بلوچ خواتین کے معاملہ پر سینٹ میں ہوئی گرما گرمی

بلوچ خواتین کے معاملہ پر سینٹ میں ہوئی گرما گرمی

سینٹ کے اپوزیشن ارکان اور بالخصوص بلوچ سینیٹروں کی طرح صحافت کے اس طالب علم کو بھی امور داخلہ کے وزیر مملکت طلال چودھری کے اس بیان پر حیرانی ہوئی کہ ’’ ضلع آواران کی تین خواتین کو سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار کیاگیا ہے اور گرفتار خواتین بلوچستان حکومت کی تحویل میں ہیں۔ طلال کہتے ہیں کہ ڈی آئی جی کوئٹہ اور دیگر حکام سے ان کی بات ہوئی ہے۔ تینوں بلوچ خواتین بچوں سمیت غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر رہی تھیں‘‘۔ آگے بڑھنے سے قبل عرض کئے دیتا ہوں کہ امور داخلہ کے وزیر مملکت اور ڈی آئی جی کوئٹہ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے ایوان بالا میں سفید جھوٹ کیوں بولا۔ کیا وزیر مملکت برائے داخلہ اس بات سے آگاہ نہیں کہ اغواء ہونے والی تین میں سے دو خواتین شدید علیل ہیں۔ ایک خاتون جو بی ایل ایف کے رہنما ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی اہلیہ ہیں ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہے اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ میزبان خاتون بیگم اسلم بلوچ بھی پچھلے طویل عرصے سے علیل ہیں۔ عجیب دعویٰ ہے کہ اٹھ کر بیٹھ نہ سکنے والی فضیلہ بلوچ نامی خاتون دو دیگر خواتین اور بچوں کے ہمراہ سرحد پار کر رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ملک میں کوئی قانون ہے یا بلوچستان کے لئے ناڈا‘ ٹاڈا ٹائپ کالا قانون ہے جس پر عمل ہو رہا ہے اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے اس بارے بات کرتے ہوئے پر بھی جلتے ہیں اور پائوں بھی؟ تین بلوچ خواتین کے اغواء کے مسئلہ پر بدھ کے روز سینٹ میں اس معاملہ پر بات کرنے والے سینیٹروں نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کی تائید کئے بنا کوئی چارہ نہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پنجاب‘ پختونخوا اور سندھ کے میڈیا میں بلوچستان کی خبریں اولاً تو ہوتی نہیں‘ ہوں بھی تو غیر اہم بنا کر کونے کھدرے میں جگہ پاتی ہیں۔ سینٹ کے چیئر مین رضا ربانی کا یہ سوال اہم ہے کہ کوئی بتائے تو کہ کیا ہو رہا ہے۔ پہلے افراد اغواء ہوتے تھے اب خاندان اغواء ہونے لگے ہیں؟ بلوچستان جبری گمشدہ لوگوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔ ہم بلوچوں کے دعوے کو سو فیصد درست نہ بھی مانیں تو سچ یہی ہے کہ سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں۔

آواران ضلع سے بچوں سمیت اغواء ہونے والی تین بلوچ خواتین کا جرم کیا ہے‘ کس قانون کے تحت وہ گرفتار کی گئیں۔ یہاں یہ ضرور جان لیجئے کہ محترمہ فضیلہ بلوچ‘ بی ایل ایف کے رہنما ڈاکٹر اللہ نظر کی اہلیہ ہیں۔ چند ماہ قبل جب ان کے گائوں ( یہ گائوں ضلع نوشکی میں واقع ہے) پر بمباری کی گئی تھی تو اس میں وہ بری طرح زخمی ہوئیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی ۔ آواران میں اسلم بلوچ کے گھر وہ اپنے علاج کے سلسلے میں مقیم تھیں خود بیگم اسلم بلوچ بھی علیل ہیں۔ ان خواتین کی گرفتاری جیسا طلال چودھری کہتے ہیں یا اغواء جو زبان زد عام ہے دونوں ہی اخلاقی‘ قانونی‘ مقامی روایات اور سب سے بڑھ کر اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ایک حوالدار اینکر نے اغواء کے اس جرم کو سب سے پہلے مسخ کیا۔ بالائی سطور میں عرض کیا تھا کہ امور داخلہ کے وزیر مملکت طلال چودھری اور ڈی آئی جی کوئٹہ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ اس حوالے سے ایک صحافی کی حیثیت سے مکمل معلومات حاصل کرکے وزیر مملکت برائے داخلہ کے موقف کو غلط قرار دیا ہے۔ ثانیاً یہ بھی سن لیجئے کہ امور داخلہ کے وزیر مملکت طلال چودھری نے اس حوالے سے سینٹ میں جو بیان دیا وہ فراہم کردہ سرکاری معلومات پر نہیں بلکہ احد قریشی نامی حوالدار اینکر کے پروگرام کی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ افسوس ہے کہ اہم ترین وزارت کے وزیر مملکت نے ایوان بالا میں جھوٹ بولا۔ انہیں تو یہ ہی معلوم نہیں کہ اصل قصہ کیاہے اور اغواء کی گئی بلوچ خواتین اصل میں ہیں کون۔ باوجود اس کے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران ڈاکٹر اللہ نظر کے مسلح ساتھیوں نے بلوچستان میں نصف درجن کے قریب صحافیوں کو سرکار کا جاسوس قرار دے کر قتل کیا اور پچھلے پندرہ بیس دنوں سے بی ایل ایف اور بی ایل اے نامی مسلح تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں تک اخبارات کی ترسیل نہیں ہو پا رہی ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ جس طرح مسلح افراد کا اقدام آزادی اظہار سے دشمنی ہے اس طرح بلوچ خواتین کا اغواء بھی دستور پاکستان کے آرٹیکل4 اور دیگر شقوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان چار صوبوں اور پانچ قومیتوں کی فیڈریشن کا نام ہے۔ ریاست کے قوانین اور دستوری حقوق سب کے لئے یکساں ہیں مگر بلوچستان میں جو ہو رہا ہے وہ دھند میں چھپا ہواہے۔ دھند کے اس پار کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔ ہمیں یہ ملک عزیز ہے یہ 22 کروڑ زمین زادوں کا ملک ہے کسی ایک طبقے یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ ہم سب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر معاملات اس طور کیوں بگڑے کہ اب خواتین کو بھونڈے الزامات کے تحت گرفتار کیاجانے لگا ہے؟ بلوچستان کے سلگتے مسائل کا حل تلاش کرنا اور بلوچوں کے ناراض طبقے کا پاکستان پر اعتماد بحال کرنا از بس ضروری ہے۔ کیاریاستی ادارے اورخود امور داخلہ کی وزارت اس امر سے لا علم ہے کہ تین بلوچ خواتین اور بچوں کے اغواء کے بعد یہ دریافت کیاجا رہا ہے کہ بھارت نے کتنے کشمیری لیڈروں کی خواتین کو اغواء کیا اور کتنے کشمیری دیہاتوں پر بمباری کی؟ بجا ہے کہ آپ کہیں کہ یہ سوال مطابقت نہیں رکھتا لیکن یہ سمجھ لیجئے کہ آزاد ذرائع محدود و پابندہوں تو پھر اس نوعیت کے سوال ہوتے ہیں۔ چلیں اگر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ بلوچ خواتین اغواء نہیں بلکہ گرفتار ہوئی ہیں تو تب بھی ریاستی اداروں کا مقدمہ کمزور ہے کیونکہ تین میں سے ایک خاتون کلی طور پر معذور ہے ایک جزوی طور پر اور دونوں اس حالت میں نہیں کہ چند قدم چل سکیں۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ ان خواتین اور بچوں کو کسی تاخیر کے بغیر رہا کردیا جائے تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ مسخ نہ ہو نے پائے۔

متعلقہ خبریں