خواجہ آصف کا بھارت اور بی جے پی کو طعنہ

خواجہ آصف کا بھارت اور بی جے پی کو طعنہ

ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو قوم کسی دہشت گردکو وزیر اعظم منتخب کرے تو وہ کیا قوم ہوئی۔ نریندر مودی بھارت کی بھارتیا جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ انٹرویو کے دوران کہا گیا کہ بی جے پی دراصل بھارت کی راشٹریہ شیوک سنگھ کی ذیلی جماعت ہے جو دہشت گرد تنظیم ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ نریندر مودی کے ہاتھ گجرات (بھارت) کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ امریکہ میں کچھ عرصہ تک نریندر مودی کو اسی بنا پر ویزا دینے پر پابندی تھی۔ ان کی باتوں کا لب لباب یہ نکلتا تھا کہ نریندر مودی ایسے دہشت گرد کو وزیر اعظم منتخب کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور بی جے پی ایک دہشت گرد جماعت یا ایک دہشت گرد تنظیم کی ذیلی جماعت ہے۔ یہ باتیں انہوں نے انٹرویو کے تقریباً آخر میں کہیں۔ اس سے پہلے وہ کہہ چکے تھے (ہم) نواز شریف کو قانون کے تحت پارٹی صدر بنا رہے ہیں۔ جو قانون ان کے پارٹی کا صدر بننے کی راہ میں حائل تھا اس میں ترمیم کر لی گئی ہے ۔ وزیر خارجہ کے انٹرویو کے اگلے روز قومی اسمبلی میں نہایت عجلت میں اپوزیشن پارٹیوں کی شدید مخالفت کے باوجود یہ قانون منظور بھی کروا لیا گیا ہے اور بعض اخبارات کی خبر ہے کہ صدر ممنون حسین سے بھی اس پر دستخط لے لیے گئے ہیں اور اب یہ ملک کا قانون بن چکا ہے۔ خواجہ آصف یہ کہہ کر امریکہ جا رہے ہیں کہ وہ بھی کیا قوم ہوئی جو ایک دہشت گرد کو ملک کا وزیر اعظم منتخب کرلے۔ وہاں اگر کسی نے اس تبصرے کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی کہ ''وہ بھی کیا پارٹی ہوئی جس نے ایک عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے والے شخص کو صدر چن لیا'' تو خواجہ صاحب کیا جواب دیں گے۔ 

پاکستان میں کسی سیاسی پارٹی کے صدر کو لاکھ غیر سیاسی عہدہ کہا جائے یہ ہے سیاسی عہدہ کیونکہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد کسی پارٹی کا صدر خواہ خود منتخب نمائندہ نہ ہو اپنی پارٹی کے منتخب نمائندوں کو اس بنا پر نااہل قرار دینے کی سفارش کر سکتا ہے کہ وہ منتخب نمائندہ/نمائندے پارٹی لائن یا ڈسپلن کے مخالف رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس طرح کسی پارٹی کے منتخب ارکان ایوان پارٹی کے سربراہ کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں۔اس ترمیم سے پہلے پارٹی قائدین کو پارٹی کے ارکان کے ووٹ جمع رکھنے میں بڑی دقت پیش آتی تھی۔ کسی بڑے معاملے یا وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر پارٹیوں کے منتخب ارکان کو پارٹی قائدین چھانگا مانگا' مری اور نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں طعام و قیام کی سہولتیں فراہم کرتے تھے اور عین انتخاب کے دن انہیں اسمبلی میں لے جایا جاتا اور ان کے ووٹ حاصل کیے جاتے تھے۔ اس کے باوجود فلور کراسنگ کا خطرہ رہتا تھا یعنی ایوان میں اگر حکمران پارٹی کے اتنے ارکان اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ جاتے کہ اپوزیشن کو عددی برتری حاصل ہو جائے تو اس کی حکومت بن سکتی تھی۔ اس امکان کے سدِباب کے لیے پارٹیوں کے قائدین نے مک مکا کر لیا اور یہ ترمیم منظور ہو گئی کہ پارٹی کا کوئی منتخب رکن پارٹی لیڈر کی مرضی کے بغیرووٹ نہیں دے سکے گا۔ اس طرح کسی رکن کو منتخب کرنے والوں کا مینڈیٹ پارٹی کے سربراہ کے ہاتھ میں اس جواز کی بنا پر دے دیا گیا کہ منتخب رکن نے پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کسی منتخب رکن کو رکنیت سے محروم کرنے کا اختیار اس کے منتخب کرنے والوں کو ہونا چاہیے۔ لیکن اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ کیا یہ ترمیم جس کے تحت عوام کا ووٹ لینے والے کی صوابدید کو پارٹی کے سربراہ کے تابع فرمان کردیاگیا ہے آئین پاکستان کی جمہوری روح کے مطابق ہے ، یہ سوال کسی نے عدالتِ عظمیٰ میں نہیں اُٹھایا۔
اس بنیاد پر ن لیگ کا میاں نواز شریف کو پارٹی سربراہ منتخب کرنے کے لیے پارٹی آئین میں ترمیم کرنا انتخابی اصلاحات کے قانون میں آئین کے تحت نااہل کیے جانے والے شخص کو پارٹی سربراہ منتخب کرنا معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اگر ہم نریندر مودی جیسے دہشت گرد کے بھارت اور بی جے پی کا وزیراعظم منتخب ہونے پر بھارت اور بی جے پی کو طعنہ دیتے ہیں تو ہم نے بھی اس میاں نواز شریف کو سیاسی پارٹی کا صدر منتخب کیا ہے جسے ملک کی سپریم کورٹ نے آئین کے تحت عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ رہا یہ سوال کہ پارٹی صدارت عوامی عہدہ ہے یا نہیں ، اٹھارھویں ترمیم کے بارے میں سطور بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے مطابق عوامی عہدوں کے لیے نااہل ہونے کے باوجود پارٹی کا سربراہ پارٹی کے منتخب ارکان کے ووٹ کے رخ کاتعین کرے گا۔ آئین میں ترمیم کیے بغیر یہ اقدام نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ن لیگ کے ایک وزیر کہتے ہیں کہ یہ قانون سب پارٹیوں کے لیے ہے صرف میاں نواز شریف کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ اس صورت میں تو اور بھی ضروری تھا کہ یہ اقدام آئینی ترمیم کے ذریعے کیا جاتا اور تمام پارٹیوں کی متفقہ رائے سے کیا جاتا۔ اس قانون کو سندھ اسمبلی میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آئین کے منافی ہے۔
فرض کیجئے کہ کل عدالت یہ فیصلہ دے دیتی ہے کہ انتخابی اصلاحات کے قانون کی یہ شق جس کے تحت میاں نواز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے غیر آئینی ہے تو ن لیگ کہاں کھڑی ہو گی جس کے وزراء یہ حلف اُٹھا چکے ہیں کہ وہ آئین پاکستان کی حفاظت کریں گے۔ میاں نوازشریف سپریم کورٹ سے عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد جس طرح عوامی اجتماعات میں کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالت سے باہر چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ن لیگ کے صائب الرائے لیڈروں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی پارٹی اپنے ہی آئین اور اپنی ہی سپریم کورٹ کے بارے میں کس طرف جار ہی ہے۔

متعلقہ خبریں