اشتعال انگیزی کی بجائے مذاکرات بہتر راستہ ہے

اشتعال انگیزی کی بجائے مذاکرات بہتر راستہ ہے


ایک ہفتہ میں دوسری بار لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے بلا اشتعال کارروائی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان دوسری جھڑپ ہوئی ۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں اور کئی بنکر بھی پاک فوج نے تباہ کیے ہیں۔ اس سے پہلے بھارتی فوج کی کارروائی سے دو پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے۔ بھارت کی طرف سے بلا اشتعال حملہ آوری اور پاک فوج کی طرف سے بھرپور جوابی کارروائی کا سلسلہ یوں تو ایک عرصے سے جاری ہے۔ تاہم گزشتہ چند ماہ سے اس کے تواتر میں اضافہ ہو گیا ہے جو بھارتی حکمرانوں کے ذہنی افلاس کی علامت ہے۔ گزشتہ ستمبر اری میں بھارت کے آرمی بیس پرفائرنگ کے بعد بھارت نے ایک طرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی سفارتی مہم میں شدت پیدا کی ہے اور دوسرے اس مہم کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیز جنگی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا مقصد دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا اور دنیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ بھارتی استبداد کے خلاف کشمیریوں کی گزشتہ اگست سے جاری نئی انتفادہ پاکستان کی بھڑکائی ہوئی ہے جسے وہ دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں بھارت لائن آف کنٹرول پر آئے دن حملے کرتا رہتا ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان کے درانداز مقبوضہ کشمیر جاتے ہیں۔ حالانکہ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے میڈیا کے دور میں عوامی تحریک کو دراندازوں کی مرہون منت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بھارت نے عالمی میڈیا کے کشمیر میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ آج کے دور میں کشمیر میں بھارت کی استبدادی حکومت جو مظالم کر رہی ہے انہیں اقوام عالم کی نظروں سے اوجھل نہیں رکھا جا سکتا۔ ستر سال سے مسئلہ کشمیر حل طلب ہے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے ۔ اب تو بھارت کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس دیرینہ تنازع کے حل کی طرف بڑھنا ہی دانشمندانہ رویہ ہے۔ لیکن بھارتی قیادت نے آج بھی اور ماضی میں بھی اپنے تشخص کو پاکستان کی مخالفت کی بنا پر قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ وہ بھارت کے عوام کو ان کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد پر ایک قومی تشخص دریافت کرنے کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ دشمنی اور کشیدگی کی فضا میں زندگی گزارنے کی نسبت ترقی و خوشحالی کی پرامن جدوجہد میں زندگی گزارنا یقینا ایک بہتر انتخاب ہے۔ اس لیے بھارت کے قائدین کو چاہیے کہ وہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے اپنے ہمسائیوں سے معاملات طے کرنے کی طرف آئے۔ دنیا بدل رہی ہے ۔ دنیا بھر کے عوام ترقی و خوشحالی کے ثمرات میں اپنے حصے اور اپنے کردار میں اضافہ چاہتے ہیں۔ کشیدگی اور دشمنی کی فضا عوام کی محرومیوں میں ہی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جو قیادتیں اپنے عوام کو ترقی و خوشحالی کے سفر میں ان کے کردار اور ترقی اور خوشحالی کے ثمرات میں حصہ سے محروم کریں گی وہ اپنے معاشروں کے اتحاد کو کمزور کریں گی۔ پاکستان دنیا میں ترقی و خوشحالی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس کے ثمرات بھی اس کو جلدی حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ بھارت کے پاکستان کو تنہا کرنے کے منفی ہتھکنڈے ثمرآور نہیں ہو سکتے۔ اس لیے بھارت کو چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی ترک کرکے سفارت کی میز پر باہمی معاملات طے کرے۔

متعلقہ خبریں