خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات

پچھلے چند مہینو ں میں امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ نہ صرف تبدیل ہوا ہے بلکہ دھمکی آمیز بھی ہوگیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے دیا جانے والے پیغام بالکل واضح ہے کہ اگر آپ نے ہمارے مطالبات پر عمل نہ کیا تو ہم آپ کے بغیر ہی اس خطے میں اپنی پالیسی پر عمل درآمد شروع کردیں گے اور پاکستان تنہائی کا شکار ہوجائے گا۔ امریکہ طالبان کو عسکری فتح سے روکنے کے لئے افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا دبائو ڈالا جارہا ہے ۔ اسی پالیسی کی وجہ سے امریکہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں مشروط تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پچھلے ہفتے پاکستان کی ملٹری اور سول قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے بہت مختصر گفتگو کی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے دیئے جانے والے چند’’ مخصوص ٹاسک‘‘ سرانجام دینے ہوں گے اور امریکہ کے چند ’’ جائز خدشات کودور کرنا ہوگا‘‘ ۔اگر پاکستان ایسا نہیں کرے گا تو امریکہ اپنی پلاننگ میںتھوڑی سی تبدیلی لا کر ان مسائل سے ’’خود نمٹ لے گا‘‘۔اس تنازعے میں پڑے بغیر کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کس ملک میں ہیں اور کون سا ملک ان کو پناہ دے رہا ہے، ٹلرسن اب پاکستان سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں ملنے والی معلومات کا انتظار کریں گے اور یہ معلومات ملنے کے بعد پاکستان کے تعاون سے یا پاکستان کے تعاون کے بغیر ہی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کی مہم شروع کر دی جائے گی۔ یہ امریکی پالیسی ایک’مشروط پالیسی ‘ ہے لیکن اگر پاک۔ امریکہ تعلقات کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تویہ پالیسی زیادہ تعجب خیز نہیں ۔ پاک۔ امریکہ تعلقات ہمیشہ سے ہی ایسی پالیسیوں کے تحت چلتے رہے ہیں۔ اگر ٹلرسن کے دورے کے مثبت پہلوئوں کی بات کی جائے تو ریکس ٹلرسن نے پاکستان سے یہ پوچھا تھا کہ امریکہ پاک۔بھارت سرحدی کشیدگی کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے بھارت کے دورے کے دوران امریکی سیکرٹری خارجہ نے افغانستان میں بھارت کے کردار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاک۔ بھارت کشیدگی کا معاملہ بھی بھارتی قیادت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور دہشت گردوں کے خلاف مستند انٹیلی جنس رپورٹس پر کارروائی کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑنا چاہتا ۔ اس کے علاوہ پاکستان کو افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی شدید تحفظات ہیں۔ صدر بش کے دورِ اقتدار سے لے کر آج تک امریکہ پاک۔امریکہ اور بھارت۔امریکہ تعلقات کے توازن میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہا ہے لیکن حالیہ امریکی اقدامات اور بیانات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیاء میں بھارت کو اپنا اتحادی بنانا چاہتا ہے جس کی بڑی وجہ چین ہے۔ امریکی پالیسی کے بعد پاکستان کے لئے چین کے مزید قریب ہونا ناگزیر ہوگیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنی افغان پالیسی پر از سرِ نو غور کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میزپر لانے کی امریکی خواہش اب پوری ہوتی نظر نہیں آرہی جس کی وجہ صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اپنی زمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا اور آپریشن ردالفساد میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی۔

خطے میں افغانستان اور بھارت کی بڑھتی قربت کو دیکھ کر پاکستان کے یومِ دفاع کے موقع پر جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی جس کا مثبت جواب دینے کی بجائے بھارت نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ کردیا تھا۔ اسی طرح افغانستان کے دورے کے دوران کچھ بھارتی اخباروں کی رپورٹس کے مطابق بھی جنرل قمر باجوہ نے افغان۔پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (اے پی ٹی ٹی اے )کی تجدید کے لئے پاک۔بھارت مذاکرات کی اہمیت پر زور دیاجس کے جواب میں بھارت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اے پی ٹی ٹی اے ایک دو طرفہ معاہدہ ہے جس پر پاک۔بھارت مذاکرات کسی طور اثر انداز نہیں ہو سکتے اور نہ ہی پاک۔بھارت مذاکرات شروع ہونے سے اس معاہدے کی تجدید ممکن ہو سکے گی۔ افغانستان کی جانب سے بھی جنرل باجوہ کی اس تجویز کا خیر مقدم کرنے کی بجائے اشرف غنی نے پاکستانی ٹرکوں کو افغانستان میں داخلے سے روک دیا تھا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کو اب اپنی سٹریٹجی میں تبدیلی لانی ہوگی ، جہاں ایک طرف پاکستان کو دہشت گردوں کا اپنی سرزمین سے خاتمہ جاری رکھنا ہے وہیں یہ بھی سوچنا ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر کس طرح لانا ہے۔ اس وقت امریکہ اور افغانستان افغان سرزمین پر امن قائم کرنے کے لئے پاکستان پر انحصار کررہے ہیں اس لئے پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے اپنے کارڈز سوچ سمجھ کر کھیلنے ہوں گے۔
(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں