صوبائی سیاست کے موجودہ تناظرمیں

صوبائی سیاست کے موجودہ تناظرمیں

ملکی سیاست کا دھارا پانامہ کے طوفان سے یکسر اپنی سمت تبدیل کرنے پر آمادہ ہے۔نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی حلف لے چکے ہیں۔ پانامہ پیپرزکیس کا دوسرا راؤنڈ شروع ہوچکا ہے ۔اسی دوسرے راؤنڈ میں جے آئی ٹی اورپانامہ فیصلے کے تناظر میںنیب کو شریف خاندان اور اسحاق ڈارپر چارریفرنسوں کی منظوری دے دی گئی ہے ۔حکمران جماعت اسی دباؤ کے ساتھ آگے بڑھے گی اور شہباز شریف کی وزارت تک رسائی کے عمل تک بہت سے نشیب و فراز سے گزرے گی ۔ساتھ ہی شہباز شریف کے پنجاب کی صوبائی سیٹ سے استعفیٰ کے بعد اپنے مضبوط گڑھ پنجاب میں اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے نئے ویر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی بہت اہم ہوگا۔شنید ہے کہ حمزہ شہباز کی صورت میں ایک نیا وزیراعلیٰ سامنے آنے کی توقع ہے ۔ اس صورت میں نون لیگ کوموروثی اور خاندانی سیاست کے طعنے بھی سننے کو ملیں گے لیکن میرااندازہ ہے کہ ان طعنوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حمزہ ہی کو وزیراعلیٰ منتخب کروایا جائے گاکیونکہ پنجاب پر یہ پارٹی اپنا ہولڈ کسی صورت نہیں کھونا چاہے گی ،دوسری بات یہ بھی ہے کہ صوبائی فیصلوں کا اختیار بہرحال میاں شہباز ہی کے پاس ہے جبکہ حمزہ شہبا ز پنجاب کے سیاسی ماحول سے اچھی خاصی آگاہی بھی رکھتے ہیں ۔یہ بات بھی مسلم لیگ نون خوب جانتی ہے کہ اس پارٹی کی بقاء بہرحال شریف خاندان کے ہی رہین منت ہے ۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوںمیں بڑی سیاسی ہلچل نہیں دیکھی جارہی سوائے خیبر پختونخوا کے ۔پختونخوامیں چونکہ پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت ہے اس لیے یہاں بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرات دیکھے جاسکتے ہیں ۔پی ٹی آئی جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی ہے اور اسی نعرے پر خیبر پختونخوا کے عوا م نے سب سے پہلے باور کیا اور ووٹ دیا ۔اب جبکہ حکومت آخری سال میں داخل ہوچکی ہے سو صوبائی حکومت پر بڑے منصوبوں کی تکمیل کاپریشر بھی زیادہ ہے ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پشاور کے بس ٹرانزٹ منصوبے کی چھ ماہ میں تکمیل اسی لیے چاہتے ہیں ۔دوسری جانب اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی کے اتحاد سے نکل جانے سے بھی موجودہ صوبائی حکومت فطری دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے ۔جبکہ وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھی اور صوبائی وزیر محمد عاطف اور شہرا م ترکئی وزیر اعلیٰ سے ناراض ہیں ۔اس ضمن میں صلح کی ابتدائی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں وزیر اپنا ایک پارٹی میں اپنا ایک حلقہ اثر رکھتے ہیں اور ساتھ ہی عمران کے نزدیک بھی ہیں ۔عمران خان بھی اس ساری صورتحال کو سمجھتے ہوئے واضح الفا ظ میں کہہ چکے ہیں کہ پرویزخٹک ہی صوبے میں کپتان ہیںگویا پارٹی ارکان کے لیے یہ ایک قسم کا اعلان ہے کہ پرانی تنخواہ پر ہی کام کرو۔یوں پارٹی کے اندر کسی بھی تبدیلی کو خارج ا ز امکان ہی سمجھاجاسکتاہے ۔پارٹی قیادت اس موقع پر کسی بھی قسم کا ایڈونچر نہیں کرے گی کہ اگلے الیکشن کو وقت بہت کم ہے اور کام زیادہ ہے ۔البتہ عائشہ گلالئی طرز کے مزید حملوںکی توقع کی جاسکتی ہے۔کیونکہ موصوفہ نے دو دھاری تلوار چلانی کی کوشش کی ہے ۔ ایک طرف عمران خان کو اخلاقی حوالوں سے ٹارگٹ کیا ہے اور دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں ۔ الزامات کی حیثیت اس وقت تک نہیں بنتی جب تک کہ ثبوت فراہم نہ کیے جائیں ۔سو عائشہ گلالئی کا پارٹی چھوڑنے اور اس ضمن میں ہونے والی ہاؤ ہوٹی وی چینلوںکے لیے مصالحہ دار چاٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔البتہ صوبائی حکومت کو اصل خطرہ مولانا فضل الرحمان ، امیر مقام اور آفتاب خان شیرپاؤ سے ہوسکتا ہے ۔اگر یہ تین بڑی قوتیں ایک ہونے کا فیصلہ کرلیں اور اپنے ساتھ آزاد ارکان کو ملا لیں تو وزیر اعلیٰ کے لیے مشکلا ت کھڑی کرسکتے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں یہ تاثر بھی ہے کہ اس موقع پر حکومت اگر گر بھی جاتی ہے تو اسے عوامی ہمدردیاں حاصل ہوسکتی ہیں ،لیکن جس انداز کی جارحانہ سیاست آج کل چل رہی ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالاتین پارٹیاں اپنا یہ کارڈ ضرور کھیلیں گی۔اس صورتحال میں اے این پی شایدکھلم کھلا حصہ نہ لے کہ اس پارٹی کی حکمت عملی اگلے الیکشن میں بھرپور قوت دکھانا ہوسکتی ہے ۔لیکن سیاست میں کوئی بات بھی حتمی نہیں کہی جاسکتی ۔اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی کافی مطمئن ہوگی ۔ ایک طرف تو وہ حکومت میں موجود ہے دوسری طرف وہ پانامہ کیس کا کریڈیٹ بھی لے رہی ہے اور تیسری طرف موجودہ سیاسی منظر نامہ میں اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے ۔ اس صورتحال میں کہ جب الیکشن میں چند مہینے باقی رہ گئے ہیں ، جماعت اسلامی کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔ اب یہ پارٹی پوری قوت سے پی ٹی آئی پر اپنا دباؤ ڈال سکتی ہے ۔خاص طور پر خیبر بنک کے مسئلے پر وہ فیصلہ کن وار کرسکتے ہیں۔ سیاست اسی اتار چڑھائو کا نام ہے ۔ انہی نشیب و فراز سے گزر کرسیاست دان اور پارٹیاں اپنے اہداف حاصل کرتی ہیں ۔کسی پارٹی یا سیاست دان کی چھوٹی سی غلطی دوسری پارٹی یا سیاست دان کو فائدہ پہنچا سکتی ہے ۔اس ساری صورتحال میں جو رجحانات دیکھنے کو آرہے ہیں ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اپنی حکومت کا بقیہ وقت کھینچ جائیں گے ۔ لیکن کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نبٹنے کے لیے پارٹی کے ایم پی ایز کو ایک پیج پر ہرحال میں لانا ضروری ہوگا۔اب اس کام میں خود عمران خان بھی ضروراپنا کردارادا کریں گے ۔کیونکہ کوئی بھی جنگ ہو سب سے پہلے گھر کی دیواریں مضبوط کرنی ہوتی ہیں ۔

متعلقہ خبریں