نہال ہاشمی اور مسلم لیگ ن

نہال ہاشمی اور مسلم لیگ ن

سابق سینیٹر نہال ہاشمی ایک پرجوش تقریر کرنے کی وجہ سے زیرعتاب آ گئے جس میں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں کا احتساب کرنے والوں کو دھمکی دی تھی کہ ان کے بچوں پر بھی پاکستان کی زمین تنگ کر دی جائے گی ۔ جب انہوں نے یہ تقریر کی وہ حکمران مسلم لیگ ن کے سندھ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ اس عہدے کی لحاظ سے ان کی اہمیت سرکاری وزیروں سے کہیں زیادہ تھی کیونکہ اصولی طور پر وزیروں کا انتخاب پارٹی کی قیادت کرتی ہے ۔ ان کے بارے میں ایسے بیان کہ جو کچھ انہوں نے کہا مناسب نہیں تھا یا یہ ان کی ذاتی رائے تھی ' اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض وزیروں نے جاری کیے تاہم مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کی طرف سے ان کے دفاع میں یا ان کے مخالف شاید ہی کوئی بیان آیا ہو۔ البتہ وزیر اعظم نواز شریف نے نہال ہاشمی کو جو شوکاز نوٹس جاری کیا اس کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ کی حیثیت سے جاری کیا۔ مسلم لیگ ن ایک بڑی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے مرکزی اور صوبائی عہدیدار ہوتے ہیں۔ اس کی مجلس عاملہ بھی ہے لیکن ابھی تک ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ مسلم لیگ ن بطور سیاسی پارٹی کے کسی فورم میں ان کا مقدمہ پیش ہوا ہو۔ مریم اورنگزیب وزیر مملکت ہیں اسی طرح طارق فضل چودھری بھی وزیر مملکت ہیں لیکن نہال ہاشمی کا پارٹی عہدہ تو ان سے زیادہ بڑا اور ذمہ دار سمجھا جانا چاہیے۔ یہ بات بڑی نا مناسب لگتی ہے کہ پارٹی کے وزراء اپنی پارٹی کے سینئر عہدیدار کے طرزعمل کوبرسرعام زیرِ بحث لائیں۔ اصولاً وہ صرف پارٹی کے سربراہ کے فیصلے بیان کر سکتے ہیں۔ اب سنا ہے کہ حکومت پاکستان کے اٹارنی جنرل نے سندھ حکومت کو خط لکھا ہے کہ نہال ہاشمی کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ نہال ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ یا تو اس تھانے کو کرنا زیب دیتا ہے جہاں ہاشمی نے زیر بحث تقریر کی یا پھر یہ فیصلہ مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ یا مرکزی قیادت کو کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں