عجیب و غریب صورتحال!!!

عجیب و غریب صورتحال!!!

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر جو کچھ ہوا اس میں کس فریق کا موقف درست اور کس کا درست نہیں اس سے قطع نظر یہ صورتحال افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ اس واقعے اور اس کے بعد ناطقین کی جانب سے خاموش فریق کو تاک میں رکھنا اور کسی وضاحت اور صراحت کا سامنے نہ آنا یہ ساری صورتحال کسی فریق کے حق میں بھی اچھا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک و قوم کے لئے برا اور جگ ہنسائی کا باعث ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشیدگی کا جو ماحول بنایا جا رہا ہے تنائو کی یہ کیفیت سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا موقع اور اہمیت ختم کردے گی۔ فریقین کو جب تک احساس ہوگا قوم ضد اور انا کی بھینٹ چڑھ چکی ہوں گی۔ ملکی سیاست کی روایت ہی یہ رہی ہے کہ جو جتنا معتوب ٹھہرے گا عوام کی ہمدردیاں اس کے ساتھ اور بڑھ جائیں گی۔ سیاستدانوں کو ا س طرح کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کاموقع ان کا ناطق ہونا اور میڈیا میں اپنے موقف کا اظہار ہے جبکہ فی زمانہ سوشل میڈیا پر وہ کچھ بھی سامنے آتا ہے جس کا اظہار خلق خدا کسی اور پلیٹ فارم سے نہیں کرسکتی جبکہ دوسری جانب کچھ پابندیاں کچھ نظم و ضبط اور وقار کامظاہرہ ضروری ہے۔ لہٰذا ترکی بہ ترکی ممکن نہیں وطن عزیز میں اتحاد و اتفاق کی دعا شاید کسی جمعہ کے خطبے میں نہ مانگی جائے کسی اہم موقع پر دعا گو اس دعا کو کبھی فراموش کر ہی نہیں سکتا۔ عوام کی بھی دلی خواہش ہوتی ہے مگر ہم جو چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد ہمارا وتیرہ نہیں۔ ہمارا وتیرہ اس کا الٹ ہوتا ہے۔ دردمندان قوم سے بس ایک یہی سوال ہے کہ کیا زمانے میں پنپنے کی یہ باتیں ہیں کیا قومیں اس طرح بنتی ہیں اور اس طرح ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ کر اگر ہم یہ قرار دیں کہ ہم ایک مہذب اور باوقار قوم ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم من حیث القوم اپنے دعوے کا از خود ہی حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور اس بات کا فیصلہ کرلیا جائے کہ کیاہمارا طرز عمل درست ہے۔ اس سے اگر اتفاق بھی کرلیا جائے کہ غلط فہمی کا باعث بننے والا قدم بوجوہ اٹھایاگیا تھا تو کیا اس پر یوں ببانگ دہل جذبات کا اظہار موزوں طرز عمل تھا۔ گھر کے میلے کپڑے گلی میں دھونے کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا پر کیا واضح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہماری حکومت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں اور دونوں ایک دوسرے کے مقابل آگئے ہیں۔ اگر یہی تاثر سچ ہے تو اس بیانیہ کا کیا حاصل جو ملک و قوم کے بارے میں مزید منفی تاثرات کا سبب بن جائے۔ ہمارے تئیں ہر ادارے اور ہر ایک کا اپنا دائرہ اختیار اپنا دائرہ کار اور آئین و قانون کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریوں اور مطالبات کو سمجھنا اور اس پر عملدرآمد کرنا ہی تضادات سے محفوظ رہنے کاواحد راستہ ہے۔ عدالت پر نہ تو لائو لشکر سمیت حاضری دے کر دبائو ڈالا جائے اور نہ ہی تالہ بندی کرکے عدالت پر انگلیاں اٹھانے کا موقع دیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کو اس امر کانوٹس لینے کی ضرورت ہے کہ احتساب عدالت کی وقعت کو جس طرح دائو پر لگانے کی دانستہ و نادانستہ سعی ہو رہی ہے اس کو روکا جائے اورایک طریقہ کار وضع کیا جائے جس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور کوئی ایسی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے جس سے احتساب کا عمل متاثر ہو۔ عدالت میں میڈیا کے ارکان کی حاضری اس لئے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارا آئین و دستور ذرائع ابلاغ کی آزادی کا ضامن ہے۔ میڈیا کو سہولیات کی فراہمی اس لئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ عدالتی کارروائی کی آزادانہ غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ رپورٹنگ کی جائے اور کسی کو اپنے موقف کو صائب ثابت کرنے کا موقع نہ ملے۔ چونکہ عدالت لگتی ہے اور عدالت کاکوئی ترجمان اشد ضرورت کے علاوہ کسی معاملے پر اظہار خیال نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا مناسب اور قانونی ہے۔ لہٰذا یہ میڈیا ہی ہے جو عدالتی کارروائی کو حقیقی اور درست انداز میں عوام کے سامنے لائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کے تحفظ کے لئے کسی اضافی سیکورٹی کی ضرورت نہیں۔ عدالت کے احاطے میں سیکورٹی اداروں کی بھرمار اور تضادات کا باعث بننے والے حالات پیدا کرنے کی بجائے اگر عدالت کو احاطے سے باہر محفوظ بنانے اور سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ عدالت میں داخلے کے لئے پاسز کے طریقہ کار پر عملدرآمد سے اس بات کو یقینی بنانا ممکن ہوگا کہ ہر داخل ہونے والا شخص عدالت کی مرضی اور اس کی اجازت سے داخل ہو رہا ہے۔ عدالت کے دروازے پر عدالتی عملہ ہی تعینات ہو تاکہ کسی جانب سے بھی دبائو اور پروٹوکول کے تقاضے نہ ہوں۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ عدالت یکسوئی کے ساتھ مقدمات سنے اور شواہد و دلائل پر ٹھوس بنیادوں پر فیصلے تک پہنچنے کے لئے پر امن ماحول کو یقینی بنانے پر خود بھی توجہ دے۔ بہتر ہوگا کہ عدالت تمام فریقوں کو اس امر کا پابند رہنے کاحکم دے کہ ان کی جانب سے کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس کے عدالت کے عزت و احترام اور وقار پر اثرات مرتب ہوں۔ قوم کا اتحاد و اتفاق احتساب کے عمل سے زیادہ ضروری اور مقدم ہے۔ معاشرے اور اداروں میں ہم آہنگی ہوگی تو باقی معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔ نظام کو مفلوج بنانے کا حاصل کچھ نہیں ہوگا سوائے تضادات کے بڑھنے اور معاملات کے نکتہ ناقابل واپسی پر پہنچنے کے' جس سے گریز ہی بہتر مصلحت ہوگی۔

متعلقہ خبریں