اسے آغاز سمجھنا چاہیئے

اسے آغاز سمجھنا چاہیئے

میاں نواز شریف کی نا اہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ گزشتہ چند دنوں سے ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری سُر خیوں کی زینت بناہواہے۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو یہ انتہائی اہم اور تا ریخی فیصلہ قرار پایا ہے اور پاکستانی تا ریخ میں کسی وزیراعظم کے خلاف یہ اپنی نو عیت کا انوکھا فیصلہ ہے۔ملک کے طول و عرض میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے کا رکنا ن اور لیڈروں نے شُکرانے کے نوافل ادا کیے ۔اگر سیاسی جماعتوںپر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جیسے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں دوسری سیاسی پا رٹیوں سے ارکان آکر شامل ہوئے ہیں اسی طر ح پی پی پی سے سینکڑوں کی تعداد میں مفاد پر ست تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔مشرف کابینہ، قاف لیگ اور دوسری سیا سی پا رٹیوں کے زیادہ ارکان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے اور اسی طرح پاکستان پیپلز پا رٹی کے بڑے چھوٹے راہنماء تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ یہی حال اکثر و بیشتر دیگر جماعتوں کا بھی ہے ۔ ابھی ہمیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کو دیکھنا ہے کہ وہ شریف خاندان کا کتنا ساتھ دیں گے۔کیونکہ ماضی کا تجربہ یہ بتا تا ہے کہ نواز شریف پر جب بھی کڑا وقت آیا پا رٹی لیڈروں اور ورکروں نے ہمیشہ اُنکو تنہا چھوڑا ہے۔ اور ایک وقت تھا کہ محترمہ کلثوم نواز اکیلے شوہر کی رہائی کے لئے مظاہرے کرتی تھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور کون پارٹی کو خیر باد کہہ دے۔ تحریک انصاف میں بھی پاکستان پیپلز پا رٹی ، دیگر پا رٹیوں کے راہنماء اور اشرافیہ شامل ہوگئے ہیں ۔لہٰذا عمران خان کے لئے یہی لوگ اور منی ٹریل والا کیس کسی وقت بھی مصیبت بن سکتا ہے ۔ اور میرا خیال ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی خو شی عا رضی ثابت ہو گی کیونکہ جتنا میاں نواز شریف کا کیس خطر ناک تھا اتنا عمران کا بھی ہے۔جہاں تک احتساب اور سپریم کو رٹ کے اس فیصلے کا تعلق ہے تو یہ اچھی شروعات ہیں۔مگر بات یہاں نہیںرکنی چاہئے بلکہ جس جس پا رٹی کے قائدین اور بیوروکریسی نے ملک کو لوٹا ہے اُن کا بھی احتساب ہو،کیونکہ پاکستان کے عوام کسمپرسی کی جو زندگی گزار رہے ہیں اُس کے ذمہ دار ہمارے سیاست دان ، افسرشاہی، میڈیا ہائوسز اور اشرافیہ ہے۔ میں سراج الحق اور دوسرے کئی سیا سی پا رٹیوں کے سنجیدہ راہنمائوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ بلا امتیاز سب کا کڑااحتساب ہونا چاہئے۔ اور اگر سب کا احتساب نہ ہوا تو اس سے victimizationکا عنصر نمایاں ہوگا۔اگر دیکھا جائے تو اس وقت 2018ء کے انتخابات کے لئے حالات مو زوں نہیں ۔ کیونکہ انتخابات میں بدعنوان لوگ اور اشرافیہ اپنی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اور ما ضی کی طرح لوٹ کھسوٹ جاری رہے گی اور جس بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے وہ دم توڑ دے گی ماہر سیاسیات پروفیسر مختار احمدکا کہنا ہے جب تک ملک میں انتخابات کے لئے حالات سازگار نہ ہوں اورانتخابی اصلاحات نہ ہو ں عام انتخابات کرانے کی ضرورت نہیںسب سے پہلے انتخابی اصلاحات لائی جائیں تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہوسکے اور اسی کے نتیجے میں ایک دیانت دار قیادت ملک کو میسر آسکے ۔ سیاسی جماعتوں میں صحیح معنوں میںجمہوری کلچر فروغ دیا جائے جس کے لیے سخت قانون سازی کی جائے اور پارٹی کے اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے اور انتخابات بھی ایسے کہ عوام بھی اسے دیکھ سکیں نہ کہ اندر ہی اندر نامزدگیاں اور چنائو کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا جائے ۔ اس طرح سے سیاسی جماعتوں پرسے خاندانی لمیٹڈ کمپنیوں کا لیبل بھی اتر جائے گا۔اس سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی صحیح معنوں میں متعارف ہوگا اور کسی کوا پنی حدود سے تجاوز کرنے کی جرات نہیں ہوگی ۔ اور پارٹی سے آمریت کا خاتمہ ہوگا اس کے علاوہ احتساب کا نظام مزید سخت کرنا چاہیئے کیونکہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ۔ ملک میں سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہو تی ہے جس سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو تے جا رہے ہیں۔اس وقت ملک میں بے روزگاری ، صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث 13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، صفائی سُتھرائی ، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کا کوئی انتظام نہیں اور ان سب مسائل کے ذمہ دار ہمارے یہی سیاست دان ، اشرافیہ ، افسر شاہی ہیں جس نے اس ملک کو لوٹ لوٹ کر غیرت مند پاکستانیوں کو مجبور کیا۔میں اس کالم کی تو سط سے پاکستان کے پسے ہوئے عوام سے استد عا کرتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ نہ لڑیں بلکہ یہ اپنے لئے سو چیں کیونکہ ان لوگوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں کرنا سب کچھ ہم نے خود کرنا ہے ، بلکہ ہمارے خون پسینے کی کمائی پر یہ سیاست دان پل رہے ہیں اور ہمارا خون چوس چو س کر بیرون ملک اور اندرون ملک جائیدادیں بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں