الزامات اور کردار کشی کا موسم

الزامات اور کردار کشی کا موسم

مسلم لیگ (ن) کی تو پوں اور جاوید ہاشمی کی چھر ے دار بندوق کا رخ مستقلاً عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف ہے ۔ ہاشمی جانتے ہیں کہ اگر وہ 2014ء کے دھرنے کے دوران تحریک انصاف نہ چھوڑتے تو کچھ عرصہ بعد انہیں اس تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر پارٹی سے نکال دیا جانا تھا۔ تحقیقات اس الزام پر ہونی تھی کہ جاوید ہاشمی نے 2013ء کے انتخابی عمل کے دوران کچھ لوگوں سے ٹکٹوں کے اجراء کے لئے پیسے لئے اور کچھ مخالفین سے اس بات کا حق خدمت کہ پی ٹی آئی اس شخص کو ٹکٹ نہ دے جو انتخابی دنگل میں ان کے لئے مشکلا ت پیدا کر سکتا ہو ۔ رپورٹ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے پاس موجود ہے غالباً طویل ( ہاشمی والے معاملے میں ) خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے چند روز قبل کہا '' جو شخص پارٹی ٹکٹوں کے پیسے لیتا رہا ہوں ۔اس کی بات پر کیا اعتبار کروں '' ۔ کاش عمران خان ٹکٹو ں کی فروخت کے دوسرے مجرموں میاں محمود الرشید اور اعجاز چودھری کے خلاف ہی کارروائی کر دیتے تاکہ ابھی دو سال بعد جب انہوں نے ہاشمی کے معاملے میں بات کی توان کے موقف میں زیادہ وزن ہوتا ۔ جناب ہاشمی نے کتنے اور کن لوگوں سے پیسے لئے ان کے لئے کیا سروس مہیاکی اس بارے تفصیل سے آگاہی کے باوجود اس موقع پر بات نہ کرنا مناسب ہے ۔ وہ اب عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے جہاں تو بہ استغفار ضروری ہو جاتی ہے ۔ آگے بڑھنے سے قبل بدھ کو جاوید ہاشمی کے ساتھ ملتان میں پیش آئے نا خوشگوار واقعہ بارے یہ عرض کرنا از حد ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے ملتان پر یس کلب میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ نا مناسب ہے۔ گو خود ہاشمی بھی ساری عمر اپنے مخالفین کے لئے تند بیانی کا مظاہرہ کرتے رہے اور اب بھی وہ مختلف عوارض کے دبائو پر جو کرتے اور کہتے پھر رہے ہیں وہ نامناسب ہے ، عزت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر اگر دوسروں پر پتھرائو کیا جائے تو جواب میں پھول کوئی نہیں پھینکتا ۔ بات بات پر دوسروں کو کرپٹ اور ایجنسیوں کا آلہ کار کہنے والے شخص کو کبھی اپنے ماضی پر بھی نگاہ ڈال لینی چاہیئے ۔کیا ان کی مالی اور سماجی حیثیت یہی تھی( جو آج ہے ) جب وہ جنرل ضیاء الحق کی فوجی کابینہ میں آدھے سول وزیر ( وزیر مملکت برائے نوجوانان و ثقافت ) بنے تھے ؟۔ ملتان کے جس علاقے میں انہوں نے گھر بنایا 1977ء میںوہ اس کا خواب دیکھنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر نون لیگ کے مالکان نے انہیں 2014ء میں خواجگان کی جوڑی کی معرفت استعمال کیا ہے تو غصہ نون لیگ پر نکالیں ۔ سیاسی عمل یہ ہے کہ انہیں ضمنی انتخابات میں ملتان کے ووٹروں نے اس کے باوجود مسترد کر دیا تھا کہ پنجاب حکومت اور نون لیگ ان کی پشت پر کھڑے تھے ۔ نون لیگ کی توپوں کا مستقل نشانہ عمران خان ہیں ۔ تحریک انصا ف کے طرز سیاست اور عمران خان کے بعض مواقع پر انداز تکلم پر تحفظات کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے پاکستانی سیاست میں ناقابل چیلنج سمجھے جانے والے شریف خاندان کے لئے مشکلات پیدا کیں یہاں تک کہ نواز شریف جھوٹ بولنے اور اثاثے چھپانے کے جرم میں نااہل ہوگئے ۔ غالباً اس کا بدلہ چکا نے کے لئے نون لیگ نے امیر مقام ۔ حنیف عباسی ، دانیال عزیز اور پرویز ملک پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے یہ کمیٹی عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے سیاسی میدان میں مشکلات کھڑی کرنے کے ساتھ ہر وہ ہتھکنڈہ آزمائے گی جس کا نون لیگ کو 35سال کا تجربہ ہے ۔ اس کمیٹی کے مالیاتی معاملات خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر دیکھیں گے ۔ نون لیگ کی بدلہ سیاست کے انداز اور طریقوں سے واقف لوگ پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی عائشہ گلالئی کی تحریک انصاف سے علیحدگی اور عمران خان پر لگائے گئے سنگین الزامات اور پھر شریف خاندان کے حامی پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں اسے اچھا لے جانے کو منصوبہ سازی کا حصہ قرار دے رہے ہیں تو اس رائے کو یکسرمسترد کر دینا ممکن نہیں ۔ نون لیگ کی تاریخ ہمارے سامنے ہے وہ کیا کرتی ہے اور کس حد تک جا سکتی ہے اسے سمجھنے کے لئے 1988ء اور 1990ء کے ساتھ 1993ء کے عام انتخابات کے دنوں کو یا د کیجئے جب شرافت کی سیاست کی تلواریں زبانیں محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خلاف چلتی تھیں ۔ عائشہ گلالئی کے الزامات کو لے کر جو کمرشل لبرل اور اخلاقیات کے ٹھیکیدار پچھلے دنوں سے خواتین کے حقوق کاپرچم اٹھا ئے ہوئے ہیں انہوں نے کبھی دلشاد بیگم ، عائشہ احد ملک کی سماجی حقوق کے لئے تو آواز بلند نہیں کی تھی یہ انجمن محبان جاتی امراء اس وقت بھی خاموش تھی جب لاہور میں پنجاب پولیس نے تحریک منہاج القران کے باہر دو عفت مآب خواتین سمیت 14افراد کو شہید کردیا تھا ۔ گلالئی کے الزامات درست اور ان کے پاس ثبوت موجود ہیں تو بسم اللہ کر لیں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کروائیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے جو دو ست عائشہ گلالئی کے الزامات کو لے کر کلیجہ ٹھنڈا کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں وہ جناب زرداری بارے ڈاکٹر تنویر زمانی کے دعوے کو بھی چوں چراں کے بغیر مان لیں اسی طرح امیر حیدر ہوتی کے والد اعظم ہوتی بارے ایک خاتون نے مقدمہ کیاتھا اسے بھی حق دلوادیتے ۔ انصاف کی حمایت کا دورہ صرف مخالف لیڈر کے معاملے میں ہی کیوں پڑتا ہے ہمیں ؟ صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے نزدیک محترمہ گلالئی کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں وہ صر ف اس سوال کا جواب دے دیں کہ جس وفد کے ہمراہ انہوں نے آخری بار بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی تھی وفد کے سات میں سے تین افراد کا تعلق مسلم لیگ (ن) کی کس شخصیت سے تھا ؟ ۔

متعلقہ خبریں