمان ہوجائے گا۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ میں کوئی ایسا سیاست دان نہیں ہے جو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی جگہ لے سکے؟ صرف اپنے ہی خاندان کو نوازنا کیا معنی رکھتا ہے؟اسی طرح دوسری بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں میںبھی مخصوص خاندان ہی ارباب اختیار ہیں !ہم جمہوریت کے ترانے تو بہت الاپتے ہیں لیکن سچ مچ کا اصلی جمہوری کلچر ابھی تک ہمارے یہاں پروان نہیں چڑھ سکا۔ جمہوریت بھی مغر ب ہی سے آئی ہے وہاں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے وہاں سالہاسال تک کوئی خاندان کسی سیاسی پارٹی کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتا اور نہ ہی اتنا صاحب اختیار ہوتا ہے کہ اپنی مرضی کے فیصلے اپنی جماعت پر مسلط کرسکے وہاں بس اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔ سیاسی حکومتیں اپنی مدت پوری کرتی ہیں انتخابات ہوتے ہیںنت نئے چہرے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے ہیں اور پھر وقت آنے پر رخصت ہوجاتے ہیں دور نہ جائیے برطانیہ کی سیاست میں مسلمان سیاست دانوں کا کتنا اہم کردار ہے !پارلیمنٹ میں وہ اپنے حصے کا کردار کتنی خوبی سے ادا کررہے ہیںدراصل وہاں اصولی سیاست ہے !میاں جی اور بھی بہت کچھ کہتے لیکن ہم نے درمیان میں دخل درمعقولات کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی جو مثالیں آپ نے پیش کی ہیں وہ تو اپنی جگہ درست ہیں مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ ہمارے اور ان کے حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے ہمارا ووٹر اتنا باشعور نہیں ہے پھر انتخابات کی شفافیت پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں یہاں برادری اور علاقائی سیاست کا عمل دخل بھی بہت زیادہ ہے یہاں سیاست دان سے زیادہ اس کے سماجی میل جول کو اہمیت دی جاتی ہے۔اب جبکہ شاہد خاقان عباسی دو سو اکیس ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں اور پینتالیس دنوںکی وزارت عظمیٰ میں پینتالیس مہینوں کا کام کرنے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیںاور ان کا یہ کہنا بھی ہے نومبر کے بعد لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی تو چلیں آپ بھی دیکھیں اور ہم بھی دیکھتے ہیں کہ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ ۔

متعلقہ خبریں