تین نسلو ں سے مظلوم خاندان

تین نسلو ں سے مظلوم خاندان

طالب علم کو اپنی بے خبری پر اس وقت شدید صدمہ ہوا جب میرے ایک دوست نے بتایا کہ شریف خاندان پر اس ملک میں کیا کیا ظلم وستم ہوئے ۔ '' میاں نواز شریف کو تخت سے اتار کر کال کو ٹھٹری میں ڈال دیا گیا ۔ بیوی بچے بھائی نظر بند ہوئے ۔ معصوم نواسے کو نانا سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔ شریف برادران کو اپنے والد کے جنازے اور باقی ماندہ آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی اور ان کے نواسے نواسیوں کو پولیس گردی کا سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستانی سیاست کے اس مظلوم ابن مظلوم خاندان کی معصومیت ،بے وطنی ، جدہ اور لندن میں بے نوائوں کی طرح قیام اور دیگر مصائب سے دل بھر آیا ۔ بے اختیار ،سیدی ریاض حسین شاہ مرحوم یا د آئے ۔ کیا انداز تھا مصائب بیان کرنے کا بہر طوراب تو فقط اللہ کے حضور دعا کر سکتا ہوں کہ خاندان شریف پر ڈھائے گئے مظالم سے لا علمی پر گرفت نہ ہو ۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ عالی جناب نہا ل ہاشمی نے 28مئی کے یوم تکبیر (ایٹمی دھماکو ں والا دن ) پر کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ پھلجڑ چلائیں ۔ چند انار اور ایک دو پٹا خے ۔ 30مئی کو کراچی کے ایک دوست نے ان کی جگا گجر ٹائپ بڑھکوں بھری تقریر کا ویڈ یو لنک بھیجا یہ لنک طالب علم نے ٹویٹر اور فیس بک کے اپنے ا کائونٹس پر شیئر کر دیا ۔ 30اور 31مئی کی درمیانی رات نہال ہاشمی پر گراں گزری۔ سوشل میڈیا کی تقریباً ساری سائٹس پر ان کی تقریر کے لتے لئے جارہے تھے ۔ اوسط درجہ کے وکیل نہال ہاشمی کبھی مہاجر بہاری اتحاد کا حصہ تھے پھر مسلم لیگ (ن) کو پیارے ہوئے۔ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مسلم لیگ (سندھ ) کے جنرل سیکر ٹری بنے ۔ سینیٹ کے پچھلے انتخابات میں شریفین نے انہیں پنجاب سے سینیٹر بنوایا (جماعت اسلامی بھی تولاہور کے باشندے پروفیسر خورشید احمد کو سابق صوبہ سرحد حال کے پی سے سینیٹر بنواتی رہی ۔ پیپلز پارٹی نے خالص سیالکوٹی ، رحمن ملک کو سندھ سے سینیٹر بنوایا )۔ 28مئی کو انہوں نے ایٹمی دھماکوں کی یاد تازہ کرنے کی شعوری کوشش کی ۔ کیا اتنی بڑھکیں ،پھلجڑیا ں ، اناراور پٹا خے وہ مالکوں کی مرضی کے بغیر چلا سکتے تھے ؟ ۔ میرا جواب نفی میں ہے ۔ نہال ہاشمی کے بے حال نہال ہونے تک کے سفرکی روداد بہت طویل ہے پر میرا سوال یہ تھا کہ اگر نہال ہاشمی کشمیری النسل مہاجر پنجابی ہوتے ہوئے کیا اسی سلوک کے مستحق ٹھہر تے ؟ ۔ برادرم محفوظ جان نے سوال کیا پرویز رشید کے ساتھ کیا ہوا ۔ عرض کیا کچھ میڈیا ہائوسز کے مالکان ان کے درپے تھے موقع ملا تو ان مالکان نے کارندوں کے ذریعے ریاست کو باور کروایا کہ ڈان لیکس کا بڑا مجرم پرویز رشید ہے ۔ سوان کی وزارت چلی گئی ۔ اس حوالے سے چند باتیں اور بھی ہیں وہ پھر کبھی سہی ۔ اس دوران ایک اور دوست نے خاندان شریف کی اس معصومیت سے آگاہ کیا جس کے بارے میں خبر ہی نہیں تھی ۔ وہ اس تخت کے مالک تھے جس سے انہیں مشرف نے اتارا اور کال کوٹھڑی میں ڈال دیا ۔ مجھے مظلومیت کا وہ منظریاد ہے جب شریف خاندان سعودی عرب سے آئے ہوئے طیارے میں 21سوٹ کیسوں اور باورچیوں کے ساتھ چکلالہ ایئر بیس سے جدہ روانہ ہواتھا ۔ دسمبر 2000ء کی بات ہے ۔ 10سالہ معاہدہ جلاوطنی اس پر امن روانگی کا باعث بنا ۔ اس دن مجھے ذوالفقار علی بھٹو بہت یاد آئے ۔ کرنل قذافی ، حافظ الاسد اور یاسر عرفات کے علاوہ ایران کے شاہ رضاشاہ پہلوی ان کی جلا وطنی کے خواہش مند تھے ان چاروں نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق سے رابطے بھی کئے مگر امریکہ اس کے چند عربی و عجمی مرید بھٹو کو پھانسی چڑھوانا چاہتے تھے ۔ جانے دیجئے یہ کیا مقدمے لے کر بیٹھ گیا ۔ ہم خاندان شریف کی مظلومیت پر بات کر رہے تھے ایسی تعمیر و ترقی کسی مظلوم خاندان کو تاریخ میں نصیب نہیں ہوئی ہندوسندھ سے آگے دو ر کے دیسوں تک کاروبار پھیلا ہوا ہے ۔ لاہور کے وسط کے قریب 80روپے مرلہ کے حساب سے سینکڑوں ایکٹرز زمین مل جاتی ہے ۔ بینکوں سے معاملات طے کرنے کے لئے ماڈل ٹائون کی جائیداد سرنڈر کی تھی اقتدار میں آئے تو ٹو ٹ پھوٹ کے نقصان سمیت واپس لے لی ۔ نیشنل بنک کا 3ارب سے زیادہ قرضہ دیتاتھا۔ اس نادہند گی کے باوجود انتخابات میں حصہ لیا اقتدار سنبھالا اور پھر نیشنل بنک سے این او سی لے کر متعلقہ عدالت میںجمع کر دہ سرنڈر شدہ فیکٹریاں بھی واپس لے لیں ۔ لوہے سے دودھ اور ائیر کنڈیشن سے برائلر تک کے کاروبار پر اجارہ داری ہے ۔ سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے کچھ ارب ڈالر کے کمیشن کی باتیں ہیں انہیں جانے دیں ۔ اس مظلوم خاندان کے لگتے سلگتے اور درباریوں سمیت 31افراد اقتدار کے مزے لے رہے ہیں ۔ اقتدار گھر کی لونڈی دولت قدموں کی دھول ہے ۔ خریداری کا شوق جنون پر ۔ ہر وقت صدا دیتے ہیں۔ہے کوئی فروخت ہونے والا ۔ 1990ء 1997اور پھر 2013ء کے انتخابات میں نون لیگ مظلومیت کے بل بوتے پر ہی جیتی جھرلو پھیرنے کی باتیں غلط ہیں ۔ اب بھی اس خاندان کے معصوم بچوں کو عدالتوں اور تحقیقاتی ٹیموں کے سامنے گھسیٹا جارہا ہے ۔ جو وقت ببلو میاں نے تعمیر و ترقی پر صرف کرناتھا وہ پیشیو ں میں ضائع ہو رہا ہے کس کو احساس ہی نہیں ۔ عمران خان ۔ سوشل میڈیا مجاہدین ۔ پیپلز پارٹی ، لا لہ سراج الحق سارے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ اور تو اور وہ عبدالرشید المعروف شیخ رشید احمد بھی اس مظلوم خاندان کے ویری ہیں۔ اتنے سارے دشمنوں میں پھنسے شریف خاندان کے لئے جو بھی بولتا ہے اس کی کرسی چلی جاتی ہے ۔ پرویز رشید ، فاطمی ، نہال ہاشمی ، مشاہد اللہ خان ، چند اور بھی تیار ہیں ۔ ہمارے دوست ماسٹر مشتاق احمد بھی قربانی کا کفن پہنے کشتوں کے پشتے لگا رہے ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق ، دانیال عزیز ، طلال اور چند دوسرے پنجابی شہزادوں کی زبان دانیاں کسی کو بری نہیں لگتیں ، کیوں ؟ اس کا جواب نہ پوچھیں ۔

متعلقہ خبریں