موبائل فون کے استعمال کیلئے ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت

موبائل فون کے استعمال کیلئے ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے بالآخر سرکاری اداروں میں واٹس ایپ پر پابندی کا فیصلہ سامنے آیا ہے اور ان کو اس امر کا احساس ہوگیا ہے کہ اس ایپ کا استعمال محفوظ نہیں۔ ہمارے تئیں صرف واٹس ایپ کا استعمال ہی بند کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سرکاری اداروں میں موبائل فون کا استعمال دوران اوقات کار بند کرنے کی ضرورت ہے لیکن چونکہ اس کے نقصانات کے مقابلے میں سہولت کا عنصر زیادہ ہے اس لئے سرکاری محکموں کو دو تین درجوں میں تقسیم کرکے اس کی مناسبت سے کوئی ضابطہ کار وضع کیا جائے ۔بعض اداروں میں تو اب بھی موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں بعض میں اینڈرائیڈ فون کا رکھنا ہی ممنوع ہے۔ اسی طرح کی پابندی اگر دیگر اداروں میں بھی اختیار کرنے پر توجہ دی جائے تو بہتری کا باعث ہوگا۔ سرکاری اداروں میں جس طرح موبائل فون پر گپ شپ اور پیغامات پر وقت صرف کرنے کا وتیرہ ملازمین نے اختیار کر رکھا ہے اس کے پیش نظر تو اسے شجر ممنوعہ قرار دیا جائے ۔ دوران فرائض منصبی ہر کسی کی جیب میں موبائل فون کا ہونا ضروری نہیں۔ جہاں تک ضروری اطلاع وصول کرنے اور اطلاع دینے کامعاملہ ہے ایسا ادارے کے سربراہ کی وساطت سے بخوبی ممکن ہے یا پھر بریک کے اوقات میں ایسا ہوسکتا ہے۔ سیکورٹی اداروں خاص طور پر پولیس اہلکاروں کے لئے جہاں یہ سہولت کار آمد ہے وہاں اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس کا بے جا استعمال کرنے کے الزام سے یہ بری الذمہ نہیں۔ ڈاکٹروں نرسوں پیرامیڈیکل عملہ‘ اساتذہ کرام جیسے لوگ بھی اس کا بے جا استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ہمارے تئیں سرکاری دفاتر میں صرف واٹس ایپ یا دیگر ایپس کا استعمال ہی ممنوع قرار دینا کافی نہیں بلکہ اس ضمن میں باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہئے اور سرکاری و دیگر اداروں میں موبائل فون کے استعمال کا ایک طریقہ کار اور اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے بے جا استعمال سے وقت ضائع کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کی حالت زار
بالائی چترال کے تحصیل ہیڈ کوارٹر بونی میں تین تحصیلوں کے لئے قائم واحد ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گیارہ ڈاکٹروں کی بجائے پانچ ڈاکٹروں کی موجودگی اور دیگر متعلقہ عملہ کے نہ ہونے سے مریضوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ صوبائی حکومت رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے ضلع کو اپر چترال اور لوئر چترال کے دو اضلاع میں تقسیم کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ بونی سے بروغل کا فاصلہ دنوں کی مسافت کا ہے جبکہ تور کہو اور موڑ کہو سے بھی با آسانی ہیڈ کوارٹر ہسپتال تک رسائی ایک یوم بتائے ممکن نہیں۔ ایسے میں یہاں پر ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے درجے کا کم از کم ایسا ہسپتال ہونا چاہئے تھا جو برائے نام نہیں بلکہ پوری سہولیات اور آلات تشخیصی سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر ڈاکٹروں کی پوری ٹیم متعین ہوتی مگر یہاں عالم یہ کہ صرف پانچ ڈاکٹروں سے کام چلایا جا رہا ہے جس میں سے ایک کا چھٹی پر ہونا عین ممکن ہے۔ باقی چار ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں کہ وہ دور دراز سے لائے مریضوں پر توجہ دے سکیں۔ ہسپتال میں طبی آلات اور تشخیصی سہولیات کا نہ ہونا معمول کا امر ٹھہرتا ہو تو علاقہ کے عوام کس سے فریاد کریں۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کو بونی کے نواح میں موزوں علاقے میں ایک بڑے ہسپتال کی منصوبہ بندی کرلینی چاہئے بلکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی میں فی الفور ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تقرری ‘ ادویات اور علاج و تشخیص دوسری سہولتوں اور ساز و سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت چترال کے ضلع کو صرف اپر اور لوئر چترال میں تقسیم کو کافی نہیں سمجھے گی بلکہ علاقے کے عوام کی ضروریات کا مکمل ادراک کرے گی اور ان کو صحت و تعلیم کی سہولتوں کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کے اپنے منشور پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے گی۔

متعلقہ خبریں