کابل میں پرتشدد واقعات کی نئی لہر

کابل میں پرتشدد واقعات کی نئی لہر

کابل میں گزشتہ بدھ کے ٹرک بم دھماکے کے بعد جس میں سو کے قریب لوگ جان بحق ہوئے پر تشدد واقعات کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ ٹرک بم دھماکے کی خود کش واردات کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول نہیں کی تھی جس کی وجہ سے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یہ بہیمانہ واردات کس نے کی۔ اس ٹرک بم دھماکے کی بنا پر کابل میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں صدر اشرف غنی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ چونکہ ملک مین امن وامان پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اس لیے مستعفی ہو جائیں۔ اس احتجاجی ریلی میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی تاجک جماعت اسلامی کے ارکان پیش پیش تھے۔ اس ریلی کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے جمعے کے روز سپیکر محمد عالم ایزدیار کا بیٹا بھی جاں بحق ہو ا تھا۔ جس کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے دوران متعدد بم دھماکوں میں 9افراد زخمی ہو گئے۔ اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بال بال بچ گئے۔ نماز جنازہ کے دوران بم دھماکوں کے اس سلسلہ کی ذمہ داری بھی تادم تحریر کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ ان حالیہ بم دھماکوں میں افغانستان کی صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی حکومت کی اتحادی حکومت کے قائم رہنے کے بارے میں سوالیہ نشان نمایاں کردیا ہے۔ ٹرک بم دھماکے کے بعد صدر اشرف غنی کے خلاف جو ریلی نکالی گئی تھی اس میں بھی زیادہ تر لوگ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی پارٹی کے تھے۔ اس طرح افغانستان کی صورت حال کے بارے میں کنفیوژن گہر اہو گیا ہے۔یہ سوال بھی ابھرتا ہوا نظر آتا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں افغانستان پر اشرف غنی عبداللہ عبداللہ اتحاد کی حکومت قائم رہے گی یا اس میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔

متعلقہ خبریں