مشرقیات

مشرقیات

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خانقاہ میں ہزاروں آدمیوں کا ہجوم ہوتا تھا۔حضرت شیخ سے بادشاہ سنجر بھی بیعت تھا۔ سنجر خراسان کا ایک بہت بڑا ملک تھا' اس ملک کا ایک صوبہ تھا جس کو نیمروز کہتے تھے۔ بادشاہ سنجر کی حکومت نیمروز میں بھی تھی۔
چونکہ حضرت شیخ کے ہاں مہمانداری ہزاروں کی تھی۔ بادشاہ نے کہا کہ شیخ کے پاس نہ جائیداد نہ دولت' کس طرح مہمانوں کی مدارت کرتے ہوں گے۔ اس نے نیمروز کا پورا صوبہ حضرت شیخ کے نام ہبہ کیا اور لکھ کر بھیجا کہ یہ پورا صوبہ میںآپ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ اس کی آمدنی لاکھوں روپے سال کی ہے' مہمانداری میں سہولت رہے گی۔ آ پ کے ہاں دشواری ہوتی ہوگی' اس واسطے یہ پورا صوبہ اور جائیداد قبول فرمالیجئے۔ حضرت شیخ نے اسی کاغذ پر بادشاہ سنجر کے نام جواب لکھ کر بھیجا اور صرف دو شعر کا قطعہ لکھ دیا۔ فرمایا:
چوں چتر سنجری رخ بختم سیاہ باد
دردل بودا گر ہوس ملک سنجرم
حاصل اس کا یہ تھا کہ بادشاہ سنجر کا جو چتر ہے ایک تو بادشاہ کے سر پر تاج ہوتا تھا اور اس کے پیچھے ایک سیاہ قسم کا چتر لگاتے تھے تاکہ اس کی سیاہی میں بادشاہ کا سفید و سرخ چہرہ نظر آئے۔ وہ گویا عظمت کا نشان سمجھا جاتا تھا کہ سر پر تاج ہو' اس کے پیچھے ایک چتر ہو' اس میں سونے کا کام ہو' وہ چتر سیا ہ رنگ کا ہوتا تھا تو حضرت شیخ نے لکھا کہ بادشاہ سنجر کا جو سیاہ چتر ہے' میرے نصیب پر بھی اسی طرح سیاہی آجائے جیسے بادشاہ سنجر کی چتر کی سیاہی ہے۔ اگر میرے دل میںملک سنجر کی ذرا بھی ہوس پیدا ہو تو میںبدنصیب اور سیاہ بخت بن جائوں' میرے دل میں کوئی ہوس نہیں' ہوس کیوں آئے؟ اگلے شعر میںاس کا جواب دیا اور وجہ بیان کی۔ فرمایا:
زآنگہ کہ یافتم خبراز ملک نیم شب
مومن ملک نیم روز رابیک جونمی خرم
جس دن سے مجھے نیم شب کاملک ہاتھ لگا ہے۔ اس دن سے نیمروز کے صوبے کی میرے دل میں کوئی وقعت باقی نہیں ہے۔ نیم شب کاملک کیا ہے؟ یعنی وہ جو میں رات کو اٹھ کر دو چھوٹی چھوٹی رکعات پڑھتاہوں' یہ سلطنت جو مجھے ملی ہے اس کے مقابلے نیمروز کا ملک میرے نزدیک جو کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتا تو مجھے نیم شب کا ملک حاصل ہے۔ نیمروز کے ملک کی کیا ضرورت ہے۔ آدھی رات کی سلطنت مجھے حاصل ہے تو آدھے دن کی سلطنت مجھے درکار نہیں۔ آخرت کے طالب ساری دنیا پر لات مار دیتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے پورے صوبے پر لات مار دی اور ٹھکرا دیا۔ فرمایا: اگر میں دل میںذرا بھی ہوس لائوں تو بد نصیب بن جائوں۔ مجھے تیرے ملک سنجر کی ضرورت نہیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دوسرا ملک ان کے ہاتھ میں ہے' جو اس سے بڑا ہے۔ تو جب وہ ہاتھ آجائے تو چھوٹے ملک کی کیا ضرورت رہی۔ (بزرگان دین کے ایمان افروز قصے)

متعلقہ خبریں