بندگی اور روزہ

بندگی اور روزہ

گرمی اپنے زوروں پر ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ اللہ اپنے روزہ داروں کو اس گرمی کے روزے رکھنے پر کیا شاندار اجر دینے والا ہے ۔ جب دنیاوی زندگی میں کوئی اپنے دنیاوی مالک کے لیے سختی جھیلتا ہے تو مالک اسے انعام سے نوازتا ہے ۔اوور ٹائم اور بونس ملنے کے لیے انسان کتنی محنتیں کرتا ہے ۔ اللہ توبڑا حساب رکھنے والا ہے وہ بھلا گرمی کی شدتوں سے کیونکر واقف نہ ہوگا۔ بھلا وہ کیسے اپنے بندوں کو نہیں نوازے گا۔ بے شک اللہ انسان کی نیتوں کو جاننے والاہے ۔ اس بار رمضان جون میں ہی گزرے گا۔ جون اور جولائی پاکستان میں سخت گرم مہینوں میں سے ہیں۔ سولہ گھنٹوں سے زیادہ طویل روزہ اس گرمی میں سہانامشکل ہے مگر فرزندان توحید اسے ممکن بناہی لیتے ہیں اور یہی وہ رشتہ ہے کہ جوبندگی کہلاتا ہے ۔ بندگی یہی ہے کہ مالک کا حکم من و عن اور سرتسلیم خم کرکے حکم کو پوری روح کے ساتھ ماناجائے ۔مسلمانوں کی اس بندگی پر تمام جہانوں کا مالک بے شک خوش ہوتا ہوگااس خوشی کا انسان اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ رمضان کا مہینہ بے شک احتساب ذات کو موقع فراہم کرتا ہے جب انسان صرف اور صرف خوشنودی خدا کی خاطر بھوک اور پیاس اور موسموں کی شدت برداشت کرتا ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان تطہیر ذات کے عمل سے گزرتا ہے ۔ اس کے ساتھ منسلک عبادتیں انسان کو مزید شفافیت کی جانب لے آتی ہیں ۔ گیارہ مہینے اللہ سے دوری کے بعد ایک اور موقع انسان کو میسر آتا ہے کہ وہ اللہ کے قرب کے حصول کی جستجوکرے ۔ اللہ کی ذات انسان کے شعور میں سماتو سکتی نہیں کہ وہ ایک بے پناہ ذات ہے اور انسان کا عقل و شعور کا دائرہ اس کے مقابلے میں بہت محدود ہے ۔ اسی ذات کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں ایک چھوٹا سا نقطہ جسے ہم دنیا کہتے ہیں ،اس دنیا کی لذتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انسان ان میں ڈوب جاتا ہے ۔ اور کمال کی بات ہے کہ خود اپنی ذات سے غافل ہوجاتا ہے ۔ اور جب خود اپنی ذات سے غافل ہوجائے تو اپنی زندگی اور زندگی کے مقصد سے کیسے غافل نہیں ہوگا۔انسان اللہ کو پہچان لے تو اس سے بڑی لذت تو کوئی ہونہیں سکتی ۔ شاید کہ انسان اس کے سجدے سے اٹھنے سے بھی انکاری ہوجائے ۔مگر انسان ہے بنیادی طور پر غافل اور غفلتوں میں پڑجاتاہے ۔ انسان کی اسی کمزوری کو مدنظر رکھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کے ایک لاکھ چوبیس ہزار لگ بھک پیغمبر بھیجے کہ اسے اس کے مقصد حیات کی طرف بلایا جائے ۔ اور کیسے کیسے پاک نفسوں کو نبوت کی ذمہ داری بخشی گئی اور پھر ان شاندار انسانوں نے کیا کیا کردار پیش کیے کہ آج بھی انسانیت ان پر فخر کرتی ہے ۔ اور پھر ہمارے نبی عظیم الشان ،محمد ۖ کی حیات طیبہ کتنی شان والی بنائی اللہ نے کہ آپۖ کا نام گرامی ہی محبت کا شہد روح میں گھول دیتا ہے ۔ کیا شاندار حیات مبارکہ ہے اور کیا حسن اخلاق ہے کہ جو واقعہ بھی پڑھو اُن کے عشق میں مزید گرفتار ہوتے جاؤ۔ایسے ایسے انسانی کارنامے آپۖ کی حیات مقدسہ سے منسوب ہیں کہ ان پر رشک ہی کیاجاسکتا ہے ۔ مگر ساتھ ہی ایک فخر کا احساس بھی ہمراہ رہتا ہے کہ میں بھی اس پاک ذات کا امتی ہوں کہ جن کی ذات باصفاہے اور معصوم ہے ۔ اس زمانے کا سوچوتورشک آنے لگے ان صحابہ کبار پر کہ کیسی قسمتیں تھیں ان کی کہ ایسے عظیم المرتبت نبی ۖکے مصاحب رہے ۔ اور اسی صحبت پاک میں ایسی زندگیاں گزار گئے کہ جیسے پاک اس دنیا میں آئے تھے ویسے پاک ہوکر واپس چلے گئے ۔اور ایک ہم عاصی ہے کہ ان کی پیروی میں بھی کوشش کے باوجود آبلہ پا ہی رہتے ہیں ۔ جو قارئین حج اور عمرے پر تشریف لے گئے ہیں انہیں صحیح اندازہ ہوگا کہ وہاں گرمی کا کیا عالم ہوتا ہے ۔ حج کے د نوںہم جب مکہ سے مدینہ جارہے تھے تو ائیرکنڈیشن بس میں جب باہر کا نظارہ کرتے تو حیرت ہوتی کہ بے سرو سامانی کے عالم میںاس شدیدگرمی میں اور اتنی طویل مسافت طے کرکے نبی پاک محمدۖنے کیسے مکہ سے مدینہ حجرت کی ہوگی ۔ بے شک وہ بڑی ہستی تھیں کہ بڑے کام کرگئیں ۔ ہماری توچیخیں نکل جاتی ہیں ہلکی سی گرمی پڑجائے تو روزہ سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ روزہ بے شک ایک مشکل بدنی عبادت ہے جوفرض کی گئی ہے ۔ اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی ہر عبادت خود انسان اور سماج کے لیے فائدے لیے ہوتی ہے ۔ اللہ کی توحید کے فلسفے کو ماننے والوں کے لیے روزہ بے شک ایک فضیلت ہے کہ جو اپنی ذات کی غواصی پر مجبور کرتا ہے ۔ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کہ اس نے کیا کیا فعل بد کیے ہیں۔جن پر ندامت کا ایک موقع فراہم کرتا ہے روزہ ۔ ایک شاندار موقع ہے نفس کے بے وار گھوڑے کو قابو کرنے کا روزہ ۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب باتیں اس رمضان کے روزوں میں ہم پر وارد ہورہی ہیں اور ہم تذکیہ نفس کے مرحلے سے گزر رہے ہیں تو بے شک ہمارا روزہ اس روزے سے مطابقت رکھتا ہے کہ جو روزہ اس خالق لایزل نے ہم پر فرض کیا ہے ۔ اور اگر ہم نے اپنے باطن میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی ۔اپنے اردگرد کو محسوس نہیں کیا ،اپنی برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل ہوتا محسوس نہیں کیا تو شاید اس سے بڑاخسارہ اور کوئی نہ ہو۔ اور انسان تو ہے ہی خسارے میں کہ یہ اللہ کاقول ہے اور اللہ کا قول اٹل ہے ۔ ہاں مگر وہ لوگ اصلاح پاگئے ۔ اللہ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اس رمضان کی برکت ہمیں اس صراط مستقیم پر چڑھا دے کہ جسے تو صراط مستقیم سمجھتا ہے ۔ یااللہ ہمیں ان انسانوں میں مت اٹھا نا کہ جنہیں تو خسارے والے انسان کہتا ہے ۔ اے اللہ ہمارے وطن کو صحیح معنوں میں خوشحال وطن بنادے اور اس کے دشمنوں کو زیر کردے اور اس وطن کو امن کا گہوارہ بنادے کہ تیرے دربار میں کوئی کمی نہیں ہے کہ تو بے شک بڑی قدرت والا ہے ۔

متعلقہ خبریں