ان تلوں میں تیل نہیں

ان تلوں میں تیل نہیں

چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ اگر احتساب کے نئے قانون میں ججوں اور جرنیلوں کا احتساب نہیں کرنا تو اس کی کوئی ضرورت نہیں نیب کے قانون ہی میں کچھ تبدیلی کی جائے۔ سینیٹ میں ریاستی اداروں کے اختیارات کے دائرہ کار سے متعلق بحث پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے پاس ایک موقع آیا کہ سب کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے، لیکن دکھ ہوا کہ ججوں اور جرنیلوں کو احتساب کے دائرے میں نہ لانے کا باضابطہ فیصلہ کرلیا گیا، جبکہ دکھ ہوا کہ پیپلز پارٹی بھی سب کو احتساب کے دائرے میں لانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ جمہوریت کو کون کمزور کر رہا ہے، وسائل باہر چلے جائیں تو سیاسی جماعتیں منشور کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتیں۔مسلم لیگ (ن)کے سینیٹرسعود مجید نے کہا کہ ریاست کے تیسرے ستون نے سب سے زیادہ ملک پر ظلم کیا اور عدلیہ نے پارلیمنٹ کے اختیارات کو انکروچ کیا۔سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر ہر دور میں قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، ہمیں ہمیشہ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے ناراض ہوجانے کا ڈر رہا، جبکہ ہم ایگزیکٹو کی ایک آواز پر قانون سازی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں بھی قانون سازی ڈر کے باعث کی جا رہی ہے، ہم ایگزیکٹو اور عدلیہ کے سامنے جھکنے کے باعث کمزور رہے، ہم عدلیہ کی مداخلت کے بعد اپنا کام کرتے ہیں، عدلیہ کی جانب سے سوموٹو کے ذریعے دال اور چینی کی قیمتوں کا بھی تعین کیا گیا، عتیقہ اوڈھو کیسز جیسے معاملات کا بھی سوموٹو نوٹس لیا گیا، جبکہ ججز کی بحالی کے بعد عدلیہ نے ایگزیکٹو کے اختیارات بھی استعمال کیے۔سینٹ اراکین نے جن موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے وہ ایک آئینی ادارے کے اندر ان کی بحث اور اظہار خیال تھا جن پر تبصرہ سے گریز ہی مصلحت ہوگی۔ البتہ چیئر مین سینٹ رضا ربانی کا بیان ضرور قابل غور ہے کہ اگر نئے قانون میں ججوں اور جرنیلوں کا احتساب نہیں کرنا تو پھر نیا قانون بنانے کا مقصد بھی فوت ہوجاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے عوام طاقتور کا احتساب ہونے کے خوشگوار حیرت سے دو چار ہیں اچانک سے پیپلز پارٹی جو اس بل کی محرک ہے جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جو ملک میں بلا امتیاز احتساب کرنے کی علمبردار کے طور پر خود کو عوام میں پیش کرتی ہیں اور ایک طاقتور وزیر اعظم کو احتساب کے نام پر ہٹانے کا کریڈٹ رکھتی ہیں۔ ان کی یکایک ججوں اور جرنیلوں کو احتساب کے دائرہ کار میں لانے سے عملی دستبرداری سے ان کے احتساب کے مطالبے کی اہمیت خود بخود ختم ہوجائے گی اور ان کے مطالبے میں عوام کو وزن نظر نہ آنا فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں کوئی مقدس گائے اور کوئی مقتدر نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ سپریم کورٹ اور فوج کا احتساب کا ایک اپنا نظام ضرور موجود ہے لیکن یہ کافی نہیں بدلتے حالات میں انگشت کے اشاروں کو نیچے کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ نہ صرف ججوں اور جرنیلوں کو احتساب کے قانون کے دائرے میں لایا جائے بلکہ ان کا عملی احتساب ہونا بھی چاہئے۔ علاوہ ازیں میڈیا کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہئے تاکہ وطن عزیز میں کوئی ایک بھی ایسا شعبہ اور ادارہ باقی نہ رہے جو احتساب کے دائرہ اختیار سے باہرہو۔ اگر دیکھا جائے تو جج ‘ جرنیل اور جرنلسٹ ہی وہ برادری اور ادارے ہیں جن کی شفافیت اور راست گاری پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے والی چیز ہے۔ ان کا کردار جتنا صاف ستھرا اور انگشت نمائی سے بالا تر ہوگا معاشرہ میں تطہیری عنصر کا تناسب اسی قدر زیادہ ہوگا۔ ان اداروں کے احترام میں بھی مزید اضافے کے لئے ضروری ہے کہ یہ ادارے مثالی کردار کا مظاہرہ کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں میں شفافیت کا خیال رکھا جاتا ہے اور عوام ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن کبھی کبھار اس قسم کے کردار بھی سامنے آتے ہیں جو ان اداروں ہی کے نظام احتساب کی زد میں آتے ہیں اور ان کو نرم یا سخت سزا بہر حال ملتی ہے جبکہ ان اداروں کا احتساب کے قانون سے باہر ہونا اس سوچ اور اعتراض کے ابھرنے کا باعث بنتے ہیں گویا استفسار کرنے والا کوئی نہیں حالانکہ عملی طور پر ایسا ہے نہیں بنا بریں ان اداروں کو از خود اس امر کی پیشکش کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کو احتساب کے کسی قانون کی زد میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں تاکہ وطن عزیز میں نہ صرف احتساب کے ایک عملی دور کا آغاز ہوسکے بلکہ جن عناصر کا احتساب ہونے پر وہ انگشت نمائی کرتے ہیں اس کا بھی خاتمہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کو کسی طور احتساب کے قانون پر اعتراض نہیں اور نہ ہی کسی جانب سے اعتراض کا ایک لفظ کہا گیا ہے۔ ایسے میں یہ خود سیاستدانوں کے دل کا چور ہی ہے جو خود ہی مطالبات کرتے ہیں خود ہی بل لاتے ہیں اور آخر میں خود ہی دستبردار ہو کر صورتحال کو عوام میں مشکوک بنا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ وطن عزیز میں حقیقی احتساب کسی کا بھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ سیاستدانوں کا بھی نہیں فی الوقت جو منظر نامہ سامنے ہے اس پر بھی حقیقی معنوں میں احتساب کا یقین اس وقت ہی آئے گا جب احتساب کے عمل کی تکمیل تمت بالخیر کی بجائے الزامات کے ثابت ہونے اور سزائوں کی صورت میں سامنے آئے۔ نیب کو اگر عدلیہ کی طرف سے مردہ ادارہ قرار نہ دیاگیا ہوتا تو امید کی جاسکتی تھی۔ فی الوقت بھی نیب کے دوہرے کردار اور ابتداء میں بڑا شور سنتے تھے دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا کے مصداق معاملہ ہے اور ایسا ہی امکان ہے۔ سیاستدانوں کو دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنے کردار و افعال پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ سیاسی قیادت اور حکومتیں بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے پاک رہی ہیں اور کیا سیاسی جماعتیں واقعی حقیقی معنوں میں احتساب چاہتی ہیں اگر ایسا ہے تو پھر پیچھے ہٹنے کا کیا مطلب اور شور و غوغا کیسا؟ عوام کو اس طرح کے عناصر کی حقیقت بخوبی معلوم ہے۔ باشعور عوام اب میڈیا میں ڈرامہ بازی اور ایوان میں لفاضی اور سنجیدگی و متانت سے کسی معاملے پر ڈٹ جانے کا فرق جان چکے ہیں ان کو مزید بہلایا نہیں جاسکتا۔

متعلقہ خبریں