چھلنی اور کوزے کا فلسفہ

چھلنی اور کوزے کا فلسفہ

سوال صدیوں پہلے وجود میں آیا تھا‘ آج بھی اس کی حقانیت پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی اور سوال یہ ہے کہ کوزہ بولے تو بولے پر چھلنی کیوں بولے۔ کیونکہ اگر چھلنی اپنا جائزہ لے تو اس میں لا تعداد سوراخ صاف دکھائی دے جائیں تب وہ کوزے کو دو سوراخوں کا طعنہ نہ دے۔ مگر اسے کیا کہا جائے کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کا کسی کو بھی حوصلہ نہیں یا پھر اسے اپنے عیب دکھائی ہی نہیں دیتے۔ بات پروٹوکول کی ہو رہی ہے تو ایک واقعہ یاد دلانا ضروری ہوگیا ہے۔ خلیفہ دوئم سید نا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کون نہیں جانتا ۔ ان کے عہد میں اسلام کا پیغام اور فتوحات کا کیا عالم تھا یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تاریخ کاایک روشن باب ہے‘ فلسطین کی فتح کے بعد وہاں کے یہودیوں نے بیت المقدس کی چابی دینے کے لئے یہی مطالبہ کیا کہ شہر کی چابی صرف خلیفہ وقت کو دی جائے گی۔ حضرت عمرؓ اپنے ایک غلام کے ساتھ فلسطین کا رخ کرتے ہیں اس طرح کہ ایک کوس وہ خود سواری کرتے ہیں اور ایک کوس غلام کو گھوڑے پر سوار کراکے خود گھوڑے کی لگام تھامے رکھتے ہیں۔ یہ سفر یوں طے ہوتا ہے کہ جب بیت المقدس کے دروازے میں داخل ہوتے ہیں تو غلام گھوڑے پر سوار ہیں اورخلیفہ وقت ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کے خلیفہ لگام تھامے ہوئے ہیں کیونکہ سفر شرط کا تقاضا یہی تھا‘ یعنی سواری پر چڑھ کر سفر کی باری غلام کی تھی۔ استقبال کے لئے آئے ہوئے یہودیوں کے بڑے اور جید عالم‘ رئوسائے شہر اور عام لوگ سوار کو خلیفہ سمجھ کر اس کی مدارت کرنے لگتے ہیں تو غلام رو پڑتا ہے اور انہیں آگاہ کرتا ہے کہ نادانو‘ خلیفہ میں نہیں وہ عظیم ہستی ہے جس نے گھوڑے کی لگام کوتھام رکھا ہے۔ تب یہودیوں کے وہ علماء جو تورات کی تعلیمات سے باخبر تھے گواہی دیتے ہیں کہ ان کی مقدس کتابوں میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے۔ کئی ایک ایمان لے آتے ہیں اور اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں

اہل معنی کو ہے لازم سخن آرائی بھی
بزم میں اہل نظر بھی ہیں تماشائی بھی
اسی واقعے میں ایک اور بات بھی پوشیدہ ہے جس کاذکر آگے چل کر آئے گا۔ فی الحال تو اس پروٹوکول پر بات ہو جائے جس پر کوزے کو دیکھ کر چھلنی نے کہا ہے جب سے نواز شریف عدالتی حکم کے تحت اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ان کو دیا جانے والا ’’پروٹوکول‘‘ مخالفین کے نشانے پر ہے خصوصاً عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما اس صورتحال پر شدید تنقید کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی لندن سے واپس اسلام آباد پہنچنے کے بعد ائیر پورٹ سے پنجاب ہائوس تک جس طرح میاں صاحب کو سیکورٹی کے حصار میں پہنچایاگیا اس پر عمران خان نے ٹویٹ کرکے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اصولی طور پر تو یہ بات درست ضرور لگتی ہے مگر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسے پروٹوکول قرار دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے صورتحال کو سیکورٹی سے محمول کیا ہے۔
مگر عمران خان کے بارے میں بعض حکومتی اکابرین جو یہ بات کرتے ہیں کہ وہ کس قانون کے تحت خیبر پختونخوا میں پروٹوکول حاصل کرتے ہیں اور اس بات میں بھی یقینا وزن ہے کہ خیبر پختونخوا میں خود عمران خان جس طرح سرکاری پروٹوکول میں درجن بھر سے زیادہ گاڑیوں کو آگے پیچھے لگا کر گھومتے ہیں اس کا قانونی یا اخلاقی جواز کیا ہے؟ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ اگر چھلنی کوزے کو دو سوراخ ہونے کا طعنہ دے تو اس پر اگر قہقہہ نہ بھی لگایا جائے تو کم از کم حیرت کااظہار تو کیاجاسکتاہے۔ بقول خالد احمد
آئینہ ان کے مقابل آیا
وقت آئینے پہ مشکل آیا
اب بات ذرا سیکورٹی خدشات کی بھی ہوجائے اوپر منقول تاریخی واقعے میں اس سیکورٹی معاملات کو بھی آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یعنی حضرت عمرؓ اور ایسے ہی دیگر اکابرین کو تو کبھی تحفظ کی ضرورت نہیں پڑی‘ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے عوام کی بہتری کے اقدام کئے۔ عوام کی فلاح و بہبود‘ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی سوچ اپنائی۔ خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالتے ہی حضرت عمرؓ کے کہنے پر ہی اپنی تجارت (کپڑے کی دکان) سے کنارہ کشی کرلی اور ضروریات زندگی کے لئے بیت المال سے روزینہ کی ادائیگی کے لئے مدینہ منورہ میں دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور کے برابر معاوضہ سے زیادہ وصول کرنے سے انکار کیا اور جب بتایا گیا کہ عام مزدور کا معاوضہ اتنا نہیں کہ ان کے گھر کے اخراجات چل سکیں تو انہوں نے دیہاڑی دار مزدور کے معاوضے میں معقول اضافے کا حکم دے کر اس مشکل کو حل کیا۔ آج ہمارے ہاں سیاست کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیاگیا ہے اور پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں تاکہ ایوان ہائے میں پہنچ کر دولت کے انبار لگا دئیے جائیں جبکہ اس دولت کو بچانے ‘ محفوظ رکھنے کے لئے ’’سیکورٹی‘‘ کی ضرورت رہتی ہے۔ آج ملک میں سیکورٹی ایجنسیز کے نام پر ایک اور کامیاب کاروبار صرف اس لئے جاری ہے تاکہ ’’ ناجائز‘‘ او ر معلوم ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت سے ہزاروں گنا زیادہ دولت اور اپنی جان بچانے کے لئے سیکورٹی حاصل کی جائے۔ یہ بات اچھی طرح جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ دولت چاہے کتنی بھی جمع کرو اس نے یہیں رہ جانا ہے تو پھر عوام کو لوٹ کر قارون کے خزانے جمع کرنے سے کیا حاصل کہ بقول شخصے سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے۔

متعلقہ خبریں