مشرقیات

مشرقیات

800ہجری کے آغاز پر والی گجرات احمد شاہ کی مسند نشینی کے آٹھ سال پورے ہو رہے ہیں ۔ درباریوں نے سلطان کو جشن منانے کا مشورہ دیا ۔ سلطان احمد شاہ نہایت رحم دل ، سخی اور عادل بادشاہ تھا ۔ رعایا پر جی کھول کر خرچ کرتا تھا ، لیکن امر ا ور ئو سا ء اور درباریوں کی عیش پرستی کے خلاف تھا ، بلا ضرورت وہ کوئی جشن منعقد نہیں کرواتا تھا ۔ لیکن رعایا اور درباریوں کے اصرار پر اس نے محدود پیمانے کی اجازت دی ۔ بادشاہ کا دامادایک نہایت وجیہہ آدمی تھا اور دربار کا رکن بھی تھا ۔ جشن کے دوران کسی بات پر ناراض ہو کر ایک غریب مزدور کر قتل کردیا ۔ یہ خبر جب سلطان تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوا اور کہا’’قانون شریعت میں امیر اور غریب کا امتیاز نہیں ہوتا ۔ میرا داماد ہونا اسے سزا سے نہیں بچا سکتا ۔ اس کو گرفتار کر کے جلد از جلد عدالت کے سپرد کرو۔ ‘‘مقدمہ عدالت میں چلا اور ثابت ہوگیا کہ سلطان کا داماد قاتل ہے ۔ لیکن قاضی نے مقتول کے وارثوں کو بلا کر خون بہا پہ راضی کر لیا ۔ لہٰذا بائیس اشرفیوں کے عوض وارثوں نے راضی نامے پر دستخط کر دیئے ۔ جب کاغذ تیا ر ہوگئے تو آخری فیصلے کے لئے کاغذ سلطان شاہ کے سامنے پیش کئے گئے جن میں قاضی صاحب نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ انہوں نے گواہوں کے اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تصدیق کی کہ ملزم واقعی قتل عمد کا مرتکب ہوا ہے لیکن مقتول کے ورثا بہ رضا ورغبت خون بہا لینے پر راضی ہیں ۔ لہٰذا میں نے ان کی مرضی ومنشاسے اشرفیاں خون بہا کی تجویز کی ہیں ۔ حکم آخر کے لیے کاغذات حضور کے دستخط کے لئے موجود ہیں ۔‘‘سلطان نے جب روداد پڑھی تو فرمایا ’’ یہ درست ہے کہ ورثا خون بہا کی رقم لینے پر راضی ہوگئے ہیں ، لیکن یہ فیصلہ بہت کمزور ہے ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ خون بہا کی شرط اس لئے قبول کی گئی کہ قاتل میرا داماد ہے ۔ وارثو ں نے یہ سوچ کر خون بہا لینے پہ آمادگی ظاہر کی ہوگی کہ اس فیصلے سے بادشاہ ممنون ہوگا اور انہیں مزید مراعات بھی مل سکتی ہیں ۔
لیکن اس حقیقت سے دور فیصلے سے شاہی خاندان کے افراد کو کھلی چھوٹ مل جائے گی ، کہ جس پر چاہیں عرصہ حیات تنگ کر دیں ، میں مکمل طور پر اس فیصلے کے خلاف ہوں ، گو کہ اس سے میری بیٹی کو صدمہ پہنچے گا اور اسے بیوگی داغ سہنا پڑے گا ۔ لیکن خاندان اور اولاد کی خوشی کی خاطر غریب رعایا کی جان اس طرح ارزاں کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔
میرے داماد نے جو اس طرح بے با کا نہ ایک غریب نوجوان کا خون کر دیا ، اس میں ضرور یہ گھمنڈ شامل ہوگا کہ وہ سلطان کاچہیتا داماد ہے ، اس لیے اسے بچانے کے لئے عدالت اور قاضی بھی سرگرم ہوں گے ۔
لہٰذا میں کسی طرح اس فیصلے کی توثیق نہیں کر سکتا اور یہ بھی حکم دیتا ہوں کہ پھانسی کے بعد قاتل کی لاش کو چوبیس گھنٹوں تک شہر کے وسط میں لٹکا یا جائے تا کہ دوسروں کو عبرت ہو اور پھر کسی دولت مند کو کسی غریب کا خون بہا نے کی جرات نہ ہو ‘‘۔

متعلقہ خبریں