کشمیر کے’’ شام ‘‘بن جانے کا خد شہ یادھمکی؟

کشمیر کے’’ شام ‘‘بن جانے کا خد شہ یادھمکی؟

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے حالیہ دورہ بھارت سے دو دن پہلے بھارت کے وزیر داخلہ نے عجلت میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں کشمیر کے لئے مذاکرات کا ر کا تعین کیا تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے جلدبازی میں ’’ڈومور ‘‘ کی کسی فرمائش کی تکمیل کی جا رہی ہو ۔ٹلرسن چلے گئے تو بھارت کے مذاکرات کار نے ایک چونکا دینے والی بات کی کہ آزادی اور اسلام کی باتیں کشمیر کو شام اور لیبیا بنا سکتی ہیں۔جس کے بعد سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک پر مشتمل کشمیر کے مشترکہ مزاحمتی فورم کے تینوں راہنمائوںنے ایک اجلاس کے بعد بھارتی حکومت کی طرف سے مذاکرات کا ر کے تقرر اورمذاکرات کو کلی مسترد کر دیا ۔ان راہنمائوںکا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مذاکرات کار کا تقرر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے نہیں بلکہ امن کے قیام کے لئے ہے ۔ہمار اہدف اندرونی خودمختاری نہیں بلکہ مکمل آزادی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کار کا تقرر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔جو مودی اندرونی خودمختاری دینے کو تیار نہیںوہ مسئلہ کشمیر کیا حل کرے گا۔کشمیر کی حریت قیادت اس وقت مقتل میں کھڑی ہے ۔یہ کشمیریوں کی اجتماعی سوچ کی ترجمان اور شارح ہے اور دنیا اس حیثیت کو مانے یا نہ مانے مگر کشمیر کی صورت حال اسی حقیقت کی مظہر ہے ۔مزاحمتی قیادت کے اعلان سے کشمیرمیں نبض ِزندگی رکتی بھی ہے اور رواں بھی ہوتی ہے۔کشمیری عوام انہی پر اعتماد اور اعتبار کرتے ہیں ۔اس لئے بھارتی مذاکرات کار کے تقرر کو انہوں نے مسترد کر کے بھارت کی ایک بے معنی کوشش کو مزید بے معنی بنا دیاہے ۔بھارتی حکومت کو مذاکرات کے تعین کے لئے سابق انٹیلی جنس افسر دینشور شرما کے سوا کوئی نہیں ملا ۔خود مسٹر شرما نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے نہیں امن کے لئے کام کریں گے اور کشمیری نوجوانوں کو سمجھائیں گے کہ اسلام اور آزادی کی باتیں کشمیر کو شام بنا دیںگی۔لیبیا ،شام دنیا کے خطرناک ملک بن چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ بھارت میں ایسا ہو۔ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسٹر شرما کشمیر کو شام بنانے کی ملفوف دھمکی دے رہے ہیں اور ان کا کام کشمیریوں کی جائز خواہشات پر بات چیت کرنا نہیں کشمیری نوجوانوں کو بھارت کی وفاداری کا سبق پڑھانا ہے ۔اگر بھاشن دینے کا یہ کام کرنا ہی مقصود تھا تو یہ کام کسی سادھو ،پنڈت اور سنیاسی سے لیا جا سکتا تھا ۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حریت قیادت نے مذاکرات کا ر کے تقرر کو مسترد کرکے دنیا کو بتادیا ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں اور بھارت ان خواہشات کو کس طرح حیلوں بہانوں سے پیروں تلے روند کر خطے کو کشیدگی کی نذر کئے رکھنا چاہتا ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھارت کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دینشور شرماکوکشمیرکے لئے مذاکرات کار نامزد کرنے کے جواب میں مذاکرات کی تین شرائط عائد کی ہیں ۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرے،کشمیریوں کو تیسرا فریق تسلیم کیا جائے اور حریت کانفرنس سے بات چیت میں اقوام متحدہ کی قراردادو ں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے۔حریت پسند راہنما کی طرف سے عائد کی جانی والی یہ تین شرائط ستر برس پرانے اور اُلجھے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے کامیاب بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔کشمیریوں کا تجربہ یہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کو وقت گزاری اور مطلب براری کے لئے استعمال کیا ہے ۔جب بھی پاکستان یا کسی عالمی طاقت نے دبائو ڈالا بھارتی قیادت مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئی جونہی یہ ماحول بدل گیا بھارت کی سوئی بھی واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے۔بھارت گزشتہ تین سال سے کشمیرکے مسئلے کو روایتی اور گھسے پٹے طریقوں سے حل کر نے کی کوشش کر تا رہا ۔نریندر مودی نے ترغیب وتحریص کی روایتی چال چلتے ہوئے پہلے کشمیر کے لئے آٹھ ارب کے پیکج کا اعلان کیا ۔اس پیکج کے تحت کشمیری نوجو انوں کو نوکریوں کا جھانسہ دیا مگر کشمیری قیادت اور سماج نے اس پیشکش کو مسترد کیا تو بھارت پوری فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی راہ پر آیا ۔بھارتی فوج نے مجاہدین کی تلاش اور تعاقب کے نام پرظلم وستم کا بازار گرم کیا۔جس کے ردعمل میں کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہونا شروع ہوئے ۔برہان وانی انہی نوجوانوں کی علامت اور شناخت قرار پایا ۔
بھارت نے ان نوجوانوں کو کچلنے کے لئے طاقت کا بے محابا استعمال کیا مگر بھارت کی ہر تدبیر اُلٹی ہوتی چلی گئی ۔ مگر حریت اور آزادی کی شمع کی لو کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی گئی ۔حکومت پاکستان نے ہر عالمی فورم پر بھارت کے اس قبیح چہرے کو بے نقاب کیا اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا معرکۃ الآرا خطاب اس مہم کا نقطۂ عروج تھا۔ انہوں نے بھارت کو ’’دہشت گردی‘‘ کی ماں قرار دیا۔ کشمیر میںبھارت کے کردار سے اس کی حمایت کرنے والے مغربی ملک بھی شرمسار ہیں اور تین سال بعد بھارت کو اپنے چہرے کی کالک دھونے کا احساس ہوا تو کشمیری قیادت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی واضح شرائط عائد کی ہیں ۔بھارت صرف کشمیر کو متنازعہ ہی تسلیم کرے تو برصغیر کے عوام کے سروں پر منڈلاتے ایٹمی جنگ کے بادل بڑی حد تک چھٹ سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں