یہ کیسی امید ہے؟

یہ کیسی امید ہے؟

ملک کے حالات دیکھ کر ہر روز ایک نیا خیال جنم لیتاہے۔ روز محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے لیکن پھر ایک اور دن اسی طرح گزر جاتا ہے۔ روز یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید آج جو ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی ہے وہ کل پوری ہو جائے گی۔ یکا یک کوئی گھنگور گھٹا کسی جانب سے اٹھے گی اور بارش ایسے زور سے برسے گی کہ ہر جانب جل تھل ہو جائے گا۔ اسی بارش میں ہمارے سارے زخم سارے گناہ اور کوڑھ کا ہر داغ دھل جائے گا۔ ہم سب جو اس ملک میں رہتے ہیں ہمارے دلوں سے رستا خون بھی بند ہو جائے گا۔ بدعنوانی کے پھوڑوں سے رستی پیپ بھی دھل جائے گی اور ہر ایک پکارتا زخم چپ چاپ ہو کر سو جائے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ اچانک ہی ایک نیا سورج طلوع ہواہے۔ چڑیوں کی چہکار میں سسکیوں کی آوازیں کہیں کھو جائیں گی لیکن پھر وہی انتظار' وہی آس ' وہی خاموشی اور ایک نیا دن۔ ایک صاحب نے ایک دفعہ ایک بہت خوبصورت بات کہی تھی۔ فرمانے لگے' دکھ تباہ کردیتا ہے ' مار ڈالتا ہے' فنا کردیتا ہے۔ لیکن امید اس سے بھی کہیں زیادہ ظالم ہے کیونکہ امید انسان کو لاحاصل کی خواہش میں مبتلاکردیتی ہے اور اس سے کسی طور نکلنے نہیں دیتی بالکل ایسے ہی جیسے انسان کو کوئی اندرونی چوٹ لگ جائے اور وہ رسنے لگے۔ انسان اسی زخم کے ہاتھوں ختم ہوجاتا ہے جو بظاہر دکھائی ہی نہیں دیتا۔ شاید ان کی بات سے میں پورے طور متفق نہ ہوتی لیکن اس وقت پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی امید کو دیکھ کر یہ بات بالکل درست محسوس ہوتی ہے۔میاں نواز شریف کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیاگیا۔ اس سے پہلے کبھی کسی حکومت سنبھالے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ نہیں سنایاگیا تھا سو امید رستی رہی کہ فیصلہ سنا دیا جائے اور ہمیں ایک نئی سمت ملے۔ فیصلہ سنا دیاگیا۔ پاکستان کو ایک نئی امید کا عارضہ لاحق ہوگیا کہ اب صورتحال ہی بدل جائے گی۔ تبدیلی کا کوئی ایسا موسم جنم لے گا کہ شاید آن کی آن میں دنوں کے رنگ ہی الگ ہو جائیں گے لیکن یہ نہ ہوسکا۔ سیاست اور فوج آپس میں کھیلنے لگے اور ہم امید کے خنجر کی دھار تھامے پوری سختی سے مٹھی بند کئے یہ دیکھتے رہے کہ اب کیا ہوگا اور جانے کس طرح ہمارے دن بد لیں گے۔ کوئی کرن دکھائی نہ دی اور پھر وقت ایک قدم آگے بڑھ گیا۔ ایک نئی کشمکش کا آغاز ہوگیا۔جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کا جو ڈرامہ رچایاگیا وہ بھی حیران کن تھا۔ وزیر داخلہ دیگر وزراء سمیت جوڈیشل کمپلیکس میں داخل نہ ہوسکے اور اپنی اس بے بسی پر خاصے برہم دکھائی دئیے۔ میں حیران ہوں کہ آخر اس سب میں سچ کیا ہے۔ ایس ایس پی اسلام آباد کے ایک خط کی کاپی بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہے جو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو 25ستمبر2017ء کو لکھا گیا۔ جس میں امن و عامہ کی صورتحال کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کو صورت حال کو احسن طور سے ڈیل کرنے کے لئے رینجرز کو اسلام آباد پولیس کی مدد کے لئے مدعو کرنا چاہئے۔ متعلقہ آفس سے رابطہ کرکے 200رینجرز ان کی گاڑیوں سمیت منگوائے جائیں تاکہ معاملات پر گرفت رکھنا آسان ہو۔ اگر یہ سب اسی طرح ہوا تو پھر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وزیر داخلہ کو اس بات کا علم کیونکر نہ تھا۔ اگر واقعی علم نہ تھا تو انہیں یہ سرزنش اپنی انتظامیہ کی کرنی چاہئے جنہوں نے انہیں بروقت اس بندوبست کی اطلاع نہیں دی اور وزیر داخلہ کو اس قسم کی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر یہ بات ایسے نہیں ہے تو یقینا اس خط کی بابت تفتیش کی جانی چاہئے کہ آخر اس قسم کی بات جس میں کوئی سچائی نہیں ہے میڈیا میں گردش کیونکر کر رہی ہے اور اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں۔ یہ خط بھی درست ہے تو پھر ایک نیا منظر جنم لیتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ سیاست دان اپنی سیاست کھیل رہے ہیں۔ وہ کسی طور فوج سے دو بدو مقابلہ بھی چاہتے ہیں اور یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سارے منظر میں فوج کاہاتھ ہے۔ اگر یہ ایسا ہے تو یقین جانئے کہ صورتحال کوئی بہت اچھی نہیں۔ اداروں میں ایسی براہ راست جنگ ملکی مفاد کے لئے کبھی درست نہیں ہوا کرتی۔ محض ایک شخص کی سیاست بچانے کو ملک میں اداروں کو دائو پر لگا دینا درست نہیں۔ شاید اس حوالے سے کوئی غور نہیں کیا جا رہا کیونکہ اگر ذرا بھی غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب جو ہم اپنے ارد گرد ہوتے دیکھ رہے ہیں اس امید کا حصہ ہے جو محض انسان کو اندر سے ادھیڑے رکھتی ہے۔ خون اندر ہی اندر رس رہا ہے اور کسی بات کا کوئی اپائے نہیں ہو رہا۔ میاں نواز شریف کی ساری باتیں ساری کہانیاں اور سارے سوالات اپنی جگہ اس قوم کی ساری حقیقت' ہر ایک حقیقت سے وابستہ راز اور ان رازوں سے وابستہ کہانیاں بھی اپنی جگہ' فوج کی خواہشات ' نفسیات اور کوششوں کاوشوں کا منبع بھی اپنی جگہ لیکن سوال پھر بھی وہی رہتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے کیا درست ہے۔ جو سیاست دان کررہے ہیں اس میں کیا امید ہے۔ فوج جو امیدوں کے سبز جزیرے دکھا رہی ہے اس میں اس ملک کی کس قدر بھلائی ہے اور عوام جو اپنی ہی طاقت سے بے بہرہ ہیں جنہیں یہ احساس تک نہیں کہ اصل فیصلہ تو انہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر ایک تماشا انہیں دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ شکوک تو کتنی ہی بولیاں بولتے ہیں۔ کبھی ایک جانب شبہ ہوتا ہے کبھی دوسری جانب سے دل اوب جاتا ہے۔ اور یہ امید ہمیں اندر ہی اندر جونک کی طرح کھائے جا رہی ہے کیونکہ فائدہ تو تب ہو جب احساس کی سمت درست ہو اور وہی تو بالکل غلط ہے۔

متعلقہ خبریں