تنخواہیں اور مہنگائی

تنخواہیں اور مہنگائی


سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات و محاصلات کی یہ سفارش کہ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور پنشن میں دس کی بجائے بیس فیصد اضافہ کیا جائے ملک کے چند لاکھ سرکاری ملازمین کے لیے ایک طفل تسلی سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوگی۔ قومی اسمبلی میں جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اگر یہ بجٹ منظور ہو گیا اور یقینا ہو جائے گا تو سینیٹ میں بھی رک نہیں جائے گا۔ تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین خواہ وہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوں' خواہ سینیٹ میں کیوں اس بات کے قائل ہیں کہ ملک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے نچلے اور درمیانے طبقے کی مالی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ نہ جانے انہیں کیوں یہ نظر نہیں آتا کہ ہر سال جو سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تعداد تو چند لاکھ ہو گی جن کی تنخواہوں میں اضافے کو بہانہ بنا کر تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ لیکن بائیس کروڑ کی آبادی میں غیر سرکاری اداروں کے ملازمین کی تعداد سرکاری ملازمین کی تعداد کہیں زیادہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھیں۔ پھر متوسط اور غریب طبقات میں خود روزگار' محنت کش لوگ بھی آتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو تو چلئے کچھ ریلیف مل جاتا لیکن پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کے لیے تو مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے منتخب اداروں کے ارکان کی مامتاجاگتی ہے تو سرکاری ملازمین کے حق میں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین اور خودروزگار اور محنت کش بھی تو آخر پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کی تعداد سرکاری ملازمین سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے بارے میں کو ن سوچے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک میں تقسیم دولت کا کوئی نظام ہے یا نہیں۔ بڑے طمطراق سے کم ازکم تنخواہ کااعلان کر دیا جاتا ہے ۔ اس حکم کااطلاق صرف سرکاری بندوں میں ہوتا ہے۔ پتہ نہیں ارکان اسمبلی اور ارکان سینیٹ حکومت سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ کم ازکم تنخواہ سے کم اجرت دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کون سا قانون ہے۔ گھریلو ملازمین کوکتنی تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ معلوم کرنا کون سے سرکاری عمال کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں