دھرناطویل ہوگیا ہے

دھرناطویل ہوگیا ہے

ہم اکثر زندہ اور مردہ معاشروں کے حوالے سے بات کرتے رہتے ہیں ایک مرتبہ کسی دوست نے ہم سے اس حوالے سے پوچھا تو ہمارا سیدھا سادا سا جواب یہی تھا کہ زندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں جن میں کسی کی بات سنی جاتی ہے کسی کی بداخلاقی پر ردعمل سامنے آتا ہے وہاں کی حکومت بے حسی کا شکار نہیں ہوتی صرف اپنے لیے زندگی نہیں گزاری جاتی بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے حقوق و فرائض کا خیال رکھا جاتا ہے اگر اختلافات ہوں تو ان پر بات کی جائے۔ مکالمے کی راہ ہموار کی جائے مگر مقام افسوس ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے یہاں نہیں ہوتا تمہید شاید طویل ہوتی چلی جارہی ہے بات کرنی تھی کالج اساتذہ کرام کے طویل ترین دھرنے کے حوالے سے! کالج اساتذہ کے دو چار دیرینہ مطالبات ہیں ایک یہ کہ دوسرے بہت سے محکموں کی اپ گریڈیشن ہوچکی ہے اور یہی اب گریڈیشن ان کا بھی حق ہے اور اس اپ گریڈیشن کا ان سے موجودہ حکومت بھی وعدہ کرچکی ہے اور 2005ئمیں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی کالج اور یونیورسٹی ٹیچرز کی اپ گریڈیشن کا اعلان کیا تھا یونیورسٹی اساتذہ کرام تو اپ گریڈ کردیے گئے لیکن کالج اساتذہ ابھی تک در بدر کی خاک چھان رہے ہیں۔یہ اساتذہ کرام پروفیشنل ٹیچنگ الائونس کا تقاضا بھی کرتے ہیں جو ڈاکٹروں کو دیا جاچکا ہے لیکن اس حوالے سے اساتذہ کرام کی بات کوئی نہیں سنتا اسی طرح لائبریرین اپنے سروس سٹرکچر کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں یقینا یہ ان کا بنیادی حق ہے مگر ان کی آواز بھی ناکام ہوکر واپس لوٹ آتی ہے کسی جگہ کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ ٹیچنگ اسسٹنٹ بھی فریاد کررہے ہیں کہ ہمیں مختلف کالجوں میں پڑھاتے برسہا برس بیت چکے ہیں اب تو مستقل کردو لیکن جواباًایک طویل خاموشی ہے !اس ساری سر دردی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پروفیسرز ایسوسی ایشن نے دھرنے کا فیصلہ کرلیا کہ چلو جمہوری اقدار اور جمہوریت کی دلدادہ حکومت کے سامنے ایک باوقار احتجاج کی راہ اپناتے ہیںتو دوستو باوقار اساتذہ کرام نے خاموشی سے اپنا بوریا بستر باندھا اور پشاور پریس کلب کے پہلو میں ایک فٹ پاتھ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ان کے ذہن میں یہی تھا کہ ہم ایک باوقار جمہوری معاشرے میں جمہوری حکومت کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں ضرور ہم سے ہمارے مطالبات کے حوالے سے پوچھا جائے گا۔ لیکن دوستو دھرنا طویل سے طویل تر ہوتا چلا جارہا ہے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جون کی گرمی اور پروفیسر صاحبان فٹ پاتھ پر بیٹھے آج تک اس انتظار میں ہیں کہ کوئی تو آکر پوچھے گا کسی کے دل میں معاشرے کے ایک باوقار طبقے کے لیے ہمدردی کے جذبات تو یقینا پیدا ہوں گے کوئی تو یہ سوچے گا کہ یہ تو وہی لوگ ہیں جن کی آغوش تربیت میں ہماری پرورش ہوئی کبھی ہم بھی کالج کے طالب علم ہوا کرتے تھے !مقام حیرت ہے کہ کسی نے ان سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں ؟ دھرنا جاری ہے جون کا سورج رمضان المبارک میں قہر و غضب برسا رہا ہے آسمان دور ہے اور زمین سخت ! بیچارا پروفیسر دھرنا دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے ! ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آخر ہماری تہذیب کو کس گائے نے کھا لیا ہے۔ ہم اپنی اقدار بھی فراموش کرچکے ہیں۔ اگر حکومت اساتذہ کرام کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو نہ کرے وضاحت تو کی جاسکتی ہے۔ اپنے حق میں دلائل تو دیے جاسکتے ہیں اساتذہ کرام کے ساتھ بات تو کی جاسکتی ہے ! ہم جمہوری حکومت کے دعویدار دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟کیا جمہوری معاشروں میں یہی کچھ ہوتا ہے ؟ان اساتذہ کرام کے ساتھ بات تو کی جاسکتی ہے کل پروفیسر عبدالحمید آفریدی اپنے خطاب میں بڑے افسوس کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم نے حکومت سے کوئی چاند ستارے تو نہیں مانگے !ہمارے دو چار مطالبات ہیں ان کے لیے صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں مگر کوئی ہماری بات سنتا ہی نہیں! اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ پروفیسرصاحبان کا یہ دھرنا رمضان المبارک کی شدید گرمی کی نذر ہوجائے گا تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ مہذب معاشروں میں ایسی باتیں بھلائی نہیں جاتیں۔ یہ دھرنا تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین یار محمد طوفان کہتے ہیں یہ حکومت وقت کے لیے بہت بڑا امتحان ہے یہی وہ وقت ہے جب آپ نے ثابت کرنا ہے کہ آپ سپورٹس مین سپرٹ کے حامل ہیں۔ آپ پروقار اور پرامن احتجاج کا بھرم رکھنا جانتے ہیں مکالمے کا بات چیت کا درازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے یہی تعلیم یافتہ معاشرے کا حسن ہے یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے ! یہ چند لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے اس میں سات ہزار خاندان شامل ہیں اس وقت سات ہزا ر خاندان پریشان ہیںہماری موجودہ حکومت نے ہر جگہ تعلیم کی بات کی ہے وہ تعلیم کے ذریعے تبدیلی لانے کی بات کرتی رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرے اور اساتذہ کرام کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرے!۔

متعلقہ خبریں