عجلت کی قانون سازی پر اعتراض بے جا نہیں

عجلت کی قانون سازی پر اعتراض بے جا نہیں

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی الیکشن اصلاحات بل 2017ء کی منظوری اور اسی روز صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے عجلت میں بل پر دستخط کرکے قانون کا درجہ دینے اور مسلم لیگ(ن) کا اس قانون کے سہارے نا اہل قرار پانے والے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے قانونی طور پر سبکدوش صدر کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا بلا مقابلہ صدر منتخب کرنے میں آئینی دوستوروں اور قانونی طور پر کوئی قباحت نہیں۔ از روئے قانون یہ امر قانونی ضرور قرار پاتا ہے لیکن مخالفین کے اس سوال میں حد درجہ وزن ہے کہ کیا فرد واحد کے لئے یہ کاوش درست اور اخلاقی قدروں پر پوری اترتی ہے۔ ہمارے تئیں اس کا جواب نفی میں ہے سوائے اس کے کہ اگر ہماری مقننہ اسی طرح عجلت میں عوامی مفاد میں قانون سازی کی تاریخ رکھتی۔ ہمارے ہاں قانون سازی میں تساہل کا تو یہ عالم ہے کہ مسودے کی تیاری اور بل کی حتمی منظوری کے بعد قانون کا درجہ حاصل ہونے میں اوسطاً دو سال لگتے ہیں۔ سال اور چھ مہینے تو معمول کی بات ہے۔ بعض ضروری قانون سازی تو مدت اقتدار ختم ہونے کے بعد بھی ہونہیں پاتی۔ اکثریتی جماعت ہونے کے ناتے مسلم لیگ(ن) کو اس امر کا پورا اختیار حاصل ہے اور اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے بھی سینیٹ میں اپنے دو ارکان کو با الحکمت غیر حاضر کرا کر اس بل کی منظوری میں حصہ ڈالا ہے کہ شاید اس سے مستفید ہونے والوں میں نواز شریف کے بعد کوئی اور بھی شامل ہو۔ اکثریت کے بل بوتے پر قانون سازی تو ممکن ہے لیکن اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ اس طرح آمرانہ طرز عمل سے ایوان کا وقار مجروح ہونا اور اس کا فرد واحد کو تحفظ دینے اور آمریت کی یاد تازہ کرنے کا حامل ہی قرار پائے گا جس سے سیاسی جماعتیں اور جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتیں جبکہ ان پر عوام کا اعتماد متزلزل ضرور ہوسکتاہے۔
سبز باغ دکھانے کا حاصل؟
پیڈو کی جانب سے صوبائی حکومت کو بریفنگ دی جاتی ہے کہ رواں سال ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نجی شعبے کی شراکت سے 518 میگا واٹ پن بجلی کے چھ منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جس میں 250ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ دوسری جانب مستوج چترال کے عوام سراپا احتجاج ہیں کہ اڑھائی سال قبل سیلاب سے تباہ شدہ ریشون بجلی گھر کی بحالی اور موجود جنریٹرز نہ چلائے گئے تو کفن پوش مظاہرہ کیاجائے گا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے صوبے میں تین سو سے زائد مقامات پر پن بجلی گھر بنانے کی نوید دی تھی مگر عالم یہ ہے کہ ریشون کے تباہ شدہ پن بجلی گھر کابنیادی اساس بڑی حد تک محفوظ ہے۔ لیکن اس پر کام شروع کرکے بحالی کے لئے عوام کو بار بار احتجاج کا راستہ اپنانا پڑتا ہے مگر کسی کے کانوں میں جونک تک نہیں رینگتی۔ کیا یہ دوعملی اور قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں۔ حکومت کے اقدامات پر اس وقت ہی یقین کیا جاسکتا ہے جب عملی طور پر کسی شعبے میں پیش رفت سامنے آئے اور عوام کا مسئلہ حل ہو۔ ریشون پن بجلی گھر چترال کا مرکزی اہمیت کا حامل بجلی گھر تھا جس کی تباہی کے بعد اس کی بحالی پر کام ندارد جبکہ گولیں گول پن بجلی گھر کی بھی تکمیل اور چلانے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لی جا رہی ہے۔ لاوی پن بجلی گھر کا اے این پی دور حکومت میں افتتاح کے بعد حال ہی میں عمران خان کے دست مبارک سے بھی افتتاح ہوا۔ ان بجلی گھروں سے صرف چترال کے عوام ہی مستفید نہیں ہوں گے بلکہ دیر اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام بھی استفادہ کرسکیں گے جبکہ نیشنل گرڈ کو بھی بجلی مل سکتی ہے۔ منصوبوں کی خوشخبریاں سنانے والے اگر پہلے ان نا مکمل منصوبوں اور تباہ شدہ پن بجلی گھر کی بحالی کو ممکن بنائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
ایچ ای سی کے حکام کی توجہ درکار ہے
سرکاری و نیم سرکاری جامعات میں طالب علموں کو چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل میں مشکلات کاسامنا صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے ہی رکاوٹ کا باعث نہیں بلکہ متاثرہ طالب علموں کااحتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے سے خود ان تعلیمی اداروں کے بارے میں بھی منفی تاثر کا باعث ہے۔ طلبہ کو تعلیم کا ساز گار ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کے سربراہوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر انتظامی حکام طلبہ کے مسائل حل کرنے کا قصد کریں تو بہت سے مسائل ایسے ہوں گے جن کو بغیر کسی بڑی کوشش کے حل کیا جاسکتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن طالب علموں کو حقدار ہونے کے باوجود لیپ ٹاپ نہ ملنے ' کم حاضری کے باعث طلبہ کو امتحان میں بیٹھنے سے روکنے کے بعد ان کے لئے کلاسوں کا انتظام کرکے امتحان میں شرکت کی سہولت دینے جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل میں کردار ادا کرے گی اور طالب علموں کی حصول تعلیم پر یکسوئی سے توجہ دینے کا موقع فراہم کیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں