پاک افغان مفاہمت کی لوک کہانی

پاک افغان مفاہمت کی لوک کہانی

یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں من پسند نتائج اور مختلف ولایتی نسخوں اور بدیسی ٹوٹکوں کی ناکامی کے بعد تمام کھلاڑیوں نے پاکستان اور افغانستان کو باہم ملنے کا ایک آزمائشی موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔خالص دیسی طریقہ علاج کو آزمانے کایہ وہ عمل ہے جو پاکستان اور بھارت کو بار بار دیا جاتا رہا جب عالمی کھلاڑی دونوں ملکوں کو ایک کمرے میں بچھی کسی میز کے گرد بٹھا کر خود گم ہو جایا کرتے تھے مگر چونکہ پاکستان اور بھارت کے اختلافات اس قدر گہرے ،تاریخ میں دور تک جڑیں رکھنے والے تھے اور اس ماضی سے آزاد ہونے کی مخلصانہ خواہش بھی کم ہوتی تھی اس لئے پاکستان اور بھارت کے معاملے میں یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو ئیں ۔افغانستان کے ساتھ معاملہ اس سے قطعی مختلف ہے ۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات کی نوعیت وہ نہیں جو مشرقی سرحد پر ہے ۔افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو مونچھ نیچی کرنا پڑے تو بھی رائے عامہ اور میڈیا میں یہ ایک نان ایشو ہوتاہے جبکہ بھارت کے ساتھ معاملہ اس سے قطعی اُلٹ ہے۔پاکستان میں یہ خیال بہت نیچے تک سرایت کر گیا ہے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے اختلافات کو دشمنی بنانے کے پیچھے سب سے اہم ہاتھ بھارت کا ہے ۔بھارت ،افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے ۔پاکستان کو گھیرنے اور اس کے حوصلے توڑنے کے لئے افغانستان کو استعمال کرتا ہے ۔افغانستان میں یہ تاثر بہت مضبوط ہے کہ پاکستان ان کے دکھوں اور زخموں کا ذمہ دارہے اور پاکستان افغانستان کو ایک صوبہ بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔یوں ایک ایسا ملک جس نے افغانستان کی آزادی کی دو جنگوں میں اس کی مدد کی بہت مہارت سے اس کی آزادی کا دشمن بنا دیا گیا ہے ۔اس صورت حال سے نکلنے کی کوئی راہ اب تک سجھائی نہیں دے رہی تھی کیونکہ خود افغانستان کو یہ سبق ازبر کر الیا گیا تھا کہ مسئلے کا حل پاکستان درحقیقت مسئلہ ہے۔چنددن قبل اسلام آباد میں افغان سفیر عمر زخیوال کا ایک چونکا دینے والا بیان سامنے آیا جس میں دوطرفہ غلطیوں کی بات کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا گیا کہ افغانستان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات قائم کرتے ہوئے توازن قائم نہیں رکھا شاید یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے ڈور کا سرا ملنا شروع ہو گیا ہے ۔ اگر افغانستان نے یہ راز پالیا ہے تو پھر اچھے دن افغانستان اور پاکستان کا انتظار کررہے ہیں ۔پاکستان کی طرف سے اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر افغانستان دونوں ملکوں میں تعلقات قائم کرتے ہوئے توازن کو قائم نہ رکھ سکا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ افغان حکومت ایک محدود رقبے پر کنٹرول رکھتی تھی اور اس کی سیاسی اور عسکری باگیں امریکہ اور نیٹو کے پاس تھیں ۔انہی قوتوں نے افغانستان میں خالی ہونے والی سپیس کو بھارت کے ذریعے پُر کیا اور بھارت کا حال یہ ہے کہ سولہ برس تک پردے کے پیچھے جم کر کھیلنے کے باجود اتنی اخلاقی جرأت اور سکت نہیں کہ افغانستان کی زمین پر کھل کر کوئی کردار ادا کرے ۔امریکی وزیر دفاع جم میٹس سے ملاقات میں بھارتی ہم منصب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت کا افغانستان میں زمینی فورسز بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ یقین دہانی یا تو پاکستان کے لئے حاصل کی گئی تھی یا واقعی بھارت روس اور امریکہ کا حال دیکھ کر اور سری لنکا میں اپنی فوج کا انجام یاد کرکے افغانستان میں ایسی کسی سرگرم مہم جوئی سے ہاتھ اُٹھانے پر مجبور ہوا۔افغانستان کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ بھارت دودھ پینے والا مجنون ہے خون دینے والا نہیں۔اس عالم میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نوید مختارنے کابل کا دورہ کیا ۔افغانستان میں حقانی نیٹ ورک یا طالبان کی مزاحمت کا جو بیانیہ معروف ومقبول ہے اس میں آئی ایس آئی کا افسانوی کردار ہے۔اس لحاظ سے جنرل نوید مختار کی وفد میں شمولیت کی بہت اہمیت ہے۔ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے مابین دہشت گردی سے نمٹنے اور بارڈر مینجمنٹ سمیت کئی معاملات پر اتفاق کیا گیا ۔اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر زخیوال نے اپنے ٹویٹر پیغام میں اس اہم دورے کی سہولت کاری کا کریڈٹ لیتے ہوئے اس دوران ہونے والی ملاقاتوں کو مخلصانہ ،مثبت،احترام پر مبنی ،تعمیری اور حوصلہ افزا قراردیا۔پاک افغان تعلقات کے خزاںگزیدہ چمن پر نیا موسم اسی وقت تادیر سایہ فگن رہ سکتا ہے کہ ان تعلقات میں نقب لگانے والوں کو ہاتھ کی صفائی دکھانے کا موقع نہ ملے ۔ماضی میں جب بھی افغانستان میں امن عمل کی طرف حقیقی پیش رفت کے امکانات پیدا ہوتے رہے ایک ڈرون یا کابل کے ہائی سیکورٹی زون میں ایک خود کش حملہ ساری پیش رفت کو ریورس گئیر لگا دیتا رہا ۔مفاہمت ،امن اور دوستی کی کہانی شروع ہونے سے پہلے ،غصے ،جھنجلاہٹ اور طعنہ ٔ ودشنام میں تبدیل ہوجاتی تھی ۔ صاف دکھائی دیتا تھا کہ بدیسی طریقۂ علاج پر مُصر کوئی غیبی طاقت امن ومفاہمت کی'' لوک کہانی'' کو انجام تک پہنچنے ہی نہیں دینا چاہتی حالانکہ افغانستان اور پاکستان جس ثقافت کے حامل ہیں وہاں طاقت کا استعمال بہادری کی علامت تو سمجھا جاتا ہے مگر جنگ وجدل کے بعد جرگہ بھی اسی خطے کی سماجی اور سیاسی ثقافت کا اہم حصہ ہے ۔اب بھی امریکی وزیر دفاع نے اگر بھارت میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کی حمایت کا گراف کم کرنے کو کہا تو یہ پاک افغان مقامی مفاہمتی عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کی پیش بندی ہے۔

متعلقہ خبریں