وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

علامہ اقبال نے نہ جانے کس ترنگ میں آکر اپنے ایک مصرعے میں وجود زن کو کائنات کی تصویر میں رنگ قرار دیا۔ بس ہم ان کے اسی ایک مصرعے کو پکڑ کر کچھ ایسے بیٹھ گئے کہ زن بے چاری کو شمع محفل بنا کر ہی دم لیا۔ کیا شاہراہوں پر لگے قد آدم بل بورڈز اور کیا ٹیلی وژن پر چلنے والے الم غلم اشیاء کے اشتہار' ان سب میں عورت ہی سے رنگ آمیزی کی کوشش کی جاتی ہے۔ کل ہی کی بات ہے ہمارا چھ سال کا پوتا ایک اشتہار دیکھ کر ہم سے پوچھنے لگا۔ بابا اس آدمی نے بچے کی سائیکل کیوں بھگالی؟ اب ہم اسے کیا بتاتے کہ بیٹے اسے اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کی جلدی تھی۔ ظاہرہے اس کا دوسرا سوال ہوتا ' بابا یہ گرل فرینڈ کیا ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم اس اشتہار کی مزید گہرائیوں میں نہیں گئے۔ آگے کچھ نہیں کہا۔ ہم مگر اپنے قارئین کو آگے کی روداد ضرور سنانا چاہتے ہیں۔ جی ہاں! کئی روز سے کم و بیش ہر پرائیویٹ ٹی وی چینل پر ہر دو منٹ بعد کسی موبائل فون کے بیٹری کا اشتہار دکھایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اشتہار کا مقصد کسی بھی چیزکی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ لیکن بار باردکھائے جانے کی وجہ سے اس نوع کی کوئی چیز خریدنے کی بجائے اس پر لعنت بھیجنے کو جی چاہتا ہے۔ ہم سب کی بات نہیں کرتے مگر بیشتر اشتہاروں کامواد اس قدر بے ہودہ اور واہیات ہوتا ہے کہ اسے دیکھنا بھی ذوق سلیم پر بار گزرتا ہے۔ ہم بطور نمونہ بیٹری کے اس اشتہار کا قدرے تفصیل سے ذکر کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہمارے پوتے نے ہم سے سوال کیا تھا۔ ذرا اس اشتہار کا مواد ملاحظہ کیجئے۔ ایک نوجوان بڑی عجلت کے ساتھ خود کو بنانے سنوارنے میں مصروف ہے۔ پس منظر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے۔ آج کسی خاص ملاقات کی تیاری ہے؟ نوجوان اپنے موبائل فون کو آن کرکے کسی سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے' بیٹری کا چارج کم ہونے کی وجہ سے بات نہیں ہو پاتی۔
دوسری جانب کسی ریسٹورنٹ میں ایک لڑکی اپنے فون کی رنگ بجنے پر بڑے غصے سے پوچھتی ہے Where are you? تم کہاں ہو' جوان کی جانب سے مزید بات کرنے سے پہلے موبائل فون کی بیٹری کا چارج ختم ہو جاتا ہے اور وہ نہایت ہی جھنجھلاہٹ میں ہاتھ جھٹک کر باہر کی طرف بھاگتا ہے اس کے پریشان حال چہرے پر یہ ذو معنی مکالمے Overlap ہوتے ہیں۔ آپ تو چارج ہوگئے مگر تمہاری بیٹری کا چارج ختم ہوگیا۔ دوسری جانب کے منظر میں لڑکی سے کچھ فاصلے پر بیٹھا کوئی شخص اس کی طرف جام بڑھا کر اپنی جانب آنے کا اشارہ کرتا ہے ' لڑکی مسکراتے ہوئے اس کی دعوت قبول کرنے کا عندیہ ظاہر کردیتی ہے کہ وہ نہیں تو ہی سہی اب ایک بار پھر وہ نوجوان دکھایا جاتا ہے جو باہر نکل کر کسی گرائونڈ میں کھیلتے ہوئے بچے کی سائیکل اٹھا کر لے بھاگتا ہے۔
اشتہار میں بتایا جاتا ہے اب دوسرا منظر دیکھئے جوان اپنے موبائل فون میں دوسری بیٹری ڈال کر پورے اطمینان کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔ ڈیٹ کی تجدید ہوتی ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر بال سنوارتا ہے اور پھر ناظرین کو آنکھ مارتا ہے۔ دوسرے لمحے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نوجوان ریسٹورنٹ میں منتظر لڑکی کے سامنے بیٹھا حال دل سنا رہا ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلہ؟ چلئے اس بات کو جانے دیجئے من توشدم تو من شدی میں فاصلے باقی نہیں رہتے۔ ایک فضول سے اشتہار پر اس قدر تفصیل سے خامہ فرسائی پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ بتانا صرف یہ چاہتے تھے کہ یہ اشتہار اپنے Content کے اعتبار سے اول تا آخر حد درجہ بے ہودہ اور ذو معنی مکالموں سے بھرپور اور اس میں کچھ ایسے مناظر بھی ڈالے گئے ہیں جو ہمارے تہذیبی' معاشرتی اقدار اور اخلاقی معیار پر کسی طور پر پورے نہیں اترتے۔ آپ چارج ہیں' خاص ملاقات جسے مغربی معاشرے میں Dating کہا جاتا ہے اور دوسرے ایسے اشارے جن کاذکر بھی ہم نوک قلم پر لانا مناسب نہیں سمجھتے۔ ان سب کو مغرب کے بے لگام معاشرے میں تو جائز سمجھا جا سکتا ہے ہماری نئی نسل کے ذہنوں کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو خاص ملاقات کے لئے سائیکل چوری کرنے کا سبق دینا چاہتے ہیں؟ یہ صرف ایک اشتہار کی بات نہیں ببلو کا سائیکل پر کار کی بیٹری کسی گاہک کو پہنچاتے وقت بالکونی میں کھڑی لڑکی سے آنکھ مٹکا' مانع حمل گولیوں کے اشتہار' کچھ عرصہ پہلے تک چلنے والا ایک اشتہار جس میں کسی ویران جگہ پر بیٹھی ایک عورت اپنے مرد ساتھی کو ہتھیلی پر توانائی کے حصول کے لئے ٹیبلٹ رکھنا ' بلیڈ کے اشتہار میں خاتون کا مرد کے چہرے کی جانب ارمان انگیز نگاہوں سے دیکھنا۔ یہ اور اس نوع کے بے شمار بے ہودہ اشتہارات ہمیں ٹیلی وژن پر دکھائے جاتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر فلموں کی کہانی' مکالمے' منظر کشی اور پلاٹ میں دئیے جانے والے پیغام کا مثبت یا منفی ہونے کو جانچنے کے لئے سنسر بورڈ بنایاگیا ہے تو کیا پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے جن میں بیشتر کے ہمارے معاشرتی اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ان غلیظ بے ہودہ مواد کے اشتہارات کو جانچنے کے لئے کسی سنسر بورڈ کا قیام ضروری نہیں؟ یاد رہے کہ یہ اشتہارات نئی نسل کے ذہنوں کو پرگندا اور گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی پیش بندی وقت کا اہم تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں