درد جمہوریت کی دوا کرے کوئی

درد جمہوریت کی دوا کرے کوئی

محفوظ جان کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ''کھلواڑ کی زد میں دوسرے آئیں تو نون لیگ تالیاں بجاتی ہے لیکن اگر خود پر آن پڑے تو رونے لگتے ہیں پیارے نونی''اصولی طور پر رینجرز کے اہلکاروں کا وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے رویہ نامناسب تھا۔ کم از کم اہلکاروں کو اپنے وزیر کا خیال کرنا چاہئے تھا۔ یہ کہنا کہ ایک منظور شدہ لسٹ کے مطابق ہی احتساب عدالت کے اندر لوگوں کو جانے دیاگیا خود ایک سوال کو جنم دیتا ہے۔ وہ یہ کہ لسٹ بنائی کس نے؟ احتساب عدالت کے بیرونی دروازے پر عزت افزائی کے بعد پروفیسر احسن اقبال بھڑک اٹھے تو یہ ان کا حق تھا۔ آگ لگے ایسی وزارت کو جو وزیر کی عزت کا حلوہ کروادے۔ غصے سے بھرے وزیر داخلہ نے موقع پر ہی ایک پریس کانفرنس پھڑکائی اور کہا' ریاست کے اندر ریاست کس نے قائم کی۔ میں وزیر داخلہ ہوں' توہین کے مرتکب افراد کو سزا نہ ملی تو مستعفی ہو جائوں گا۔ فقیر راحموں پچھلے 24گھنٹے سے احسن اقبال کے استعفیٰ کی خبر کے لئے چینل بدل بدل کر دیکھ رہا ہے مگر استعفیٰ کی کوئی خبر ہے نہ آواز۔ چند برس پیچھے چلیں اس ملک میں وفاق اور تین صوبوں میں پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بر سر اقتدار تھی۔ اس پارٹی کے سرائیکی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک دن قومی اسمبلی میں ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کو جمہور کے حق حکمرانی سے متصادم قرار دیا تو طوفان آگیا۔ جنرل پاشا اور کیانی سے رات کی تاریکی میں ملاقاتیں کرنے والے میدان میں کودے اور گیلانی کے سوال کو کھلی غداری اور نجانے کیا کیا کہتے دکھائی دئیے۔ اس تنازعے کی کھوکھ سے میمو گیٹ سکینڈل نے جنم لیا۔ جناب نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ شکر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کے ریاست در ریاست والے بیان پر پیپلز پارٹی نے حب الوطنی کا چورن بیچنے کی بجائے صاف سیدھے لفظوں میں کہا کہ '' جو کچھ احتساب عدالت کے باہر ہوا وہ درست نہیں ہے''۔ یہاں ایک اور تلخ حقیقت یاد کروا دوں محترمہ بے نظیر بھٹو جب 1988ء میں وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں تو انہیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ کرنے کی اجازت نہ ملی۔ منتخب وزیر اعظم نے اس توہین کو انا کا مسئلہ بنا کر بڑھکیں نہیں ماریں البتہ ان دنوں جنرل حمید گل کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی اسلامی جمہوری اتحاد ( نون لیگ اس میں شامل تھی) کے رہنما بڑھ چڑھ کر یہ فرماتے دکھائی دئیے کہ بے نظیر بھٹو سیکورٹی رسک ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے لئے یہ بھپتی جنرل حمید گل نے ایجاد کی تھی اور اسی کا سہارا لے کر بھٹو مخالف اسلامی جمہوری اتحاد بنوایاگیا تھا۔ان کا دعویٰ تھا کہ بے نظیر بھٹو کا سیاسی راستہ روکنا اسلام اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔ وہ طاقتور وزیر اعظم بن گئیں تو فوج سے اپنے والد کی پھانسی کا انتقام لیں گی اس کے لئے انہیں بھارتی لابی کی حمایت حاصل ہے۔ 

سیاسیات کے طلباء کو یاد ہوگا کہ ہمارے محبوب قائد جمہوریت میاں نواز شریف ان برسوں میں کہا کرتے تھے '' میرا خون کھولنے لگتا ہے بھٹو خاندان کا نام سن کر۔ میرے بس میں ہو تو پیپلز پارٹی کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دوں''۔ وقت بدل گیا ہے آج وہی نواز شریف سیکورٹی رسک قرار پا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جو اعتراضات اور سوالات حرام' غداری' اسلام دشمنی قرار پاتے تھے' پنجابی نون لیگ کی وہی باتیں سول بالادستی' جمہوریت کی آن اور پارلیمان کی اتھارٹی قرار پا رہے ہیں۔ پانامہ کیس میں جناب نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ ہوسکتا ہے کہ غلط ہو لیکن ایک عدالتی فیصلہ ہے اسے چیلنج کرنا اور سپریم کورٹ کی طرف سے معاملہ احتساب عدالت بھجوانے کا فائدہ نون لیگ کو ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک نا اہل شخص کو جو ملزم بھی ہے اور مجرم بھی سرکاری پروٹوکول اور وزراء کے لائو لشکر کے ہمراہ عدالتوں میں پیش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ وفاقی وزراء کیوں بضد ہیں کہ انہیں نواز شریف کے ساتھ ہر جگہ جانے دیا جائے؟ کیا یہ ساری سہولتیں انہوں نے اپنے پچھلے دو ادوار میں بے نظیر بھٹو کو دی تھیں؟ سابق خاتون وزیر اعظم اپنے معصوم بچوں کی انگلیاں پکڑے عدالتوں میں دھکے کھاتی رہیں تب جمہوریت کا چورن بیچنے والے کہاں تھے؟۔
اچھا کیا واقعی اس ملک میں جمہوریت ہے؟ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کو اس کی پارٹی کا حق ملکیت دلوانے کے لئے انتخابی قوانین اور پارٹی دستور میں ترامیم کے مراحل چند گھنٹوں میں طے ہو جاتے ہیں؟
یہاں ایک اور بات عرض کروں جمہوریت کے تازہ سوداگروں میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ کسی دن یہ سوال اٹھائیں کہ ایف سی بلوچستان کے جن افسروں کے خلاف کرپشن اور سمگلنگ کے الزام میں کارروائی ہوئی تھی ان سے وصول شدہ رقم کس خزانے میں جمع ہوئی۔ لاریب اداروں کے درمیان اختیارات اور توازن کی جو حدود آئین نے طے کی ہیں ان کا سب کو احترام کرنا چاہئے لیکن کوئی یہ بھی تو بتائے کہ رینجرز کے جو اقدامات کراچی میں حلال ہیں اسلام آباد میں حرام کیسے ہوگئے۔ کیا خود نون لیگ نے دو ریاستیں قائم نہیں کر رکھیں۔ پنجاب کے لئے اور قانون ہے اور سندھ کے لئے دوسرا؟ معاف کیجئے گا طبقاتی نظام کے مجاوروں کے کھیل بہت ہوئے۔ کسی غیر آئینی اقدام کی تائید نہیں کی جاسکتی لیکن کیا جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کو آئینی تحفظ دے دیا جائے؟ ہمیں ٹھنڈے دل سے اس سوال پر غور کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں