تضادات سے گریز کی ضرورت

تضادات سے گریز کی ضرورت


اچھی حکمرانی کی ضرورت واہمیت سے انکار ممکن نہیں اچھی حکمرانی کا قیام تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے تمام شعبوں اور ارکان دولت میں مکمل ہم آہنگی موجود ہو۔انتظام حکومت پر تنقید ہونی چاہئے نیک نیتی کے ساتھ تنقید اصلاح کا راستہ دکھاتی ہے مگر جس تنقید کی بنیاد عناد اور غصہ ہو اس سے تضادات کا جنم لینا فطری امر ہوتا ہے۔ تنقید کھلے دل سے اور مدلل ہونی چاہئے۔ ایسی تنقید جو الزام تراشی نظر نہ آئے بلکہ مسلمہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت پر تنقید اور اچھی حکمرانی سے متعلق بحث میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس معاملے پر اس طرح کی بحث مناسب نہیں جس سے تضادات جنم لینے لگیں۔ وطن عزیز کے حالات کے تناظر میں ایسی کسی بحث کا چھڑناملک میں عدم ہم آہنگی دیکھنے کے خواہشمندوں کے لئے تسکین اور من حیث القوم فکر مندی کا باعث ہوگا۔ ریاست وحکومت حکمرانوں سے لے کرعدلیہ تک اور سرکاری مشینری سے وابستہ تمام جزوکل کا نام ہے جس میں تفریق کی گنجائش نہیں۔دستور پاکستان کے تحت جس جس کو جو جو ذمہ داریاں حوالے ہوں اس کی ادائیگی اور اطاعت لازم ہے ۔عدلیہ کا اپنا اور فوج کا اپنا بنیادی کردار ہے۔ پارلیمنٹ وحکومت کی اپنی ذمہ داریاں ہیں بیوروکریسی اور سرکاری مشینری کے بھی کردار وعمل کا تعین موجود ہے ۔ جہاں اجتماعی معاملات ہوں وہاں پر انفرادی معاملات کی اہمیت جزوی سے زیادہ نہیں اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ وطن عزیز کے جملہ معاملات کا حل اچھی حکمرانی میں پوشیدہ ہے جب اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں تو پھر ہمیں اس امر کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ معاملات میں بگاڑکا باعث کیا ہے۔ کیا ریاست کے سارے ستون اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی مصلحت اور کوتاہی کے تو مرتکب نہیں ہوتے۔ ملک میں انصاف ہو رہا ہے' انصاف مل رہا ہے اور انصاف کے تقاضے بلا امتیاز پورے کئے جا رہے ہیں۔ حکمران ملک و قوم کا ایک ایک پیسہ قوم کی امانت سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ سرکاری مشینری مستعد ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ان معاملات پر سر عام رائے زنی اور بحث کی گنجائش ہے مگر بعض حلقوں کا وقار اور عہدہ اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ نہ ان پر آزادی کے ساتھ انگشت نمائی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان سے کھلے عام غیر محتاط طرز عمل کی توقع کی جاسکتی ہے۔ فوج اور عدلیہ دو ایسے ادارے ہیں جن کا احترام و کردار مسلمہ ہے ان کے حوالے سے محتاط اور ادب' ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان دو اداروں کو عوامی سطح پر زیر بحث لانا اس لئے بھی مناسب نہیں کہ اس سے ریاستی اداروں کے درمیان عدم روابط کا تاثر جنم لیتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات پر درون خانہ بحث ومباحثہ اور اصلاح احوال کی سعی ضرورہونی چاہئے مگر عوامی سطح پر تضادات کا ذریعہ بنانے سے گریز کیاجائے۔ ایسا ہونے سے مرکزی نقطے سے ہٹنے کا خدشہ ہے جو ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ جس ملک کے بارے میںیہ عام تاثر پایاجائے کہ وہاں فیصلے آئین کے مطابق نہیں ہوتے وہاں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ وقت بحث میں صرف کرنے کا نہیںبلکہ نظام انصاف کو سہل بنانے اور بدعنوانی کی روک تھام سمیت جملہ شعبوں میں تطہیر پرمزید توجہ کی ضرورت ہے۔ معاملات میں بہتری تبھی ممکن ہے جب گورننس میں بہتری لانے سمیت اصلاح احوال کے مقصد کے لئے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور انتظامیہ سمیت تمام ذمہ دار ادارے اپنے اپنے دائرہ عمل میں اپنی اصلاح اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کا جائزہ لیں گے اور خود احتسابی کا عمل اپنائیں گے۔ بہتر یہ ہوگا کہ ابہام کی کیفیت پیدا کرنے سے احتراز کر کے کارکردگی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی پر توجہ مرکوز کی جائے خامیوں اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جملہ ادارے جاری بحث کو طول دینے کی بجائے یہیں ختم کریں گے تاکہ اصل مقصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور قوم نے سی پیک کی صورت میں ترقی کا جوخواب دیکھاہے وہ حقیقت بن کر سامنے آئے۔ بہتر ہوگا کہ تمام ریاستی ادارے ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا قائم کریں اور فرائض منصبی میں تعاون اور اعتماد کا مظاہرہ کیا جائے اور اگر اس دوران کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوجائے جو جمہوریت کے لئے ضرر رسانی کا باعث ہو تو معاملات کو بات چیت کے ذریعے بگاڑ کی کیفیت سے نکلنے کے لئے آئین سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ اختلاف رائے اور نکتہ نظر کا فرق کوئی غیر معمولی بات نہیں دنیا میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی بھی کوئی انوکھی بات نہیں اس کی تازہ ترین مثال صدر ٹرمپ کے اقدامات کو عدالتوں کی جانب سے رد کرنے سے پیدا شدہ صورتحال ہے۔ وطن عزیز میں جاری صورتحال گو معمول سے ذرا ہی زیادہ ہے لیکن اسے ہوا دینے والوں کی کمی نہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے جس کے باعث معمول کے معاملات بھی طول پکڑتے ہیں اور تاثر کشیدگی اور آمنے سامنے ہونے کا سامنے آتا ہے۔ وگرنہ صورتحال ہر گز ایسی نہیں جس پر کسی تصادم کا گمان گزرے۔

متعلقہ خبریں